میں نے چاہا تھا مرے دل کو قرار آجائے
میں نے سمجھا کہ مرے دل کو قرار آیاہے 

 




کمال عشق کی جب سطح آخری آئی 
تو اُنؐ کے ہاتھ خدا کی پیمبری آئی

 




عکسِ خیال آئنے سے پوچھنے گیا
کیا سچ ہے کوئی درد کی تصویر لے گیا

 




کھیل تصویر اشکوں سے کرتی رہی
وہ مٹاتے رہے، یہ ابھرتی رہی

 

عبدالعزیز خالد

ہرکسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول
کون کہہ سکتا ہے کیاہے حدِّ امکان رسولؐ
سِدرہ تک ہی پَر فشانی کرسکے روحُ الامیں
قاب قوسینِ اَو اَدنیٰ تک ہے جولانِ رسولؐ




وکیل و قاضی کو اپنے خلاف کر لوں گا
میں جرمِ آگہی کا اعتراف کر لوں گا

 




کہتے ہیں غزل دیکھ کے معشوق کوئی ہے
اے سوز بیاں! سامع منطوق کوئی ہے

 




اُس کو پانے کے لیے غیر پہ تکیہ کرتے
اِس سے بہتر ہے کہ اس کام سے توبہ کرتے

 




گردش میں جو نصف شب پھر درد کا جام آئے 
سنگیت سے پھر کہنا اک غم کی غزل گائے 

 




ہزار صفحوں میں اک حرفِ مدّعا نہ لکھا
وَرَق سیاہ کیے دل کا ماجرا نہ لکھا