پڑھ کے خاموش آنسوئوں کے سوال
آج وہ لاجواب دیکھے ہیں

 




شب کا مسافر
تیرہ شبی میں

 




شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 




محمدؐ روح عالم ہیں تو ہیں دل فاطمہ زہرا ؑ
ہو بزم ِ پنجتنؑ تو جانِ محفل فاطمہ زہرا ؑ

 

ماہر القادری

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے




چمن کے ُاس پار رُک گیا ہے
گلاب موسم کو کیا ہوا ہے

 




جُرم سے کم بھی اگر میں نے سزا پائی ہے
تیری رحمت کی مِری آنکھ تمنائی ہے

 




آداب و تحیّات ترے نام کروں گا
ضَو پھوٹے گی جب رات ترے نام کروں گا

 




جام و مینا و سبو و شیشہ و ساغر کی بات 
پیا سے ہیں کیونکر نہ کیجے ساقیِ کوثر کی بات

 

نصیر الدین نصیر

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے 
جو رب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے
کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے
زہرا کا وہ بابا ہے سبطین کا نانا ہے