حضرت محمد مصطفیﷺ

حضرت محمد مصطفیﷺ (23)

احمد ندیم قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا




بہرِ لبم شرابِ طہور اسوۂ رسولؐ
در جامِ ناب وجہِ سرور اسوۂ رسولؐ

 

الطاف حسین حالی
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے




آواز مت بلند ہو اِس بارگاہ میں
کیا کچھ چھپا کے رکھ دیا اِک انتباہ  میں

 




اگر حبیبِ خدا غیر مصطفیؐ کہیے
تو پھر خدا بھی کوئی دوسرا خدا کہیے

 



امیر امینائی

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
کیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہے
کہدے میرے عیسٰی سے مدینے میں یہ کوئی
اب جان پہ بیمارِ محبّت کے بنی ہے

بہزاد لکھنوی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
دل رہتا ہے ہر وقت مرا شاد مدینہ
ہر وقت نگاہوں میں تصور میں توہی ہے
اللہ رے اے حسن خداداد مدینہ




جاں میں سمائے جاتی ہے کس کی ہے گفتگو 
ایسی بھی دل نشیں بھلا ہوتی ہے گفتگو

 

حفیظ تائب

یارب! ثناء میں کعبؒ کی دلکش ادا ملے
فتنوں کی دوپہر میں سکوں کی ردا ملے
حسانؒ  کا شکوہِ بیاں مجھ کو ہو عطا
تائیدِ جبرئیلؑ بوقتِ ثناء ملے




دن بے نقاب کرتا ہے شمس الضحٰی سے عشق
اور چھپ کے رات کرتی ہے بدرالدُّجٰی سے عشق

 

ظفر علی خان
اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
زینت ازل کی ہے تو ہے رونق ابد کی تو
دونوں میں جلوہ ریز ہے تیرا ہی رنگ و آب

عبدالعزیز خالد

ہرکسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول
کون کہہ سکتا ہے کیاہے حدِّ امکان رسولؐ
سِدرہ تک ہی پَر فشانی کرسکے روحُ الامیں
قاب قوسینِ اَو اَدنیٰ تک ہے جولانِ رسولؐ



لرزاں لرزاں کفر کی سد
فرحاں فرحاں عرش احد
شاداں   شاداں  ’’لَمْ     یُوْلَد‘‘
شاہِ رُسلؐ کی ہے آمد

ماہر القادری

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے