سیاسی

سیاسی (124)




 

”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی ہیں نہ دوستیاں۔ دوام صرف ضرورت اور مفاد کو ہے۔ بھارت امریکا کی جانب کھچے گا تو پاکستان، چین اور روس میں قربت بڑھے گی۔“ یہ الفاظ وسعت اللہ خان کے ہیں، جو انہوں نے 17 اکتوبر 2015ء بی بی سی اردو ڈاٹ کام میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھے ہیں، جس کا عنوان تھا ”پاک روس معاشقہ۔“ روزنامہ پاکستان میں چھپنے والے عمر جاوید کے ایک مضمون کا عنوان ہے ”پاک روس تعلقات میں مثبت تبدیلیاں۔“ یہ مضمون 29 جون 2019ء کو شائع ہوا۔۔۔



 
سید اسد عباس

دانشوروں کی رائے میں فلاحی مملکت اور خوشحالی کیلئے آزادی اور خود مختاری لازمی عنصر ہے، اگر آپ کاسہ لیسی کو ہی اپنا وطیرہ بنائے رکھیں گے تو پھر آپ کسی صورت ایک فلاحی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے۔ آپکا ڈونر جب چاہے آپکو ترقی کیجانب رخ کرنے سے روک سکتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔



 
سید اسد عباس

خطرناک امر یہ ہے کہ حکومت کا پورا زور تفتان اور وہاں سے آنیوالے زائرین پر ہے، جبکہ فضائی سفر کے ذریعے ملک میں آنیوالے افراد کو کسی ایسے قرنطینیہ سے نہیں گزارا جا رہا۔ وہ مریض جو خود ہسپتال آرہے ہیں، وہی مصدقہ قرنطینیہ مریضوں کی Category میں شامل ہیں، باقی کے افراد متاثرہ ملکوں سے آنے کے باوجود معاشرے میں اپنی نارمل سرگرمیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔





 
سید اسد عباس

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا ہے،،،



 
سید ثاقب اکبر نقوی

خوبصورت اور مقدس ٹائٹل کے تحت پنجاب اسمبلی میں منظور کیے گئے ’’پنجاب تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ‘‘ پر جب راقم کی نظر پڑی تو بے ساختہ غالب کا یہ شعر زبان پر آگیا۔۔۔




16جنوری 2018کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا جب ایوان صدر میں 1829علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید وقدیم شکلوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنما ئوں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطۃ المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔




16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پوری دنیا میں ان دنوں عید میلاد النبی ؐ کی تیاریاں ایمان افروز ولولوں کے ساتھ جاری ہیں اور دوسری طرف وہ سرزمین جہاں پر انسانیت کو آزادی اور مستضعفین کو نجات بلکہ حکمرانی کی بشارت دینے والے نبی ؐتشریف لائے یعنی سرزمین عرب، وہاں کے حکمران یکے بعد دیگرے عالمی صیہونزم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے عرب ملک کے سرنگوں ہونے کی وحشتناک خبر آرہی ہے۔ اس میں عجیب ترین پہلو شاید یہ ہو کہ سعودی عرب اور اس کے اردگرد موجود ریاستوں خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے مذہبی راہنماؤں کی جانب سے دنیا بھر میں توحید پرستی کا غلغلہ رہا ہے اور وہ بات بات پر مسلمانوں میں رائج بعض مذہبی مظاہر کو شرک کے مظاہر قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

اس میں تو اب عالمی سطح پر کسی کو شک نہیں رہا کہ چین امریکہ تنائو آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ امریکہ کی حکمران قیادت کو اس تنائو کی ضرورت آئندہ انتخابات تک ہے۔ اس بات کو قبول کرتے ہوئے کہ سیاستدان اور خاص طور پر ٹرمپ اور مودی جیسے سیاستدان کسی ملک سے تنائو اور نفرت بڑھانے کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے مابین تنائو کے محرکات کو جاننے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ فوری اور سطحی نہیں ہیں۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے