سید ثاقب اکبر

مسئلہ کشمیر اور چین کا کردار

برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اہم ترین مسائل میں سے شمار ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بنیادی فریق خود کشمیری ہیں۔ تاہم چین بھی کئی پہلوئوں سے اس مسئلے سے وابستگی رکھتا ہے بلکہ اگر اسے بھی اس مسئلے کا ایک فریق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سی پیک کے معاہدے کے بعد اس مسئلے سے چین کی دلچسپی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس مضمون میں مسئلہ کشمیر سے متعلق چین کے نقطہ نظر کا بھی ذکر کریں گے۔ نیز کشمیر کے بارے میں مختلف حوالوں سے چین کے موقف کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔ (more…)

سید اسد عباس

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(1)

پاکستان میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم 5 فروری یوم کشمیر کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا اعلان جماعت اسلامی کے سابق امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سابق صدر قاضی حسین احمد مرحوم نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس اعلان کے بعد پنجاب کے اس وقت کے  وزیراعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اس اعلان کی تائید کی۔ پہلا یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 1989ء کو منایا گیا جبکہ 1990ء میں تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اور کشمیریوں نے یوم یکجہتی منایا۔ اب گذشتہ 31 برسوں سے پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی و کشمیری شہری 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے مناتے ہیں۔  (more…)

سید ثاقب اکبر

طالبان اور ایران کے تعلقات کا مستقبل

طالبان کا ایک سیاسی وفد آج (26 جنوری2021ء کو) تہران پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں۔ وفد ایران میں وزیر خارجہ جواد ظریف اور امور افغانستان میں ایران کے خصوصی نمائندہ سے ملاقات کرے گا۔ ملاقات کے ایجنڈے میں افغانستان میں قیام امن اور دیگر باہمی مسائل اور موضوعات شامل ہیں۔ طالبان کے وفد کی اس وقت تہران میں موجودگی اس پہلو سے اہم ہے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ صدر ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے بارے میں نظرثانی کا عندیہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں وائٹ ہائوس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے سکیورٹی کے مشیر جک سالیوان نے اپنے افغان ہم منصب سے فروری 2020ء میں طالبان اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس کا نئے سرے سے جائزہ لے گی۔ (more…)

سید اسد عباس

سنگینوں کے سائے میں امریکی جمہوریت کا سفر

کچھ ہی لمحے قبل امریکہ کے نومنتخب صدر جوزف آر بائیڈن جونیئر نے امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھا لیا۔ ان کے ہمراہ 55 برس کی کمیلا ہیرس نے بھی پہلی امریکی خاتون نائب صدر کا حلف اٹھایا جو کہ افریقن ایشین پس منظر کی حامل امریکی شہری ہیں۔ کمیلا ہیرس کی والدہ کا تعلق ہندوستان سے ہے، جسے ہندوستانی سماح میں امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں امریکا کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ  اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اب بھی اس انتخاب کو قبول نہیں کیا ہے اور اپنے عدم اطمینان کا اظہار انھوں نے اس اہم تقریب میں شرکت نہ کرکے کیا۔ امریکی تاریخ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

واشنگٹن میں خوف کے سائے

20 جنوری 2021ء جوں جوں قریب آرہی ہے، امریکہ بھر میں بالعموم اور واشنگٹن ڈی سی میں بالخصوص خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بھوتوں نے ڈیرہ ڈال لیا ہو۔ پینٹا گون نے نیشنل گارڈز کو نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری والے دن یعنی 20 جنوری کو واشنگٹن میں پچیس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ حلف برداری کی تقریب والے دن واشنگٹن میں مکمل تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ (more…)

سید اسد عباس

امریکی ریاست کا اگلا سال اور عالمی سیاست

امریکہ کی 231 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی صدر کا دوسری بار مواخذہ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا صدر جو اپنے دور صدارت کے اقدامات پر پھولا نہیں سماتا تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے دوبارہ اس عہدے کے لیے منتخب کیا جائے گا، اس کا یہ انجام انتہائی شرمناک ہے۔ صدارت تو ایک جانب دنیا کی سپر طاقت کے صدر کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو بھی خاموش کر دیا گیا ہے، جو امریکی معاشرے کے لیے بھی سبکی کی علامت ہے۔ صدر نہ رہنے کے بعد تو میرے خیال میں ٹرمپ پر مواخذے کا جواز نہیں رہتا بلکہ مقدمہ چلایا جانا چاہیئے، تاہم شاید ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کو عبرت کا ایک نشان بنایا جائے۔ عین ممکن ہے کہ ٹرمپ پر مواخذے کے بعد فوجداری مقدمہ بھی چلایا جائے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے؟

گذشتہ روز (13جنوری2021ء) جناب مولانا اسرار مدنی کی ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں انھوں نے وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر کے حوالے سے بات کی ہے۔ مولانا خود دارالعلوم حقانیہ کے افاضل میں سے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر جہاں اپنی معلومات کے مطابق بات کی ہے اور کہا ہے کہ وفاق کے آئندہ متوقع صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے، وہاں انھوں نے اس امر کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اس صورت میں ممکنہ طور پر کیا منفی اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ہم ذیل میں پہلے برادر محترم مولانا اسرار مدنی کا نقطہ نظر پیش کریں گے اور پھر اس موضوع پر اپنا تجزیہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

امریکہ میں جمہوریت کا مستقبل

بدھ کو ہونیوالے واقعات میں امریکہ کے مستقبل کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، انکی بازگشت امریکہ کے علاوہ باقی دنیا میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے رویے کی مذمت برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک کے راہنمائوں نے بھی کی ہے اور اسے امریکی جمہوریت کیلئے افسوسناک قرار دیا ہے۔ اگرچہ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے آخر کار اپنا کردار ادا کیا ہے، تاہم پینٹاگون کو اب بھی تشویش لاحق ہے کہ کہیں 20 جنوری کو صدر ٹرمپ کے حامی پھر سے کوئی ہنگامہ برپا نہ کر دیں