Skip to content

اموی شام کا صلیبی لشکر اور سماج(1)

تحریر: سید اسد عباس

بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز  بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔

معروف مستشرق رابرٹ جی ہائیلینڈ کی تحقیق Seeing Islam as others saw it جسے ڈارون پریس نے 1997ء میں شائع کیا، میں اموی شام کے حوالے سے بہت سے وقائع کا تذکرہ موجود ہے، جو اسی دور کے شامی، یونانی، سریانی، آرمینیائی، لاطینی، یہودی اور زرتشتی مورخین نے قلمبند کیے ہیں۔ رابرٹ جی ہائیلینڈ کے مطابق ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے شام کے اہم اہل علم، جن کی تصانیف آج بھی دستیاب ہیں، میں سیویرس سیبوخت ساتویں صدی عیسوی کا ماہر فلکیات، یعقوب آف ایڈیسا، سوفرونیئس، یوحنا دمشقی، تھیوڈوٹس آف امیدا قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ رابرٹ نے اپنی تحقیق کی تکمیل میں یونانی، سریانی، قبطی، آرمینیائی، لاطینی، یہودی، زرتشتی اور دیگر لکھاریوں کے علمی آثار سے بھی استفادہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان وقائع نگاروں میں سے اکثر ایسے ہیں، جنھوں نے شام میں اسلام کی آمد اور اس کے پھیلاؤ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان وقائع نگاروں نے تاریخ کو قلمبند کرنے کے لیے شامی حکومت کی سرکاری دستاویزات اور داخلی ذرائع سے استفادہ کیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رسول اکرم ؐ کی بعثت سے قبل عربی بول چال اور شاعری کی زبان تھی، جس میں علمی آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس زبان کی باقاعدہ گرائمر تدوین نہیں ہوئی تھی۔ عربی کی پہلی باقاعدہ کتاب قرآن کریم ہے۔ اس زبان میں کتب لکھنے، دوسری زبانوں سے اس میں تراجم کرنے، اس کے قواعد کی تدوین اور یہاں تک کہ عربی میں کرنسی جاری ہونے اور اس کے سرکاری زبان کا درجہ پانے کا عمل بنی عباس کے دور میں مکمل ہوا۔ تب تک عرب سرداروں، شام اور یمن جانے والے تاجروں اور پڑھے لکھے افراد کے لیے کسی حد تک یونانی، رومی یا سریانی زبانیں جاننا ضروری ہوتا تھا۔ طب، کتابت اور ریاضی سے مربوط کام وہی لوگ انجام دیتے تھے، جو یونانی یا رومی زبان جانتے تھے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ پہلوی زبان سے بھی واقفیت رکھتے ہوں، جو ایران میں رائج تھی۔

شام جو کہ رومی سلطنت کا حصہ تھا، اس میں ایک لمبے عرصے تک یونانی اور سریانی زبانیں بولی جاتی رہیں۔ اس حوالے سے اردن کے شمال مغربی شہر ام قیس کے القدرہ کھنڈرات سے یونانی زبان میں لکھا ہوا کتبہ اہم ہے، جو 662ء میں پتھر پر کندہ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی آمد اور فتوحات کے باوجود ان علاقوں میں یونانی اور سریانی زبان رائج تھی۔ اس کتبہ پر جو تحریر کندہ ہے، اس کا مفہوم کچھ یوں ہے: ترجمہ: "(یونانی صلیب کا نشان) خدا کے بندے امیرالمؤمنین معاویہ کے عہد میں کونسلر عبداللہ بن عاصم نے یہاں کے عوام کے لیے قدیم گرم حمام کی حفاظت اور تعمیرِ نو کا کام کیا، تاکہ بیماروں کے لیے شفاء کا باعث ہو۔ یہ کام شہر کی تأسیس کے 726 سال بعد، 42 سنہ عربی میں، والئ شہر یوحنا کی زیرِ نگرانی انجام پایا۔”

image

بسم اللہ کی جگہ صلیب کا نشان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شام کے علاقے اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے، تاہم وہاں کا اہل علم طبقہ اور اشرافیہ اب بھی مسیحی تھے۔ شام کا اہم ترین مسیحی عرب قبیلہ بنو کلب جو مسیحی عرب قبائلی اتحاد کا بھی سردار تھا، فتح شام کے وقت غیر جانبدار رہا، تاہم جلد اس قبیلے کی امیر شام اور خلیفہ سوئم سے رشتہ داری ہوگئی، جس کے سبب یہ قیبلہ اور ان کا اتحاد بنی امیہ کی حکومت کا اہم عسکری و تزویراتی اتحادی بن گیا۔ اس قبیلے کے سردار نے بنی امیہ کی حکومت سے صلیبیوں کے لیے بہت سی مراعات بھی لیں، جس کے بدلے میں اس قبائلی اتحاد نے اپنی فوجی خدمات حکومت کو پیش کیں، جس کا تذکرہ آئندہ آئے گا۔ رابرٹ جی ہائیلینڈ اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی کا شامی مورخ تھیوڈوٹس آف آرمیڈا مسلم حکمران عبد الملک بن مروان (685ء تا 705ء) کے زیر نگیں شام کے بارے لکھتا ہے:

"عیسائی اب بھی عربوں کی زمینوں پر کاتب، رہنماء اور گورنر تھے۔” "ساموساطہ کی سرزمیں میں ایلوسٹریہ نامی ایک گورنر (آرکون) تھا۔ اس شخص کا تعلق حران سے تھا۔ اس علاقے کا ٹیکس وصول کنندہ (محصل) اس کے ملازمین میں سے ایک شخص تھا، جس کا نام سرجیئس (Sergius) تھا۔ ہمیں میافارقین (Mayferqat) کے ایک گورنر اسٹارٹی (Estarti) کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، جس نے تھیوڈوٹس (Theodotus) سے ملاقات کی ناکام کوشش کی۔ تور عبدین (Tur ‘Abdin) کا ایک گورنر جسے "640ء میں نصیبین (Nisibis) پر عربوں کی جنگ میں تیر کا زخم لگا تھا” اور جس نے تھیوڈوٹس کی تقدیس و پاکیزگی کی گواہی دی اور درعا (Dara) کا ایک اور گورنر ایلوسٹریہ یہ لوگ غالباً Melkitesشاہی عیسائی تھے۔”

آٹھویں صدی عیسوی کا معروف یونانی وقائع نگار تھیوفینس دی کنفیسر اپنی کتاب کے (صفحات 430-31) پر لکھتا ہے: 758ء میں عربوں نے عیسائیوں کو سرکاری دفتری نظام (دیوان/دیوانِ انشا) سے نکالنے کی کوشش کی، لیکن وہ اعداد و شمار لکھنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے دوبارہ انہی فرائض کو عیسائیوں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوگئے۔ القدرہ کھنڈرات سے ملنے والے کتبے میں مذکور ام قیس کا والی یوحنا دمشقی شامی حکومت کے اہم رکن سر جون بن منصور کا فرزند ہے، یہ باپ بیٹا کبھی مسلمان نہیں ہوئے۔ مسیحی دنیا میں یوحنا دمشقی کو Jhon of Damascus کے نام سے جانا جاتا ہے، جو یزید بن معاویہ کے ہم عصر افراد میں سے تھا۔ یوحنا دمشقی بہت بڑا مسیحی عالم تھا، جس کے لکھے ہوئے نغمے آج بھی کلیساؤں میں گنگنائے جاتے ہیں۔ سر جون بازنطینی دربار شام کے اہم کارندوں اور امیر شام کے مشیروں میں سے تھا اور شام کی فتح کے بعد سے مروان بن ملک کے زمانے تک دربار شام سے متمسک رہا۔

مستشرقین کے مطابق یوحنا دمشقی اسلام کا بڑا ناقد تھا۔ اس نے اپنی کتاب Concerning Heresy” بدعتوں کا بیان” میں لکھا کہ اسلام اسماعیلیوں کی بدعت ہے۔یوحنا کا دعویٰ تھا کہ مسلمان پہلے افروڈائٹ (Aphrodite) کے پوجنے والے تھے، جو محمد کے "ظاہری تقویٰ کی نمائش” کی وجہ سے ان کے پیروکار بن گئے۔ دمشقی نے قرآن کریم پر بھی تنقید کی۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں بیت المقدس کے چرچ کا پادری بن گیا۔ یوحنا (John) کا دعویٰ ہے کہ اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ وہ کون سے گواہ ہیں، جو اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ محمد کو قرآن خدا کی طرف سے ملا۔۔۔۔ کیونکہ یوحنا کے مطابق، موسیٰ نے بنی اسرائیل کی موجودگی میں خدا سے تورات حاصل کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسلامی قانون یہ لازم قرار دیتا ہے کہ ایک مسلمان صرف گواہوں کی موجودگی میں ہی نکاح اور تجارت کرسکتا ہے، لہذا قرآن کے نزول کی بھی گواہی ہونی چاہیئے۔۔۔۔

اس کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ بائبل کے کن انبیاء اور آیات نے محمد کی آمد کی پیشگوئی کی تھی۔۔۔۔ اس کے رسول اللہ ؐ پر بعض اعتراضات قابل بیان نہیں ہیں۔ یوحنا دمشقی فلوطینی فلسفے کا معتقد تھا، اس نے اس عنوان سے بھی کتب تحریر کیں۔ مسلم و مسیحی مورخین کے مطابق رسول اکرم ؐ کی رحلت 632ء تک شام کا بڑا مسیحی قبیلہ "بنی کلب” جو کہ بازنطینی حکومت کا اہم پشت پناہ تھا، اپنے دین پر قائم تھا۔ مستشرقین کے مطابق تو اس قبیلے اور دیگر اتحادی قبائل نے بنی عباس کے جبر تک اپنا دین نہیں بدلا، جس کا تذکرہ بعد کی سطور میں درج ہے۔ بنی کلب کے سردار بحدل بن عنیف کلبی کی دختر میسون بنت بحدل سے امیر شام کے عقد کے سبب یہ قبیلہ شامی حکومت کا اہم اتحادی اور پشت پناہ بن گیا۔ بحدل بن عنیف 657ء میں مرا۔ مستشرقین کے مطابق وہ مسیحی ہی مرا۔ مستشرقین کے مطابق جنگ صفین میں بحدل کے بیٹے اور پوتے شامی فوج کے سب سے بڑے حصے، جند دمشق کی قیادت کر رہے تھے، جو صلیبی عرب قبائل کے اتحادی فوجیوں پر مشتمل تھا۔ مستشرقین کے علاوہ تیسری صدی ہجری کے مسلمان مورخ نصر بن مزاحم المنقری نے "وقعۃ صفین” میں ان قبائل کی صفین میں شرکت کا حوالہ دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔