تحریر: پولندہ نل

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ایک مشکل محلے میں پھنسا ہوا ہے لیکن حال ہی میں عرب دنیا کے کچھ ممالک سے اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔اکتوبر کے آخری دنوں میں اچانک ہی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمان کے سلطان سے ملنے پہنچ گئے۔

Published in القدس
ہفته, 16 مئی 2020 14:41

عبد العزیز رنتیسی شہید



مرکز اطلاعات فلسطین

شیخ احمد یاسین شہید کے دست راست اور اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے دوسرے اہم راہنماء ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی شہید مقبوضہ شہر عسقلان میں 23 اکتوبر 1947ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے- ان کا خاندان 1948ء میں غزہ ہجرت کرگیا اور ان کی خان یونس مہاجر کیمپ میں مستقل سکونت اختیار کرلی- اس وقت ان کی عمر صرف 6 ماہ تھی- شیخ رنتیسی کے نو بہن بھائی تھے۔

Published in القدس
ہفته, 16 مئی 2020 14:37

مرد درویش کے حالات زندگی



مرکز اطلاعات فلسطین

ہر سال 22مارچ کا دن ہمیں سوگوار کرتا رہے گااس روز ہم اپنے مرشد اور مثالی قائد شیخ احمد یاسین سے جدا ہوئے تھے- فلسطین کے بچے بوڑھے جوان اور خواتین انکی عادات طاہرہ سے خوب واقف ہیں- یہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان اس مرد حق سے متعارف ہیں اور انکے القدس کی حفاظت کیلئے جاری جہاد کو اسلام کہ بہترین خدمت قرار دیتے ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کا ایک وفدشیخ کی برسی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہنچا،جہاں شہید کی یادیں خوشبو بن کر چہار سو بسیرا کئے ہوئے تھیں- انکا نرم و شیریں لہجہ اور حد درجہ محبت کی یاد میں ہر آنکھ اشکبار نظر آرہی تھی۔

Published in القدس



مرکز اطلاعات فلسطین

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی شرانگیزیوں سے عرب اور مسلم ممالک کبھی محفوظ نہیں رہے - اس کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے - موساد یہودی پناہ گزینوں کی مخفی تحریکوں کی بھی ذمہ دار ہے جو شام ،ایران اور ایتھوپیا کے باہر موجود ہیں -مغرب اور اقوام متحدہ میں موجود کئی سابقہ کمیونسٹ ممالک میں موساد کے ایجنٹ متحرک ہیں- موساد کاہیڈ کوارٹر تل ابیب میں ہے - 1980ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنظیم کے اراکین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار کے قریب تھی ۔

Published in القدس
سوموار, 11 مئی 2020 15:52

صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 

Published in القدس



تحریر:فیروز عالم ندوی 

بالفور سے ٹرمپ تک، 1917 سے 2017 تک ظلم و جبر اور استبداد کی صدی رہی۔ اس مدت میں عالم اسلام عموماً اور فلسطین خصوصاً حق تلفی، نا انصافی، دھوکہ، خیانت، ظلم اور استحصال کا شکار رہا۔ اس سو سالہ مدت میں بڑی چالاکی اور عیاری کے ساتھ شہر مقدس کو امت اسلامیہ کے جسم سے کاٹ کر الگ کر نے کی کوشش کی گئی۔ اس کو رفتہ رفتہ اس کے دھڑ سے جدا کیا گیا۔ 

Published in القدس



تحریر:افتخار گیلانی 

مشرق وسطیٰ میں جہاں اس وقت امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، وہیں فلسطین کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حکمران اور اسرائیل ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس کو ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  چند ماہ قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے عندیہ دیا تھا کہ: 
’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

Published in القدس



تحریر:خالد امائرے مشرقی بیت المقدس 

اکسٹھ برس قبل انسانی تاریخ کے بڑے جرائم میں سے ایک جرم اس وقت وقوع پذیر ہوا کہ جب یورپ کے نازی یہودیوں نے مغربی قوتوں کے تعاون سے فلسطین پر قبضہ جما لیا اور یہاں کے مقامی باشندوں کو دنیا کے چار کونوں میں منتشر کردیا-فلسطین میں وحشیوں نے وسیع پیمانے پر قتل عام کیا اورارض فلسطین میں ظلم و زیادتی اور اجتماعی قتل و غارت کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ جو چند سال پہلے یورپ میں وقوع پذیر ہوئی تھیں- مجرم غاصبوں نے اسرائیل کو جنم دیا جو ایک نسل پرست ریاست ہے جس کی بنیاد نسلی تطہیر، اراضی پر قبضے، لوگوں کو نکال باہر کرنے اور دروغ گوئی پر ہے-فلسطین کی سرزمین پر بدی کی ریاست اسرائیل کا قیام عصمت دری کا واقعہ ہے-

Published in القدس



تحریر:سید ثاقب اکبر 

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنمائوں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔

Published in القدس



تحریر:سید ثاقب اکبر 

اسٹرین یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی۔ اس کا اصلی نام بن یامین بتایا جاتا ہے سیسی صیہونیت کا بانی ہے۔ اس نے 1896عیسوی میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی ’’ڈرجوڈن شٹاٹ‘‘ یعنی یہودی ریاست جس کا انگریزی ترجمہ اپریل 1896میں آیا۔ اس کے قیام کے لئے ارجنٹائن یا مشرق وسطی کا علاقہ تجویز کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے ارجنٹائن میں یہودی ریاست قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے فلسطین میں قائم کرنے پر زور دیا۔ 

Published in القدس

تازہ مقالے