سید اسد عباس

ہم سب جانتے ہیں کہ قاسم سلیمانی ایک ایرانی جرنیل تھے، انھوں نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز عراق اور ایران کے مابین لڑی گئی جنگ میں ایک رضاکار کی حیثیت سے کیا۔ قاسم اس جنگ کے آغاز کے وقت تعمیرات کے شعبے سے منسلک تھے اور کرمان کے محکمہ آب رسانی میں بطور ٹھیکیدار کام کر رہے تھے۔ جب جنگ کا آغاز ہوا تو قاسم سلیمانی نے اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے سپاہ افتخار نامی تنظیم کی رکنیت اختیار کی۔ اس جنگ کے دوران میں ہی سردار سلیمانی نے کرمان کے عسکری دستوں پر مشتمل ایک بٹالین تشکیل دی، جو بعد میں 41 ثاراللہ بریگیڈ میں بدل گئی۔ وہ اس لشکر کی تشکیل 1982ء سے لیکر 1997ء تک اس بریگیڈ کے سربراہ رہے۔



 
سید اسد عباس

قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق خوجہ برادری سے تھا جو خوجوں کی اپنی روایات کے مطابق ہندو الاصل تھے۔ ہندو ذات لوہانہ، لوہرانہ یا لوہارنہ خوجہ برادری کی اصل ہے ۔ لوہانوں کی روایات کے مطابق وہ رام کے بیٹے لووا کی نسل سے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسویں میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی آمد کے بعد اس قوم کے قبائل ملتان سے گجرات سمیت برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ لوہانوں میں گجراتی لوہانے، پشتون لوہانے، بلوچ لوہانے ، سندھی لوہانے، کیچی لوہانے قابل ذکر ہیں۔ مختلف علاقوں میں پھیلنے کی وجہ سے اس ذات نے ہر علاقے کی زبان اور رسوم و روایات کو اپنایا تاہم کچھ رسوم و روایات ان کے مابین مشترک بھی ہیں۔ ہندو لوہانے کرشنا ، وشنو، سیتا، سری ناتھ جی، روی رندل ماتاجی، امبیکا، جلارم باپا، یوگی جی مہاراج کی پوجا کرتے ہیں ان کے خاندانی بتوں میں سے  ویر دادا یشراج، ہرکور با، سندھی شری سکوتر ماتا، دریا لال قابل ذکر ہیں۔ یہ ذات سورج کی بھی پوجا کرتی ہے ۔ 



 
سید اسد عباس

بھارت میں کچھ برسوں سے ایک نئی اصطلاح زبان زد عام ہے۔ لو جہاد یا محبت جہاد یا جہاد عشق۔ اس اصطلاح کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاء پسندوں نے ایجاد کیا ہے۔ انتہاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد بھارت میں ہندو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ 966 ملین ہندو اور صرف 172 ملین مسلمانوں کے ملک میں حکومت کی جانب سے یہ جواز انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر کل ہی سب مسلمان مرد یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ہندو خواتین سے شادی کریں گے اور انھیں مسلمان بنائیں گے، تب بھی بھارت کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آسکتی۔ بہرحال کسی بھی جنونی ہندو جماعت کی حکومت میں ایسی قبیح اور غیر دانشمندانہ حرکات بلکہ اس سے بھی بدتر اقدامات بعید از قیاس نہیں ہیں۔

سوموار, 07 دسمبر 2020 11:57

اداریہ پیام دسمبر



کسی مقصد کے لیے جینا اور اس پر ہر چیز کو قربان کر دینا، انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے، ہم اپنے اردگرد بھی بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہوں گے، جنھوں نے اپنی زندگیوں کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے وقف کیا اور اسی کے تحت اپنے جیون بتا گئے۔ تقریباً سبھی انسان اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی صلاحیات کو وقف کر دیتے ہیں، ان میں سے بھی ماں زیادہ اس صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ بعض افراد کی سوچ اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے انسان کے لیے ایسا کرتی ہے۔ بعض لوگ معاشرے کے ایک طبقے کی فلاح و بہبود کو اپنا ہم و غم بنا لیتے ہیں۔ مدر ٹریسا، عبد الستار ایدھی اور سینکڑوں ان جیسے انسان جو انسانیت کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے لوگ انسانوں کی نظر میں قابل احترام ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی معاشرے میں تاثیر جس قدر زیادہ ہو اور اس کے مقصد سے جس قدر انسان متاثر ہوں، اسی قدر اس کے احترام کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بدیہی ہے کہ محنت، لگن، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہیں۔



 
سید اسد عباس

ڈاکٹر کلب صادق 22 جون 1939ء میں لکھنؤ کے معروف اور علمی خانوادے، خاندان اجتہاد میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ اس نسل میں کئی ایک نوابغ اور علمی شخصیات پیدا ہوئیں۔ یہ خاندان سبزوار سے ہندوستان کے علاقے جائس میں آکر آباد ہوا۔ اسی خاندان کے بزرگ سید نصیرالدین کے سبب علاقے کا نام نصیر آباد پڑ گیا۔ کتاب مشجر المبارکہ کے مطابق سید نصیر الدین کا شجرہ: سید نصیر الدین بن سید علیم الدین بن علم الدین بن شرف الدین بن نجم الدین سبزواری بن علی بن ابو علی بن ابو یعلی محمد الدقاق بن ابو القاسم طاہر ثانی بن محمد الدانقی بن ابو القاسم طاہر بن امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام بن امام محمد باقر علیہ السلام بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن امام علی علیہ السلام۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے