حضوری میں بھی رہتی ہیں لہو رونے پر آمادہ
شب ہجراں میں کیا کر دیں یہ آنکھیں رنگ سجادہ

 




عکسِ خیال آئنے سے پوچھنے گیا
کیا سچ ہے کوئی درد کی تصویر لے گیا

 




ماتم شہ میں جو ہم ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
پایۂ تختِ ستم شاہی ہلا دیتے ہیں

 




دل کی حیات یاد امامِ ہمام کی
سبطِ نبی حسین علیہ السلام کی

 




مرے گناہوں کو لکھنے والو!اک آخری ایسا باب رکھنا 
کہ جس میں میرے جریحے لکھنا‘مرے غموں کا حساب رکھنا 

 




اک طرف تُو تھا، تَو تھا پنج جہت آئینہ
یوں نہ تھا، آنکھ کا دھوکا تھا وہ حاشا کلّا

 



کربلا کی کہانی میں سنتا ہوں جب 
تھامتاہوں جگر‘
دل دھڑکتاہے آنکھیں برستی بھی ہیں
حسرتیں آرزوئیں تڑپتی بھی ہیں




برس برس سے مری ارضِ جاں پہ چھائے ہیں
عجیب ٹھہرے ہوئے وحشتوں کے سائے ہیں

 




آج تھوڑا سا غم سنا ڈالا
میں نے بت کا بھی سر ہلا ڈالا

 




درد ٹھہرا رہا رات ڈھلتی رہی 
دل پگھلتا رہا شمع جلتی رہی