حضرت محمد مصطفیﷺ

حضرت محمد مصطفیﷺ (5)



تدوین و ترتیب : سید اسد عباس
ماہنام پیام ۱۹۹۷ء سے شائع ہورہا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قارئین تک علی و فکری مطالب کو بہم پہنچایا جائے تاکہ تشنگان علم کی آبیاری کی سبیل جاری رہی۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے ماہنامہ پیام کے دستیاب شماروں میں شائع ہونے والے سیرت النبی ؐ سے متعلق مقالات کی ایک Category کو مرتب کیا ہے نیز اس عنوان سے ماہنامہ پیام کے خصوصی شماروں کا الگ سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ امید ہے یہ Category قارئین کے لیے مفید اور لائق تشویق ہوگی۔ اشاریہ یا Category سازی کا یہ کام قبلا پروفیسر عارف حسین نقوی مرحوم انجام دیا کرتے تھے آج ان کے تشکیل دئیے ہوئے اشاریوں سے استفادے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقالات کی تلاش اور موضوعات کے تعین مین یہ اشاریے نہایت مفید ہیں۔ اللہ کریم مرحوم پروفیسر عارف حسین نقوی کو اس علمی خدمت پر اجر عظیم عنایت فرمائے۔



تحریر: ڈاکٹر ندیم بلوچ
مقدمہ:
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اسی سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔خاندان کے تمام افراد وہ ستون ہوتے ہیں جو  اس بنیادی معاشرتی اکائی کوتشکیل دیتے ہیں۔یہ اکائی جس قدر مضبوط و مستحکم ہو گی  معاشرہ اتنا ہی  بہتر اور توانا ہو گا۔اسی لیے ہر تہذیب اپنے معاشرتی نظام کی تشکیل کے لیے خاندان پر بہت توجہ دیتی ہے۔مرد و عورت کے  مجموعی حقوق  وفرائض کے دائرہ کار کو طے کیا جاتا ہے،ان کی مختلف حیثیتوں کو واضح کیا جاتا ہے۔خاندانی اقدار  کا تحفظ ہی معاشروں  کو  زندگی کے اتارو چڑھاو میں مدد دیتا ہے۔مغرب نے خاندانی نظام کو اجتماعیت سے انفرادیت کی شکل دے دی  اس سے انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔بہت سے ادارے جو  اجتماعیت میں بے معنی تھے اور انہیں  عیب سمجھا جاتا تھا  انفرادیت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے وہ بہت ضروری ٹھہرے ۔اولڈ ہومز کا تصور،بے تحاشہ انشورنس،انفرادیت کے نتیجے میں  پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریاں اور ان کی علاج گاہیں۔ 



تحریر: سید مزمل حسین نقوی 
 
کلیدی کلمات:  ابتدائی جہاد ،دفاعی جہاد،جہاد اکبر ،جہاد اصغر،دہشت گردی
خلاصہ:دین انسان کو دنیا میں پرامن اور آخرت میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ،دین میں جنگ، قتل وغارت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اسلام کو فطری اور امن پسند دین کہاگیا ہے، جبکہ اس کی الہامی کتاب میں جہاد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں تقریباً چوہتر آیات جہاد کے متعلق ہیں جن میں جہاد کے بہت سے فائدے بیان کئے گئے ہیں۔لغت میں لفظ جہاد جہد سے ماخوذ ہے جس کی معنی طاقت اور مشقت سہنے کے ہیں۔ اصطلاحاًہروہ عمل جہاد ہے جس سے اسلام کا بول بالا ہو، شعائر ایمان قائم ہوں۔جہاد کی مختلف قسمیں بنتی ہیں مثلاً جہاد بالعلم، جہاد بالعمل، جہاد بالمال، جہاد بالنفس اور جہاد بالسیف وغیرہ۔قرآن دفاعی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور جنگ  میں پہل کونا پسندیدہ سمجھتا ہے۔



تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل
سابق استاذ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

جسم و روح کے اتصال سے زندگی وجود میں آتی ہے۔ جب انسانی زندگی قائم ہو جاتی ہے، تو وہ سدا قائم رہتی ہے اور اسے کبھی فنا نہیں آتی۔ چنانچہ ’’لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ‘‘(۱) کا یہی مقصد و منشاء ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ہوتے ہیں اور یہ زندگی ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی رہتی ہے اور جدید تجربات اور نئے حالات و کوائف سے گزرتی رہتی ہے۔ اسی طرح یہ امر بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق کائنات ہے وہ رب العالمین  ہے، وہی ہدایت کا مصدر و منبع ہے اور وہی ’’إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ‘‘(۲) کا مستحق اور سزا وار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ مالک کون و مکان جسم و روح کے باہمی اتصال سے انسانی زندگی پیدا کرتا ہے تو وہ حدیث نبوی کی رو سے انسان کی غذا بھی مقرر کردیتا ہے اور اس کی ہدایت کا سامان بھی فراہم کردیتا ہے۔



آمد مصطفی مرحبا مرحبا
افضل الاناس، خیر البشر، ختم الرسل، رحمت دو جہاں، ہادی انس و جاں، داور بے کساں، منجی بشر،احمد ، محمد، مصطفی ، طہ،یس،،مزمل جس کا خود خالق کائنات ثناء خواں ہےاس کی بھلا کوئی انسان کیا تعریف و توصیف بیان کرے۔ ہماری زبان اور قلم میں وہ سکت ہی نہیں کہ اس ہستی کے وصف کو بیان کرسکیں۔ممدوح خدا ہونا ہی وہ وصف ہےکہ پوری انسانیت اس ہستی کے گن گاتی رہی ۔ ماہ ربیع الاول کائنات کی اس بہار کی آمد کا مہینہ ہے۔ یہ اس گل سرسبد کے کھلنے کا موسم ہے جس کی خشبو نے طول تاریخ میں اقوام عالم کو پاکیزگی اور لطافت سے معطر کر دیا۔ یہ اس نور کے ظہور کی گھڑی ہے جس نے دنیا کے گوش و کنار کوتوحید کی کرنوں سے روشن کر دیا۔ اہل ایمان کے دل اس مبارک گھڑی میں خوش کیوں نہ ہوں ؟ کیوں نہ اس بدر کے طلوع کا جشن منائیں اور خوشی کے عالم میں گنگناتے پھریں :
طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیّا تِ الْودَاعٖ
وَجَبَ الشّْکرُ عَلَیْنا
مَا دَ عَا لِلّٰہِ دَا عٖ 

تازہ مقالے