اتنا ہی نہیں دست عنایات ہے روشن
جو اُس نے عطا کی ہے وہ سوغات ہے روشن

 



تری شان ذکر کروں تو کیا
تجھے حق نے ایسا بنا دیا!
کہ ترے لیے سرِ دوسرا
نہ مثیل ہے نہ مثال ہی 
صَلُّوْا   عَلَیْہِ   وَ  اٰلِہٖ




پناہ لینے لگے جب وہ بھول جانے میں
کئی بہانے چھپے تھے اس اک بہانے میں

 

ڈاکٹر علامہ اقبال
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب
عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب




جرعۂ جامِ وفا اِن پہ جو ارزاں کر دے
صوفی و شیخ کو بھی صاحبِ ایماں کر دے

 



امیر امینائی

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
کیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہے
کہدے میرے عیسٰی سے مدینے میں یہ کوئی
اب جان پہ بیمارِ محبّت کے بنی ہے




عکسِ آئینہ رُو ابھارا کر
یوں خیال و سخن سنوارا کر

 




میرِ محفل کون ہوگا چاند کے گہنے کے بعد
رات شمعیں بجھ گئیں تاروں سے یہ کہنے کے بعد

 




سنتے ہیں پھر قسیمِ درد مائلِ التفات ہے
دل کی دھمک میں گونج ہے سینے پہ پھر سے ہات ہے

 




شب کا مسافر
تیرہ شبی میں