اموی شام کا صلیبی لشکر اور سماج(1)
بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔

