سیاسی

سیاسی (124)



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تجزیہ کار کئی روز سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے بارے میں بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بہت بڑی شفٹ اور تبدیلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بعض سادہ اندیشوں کی رائے میں یہ بیان صرف سعودی عرب کو کشمیر کے موضوع پر او آئی سی کے تحت وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کے لیے دباﺅ کی خاطر دیا گیا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات کا پاکستان کو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ۔ یہ بحث سعودی عرب کے مختلف مطالبات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے روابط نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور کشمیر کے بارے میں اس کی سرد مہری نے خاموش لبوں کو بھی حرکت دے دی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے سینیئر سفارتکار شمشار احمد نے DW کو انٹرویو دیتے ہو کہا کہ ”سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلم امہ کا رہنما ہے، لیکن اس نے مسلم امہ کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔؟ سوڈان اور انڈونیشیا کو توڑ دیا گیا۔ کشمیر میں لاکھوں افراد کو ایک بڑے زندان میں بند کیا ہوا ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن زیادہ دور نہیں، جب شام سے امریکا کو پوری طرح رخصت ہونا پڑیگا اور شاید وہ دن بھی آجائے، جب اسے لوٹے ہوئے مال اور تباہ کاری کا حساب بھی دینا پڑے۔




گذشتہ بدھ (9 اکتوبر 2019ء) کو ترک افواج نے اپنی جنوبی اور شام کی شمالی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اس کا مقصد شام کے شمالی علاقے سے ایس ڈی ایف (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کے اقتدار کا خاتمہ قرار دیا، جو ترک حکومت کے بقول ترکی کی کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی توسیع ہے، جو ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہے۔ ترکی کے صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اس سیکورٹی زون میں آباد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی گفتگو کے بعد ترکی نے یہ فیصلہ کیا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے اس خطے سے امریکی افواج نکالنے کا اعلان کردیا تھا۔۔۔





 
سید ثاقب اکبر نقوی

طلبہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق ہے تو سیاست کا حق کیوں نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ انجمن سازی ایک آئینی حق ہے اور وہ سیاستدان جنھیں 1973ء کے آئین پر مان ہے اور وہ اسے ایک مقدس دستاویز قرار دیتے ہیں اور ان میں سے وہ بھی ہیں،،،



 
سید ثاقب اکبر نقوی

2 جنوری کو بغداد سے القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے کمانڈر مہندس ابو مہدی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت کی بہت بڑی خبر کے بعد سال کے آخر میں ان دنوں پھر بڑی بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بڑی خبروں کا اصل سرچشمہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اصولی طور پر 21 جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس کو ترک کرنا ہے لیکن وہ مسلسل ایسی تدابیر پرغور کر رہے ہیں یا ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن سے انھیں کچھ عرصہ مزید اقتدار رہنے کا موقع مل جائے۔ تاہم انھیں جتنے دن بھی ملیں گے، وہ اپنے عالمی سطح کے طاغوتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے اقدام کرتے رہیں گے۔



 
سید اسد عباس

امریکا عراق سے افواج کے انخلا کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے اس کے پاس کوئی ٹائم لائن نہیں ہے۔ امریکا نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم عراق میں مستقل بنیادوں پر نہیں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی افواج کو عراق سے نکال لیں گے۔ عراق اور امریکا کے مابین امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات جمعرات کو درج ذیل اعلامیہ کے ساتھ ختم ہوئے۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

عمران خان! آپ تو کہتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: ’’اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود تبدیل نہ کرے۔‘‘ آپ نے یہ آیت کتنی مرتبہ اور اپنے کتنے خطابات میں ہمیں یاد دلائی،،،



 
سید اسد عباس

گذشتہ ستر سے زائد برس سے اسرائیل کو فوجی حمایت مہیا کرنے، سفارتی سطح پر اسرائیل کے وجود کو عالمی برادری سے تسلیم کروانے کی کاوشیں کرنے، اقوام متحدہ میں اسرائیلی ظلم اور بربریت کے خلاف آنے والی ہر قرارداد کو ویٹو کرنے، عملی طور پر اسرائیل کے لیے دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی ممالک میں بالخصوص سفارت کاری کرنے، اسرائیل کے وجود کے مخالفین پر اقتصادی پابندیاں لگوانے، ان کو مختلف سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے کے بعد امریکا نے اپنے سب نقاب الٹ دیئے اور واضح طور اس جارح اور ناجائز اکائی کی پشت پر آن کھڑا ہوا ہے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے