کہتے ہیں غزل دیکھ کے معشوق کوئی ہے
اے سوز بیاں! سامع منطوق کوئی ہے

 




انسان کا غم کھانا انساں کا بھرم رکھنا
غم خانے کے مخزن میں محفوظ یہ غم رکھنا

 




میں کہاں جنت ماویٰ کے لیے مرتا ہوں
باغِ رضواں کی طلب اُن کے لیے کرتا ہوں

 




شاید اُس نے لکھا ہوا ’’ہاں‘‘ تھا
اَشک قِرطاس پَر نمایاں تھا

 




مرے گناہوں کو لکھنے والو!اک آخری ایسا باب رکھنا 
کہ جس میں میرے جریحے لکھنا‘مرے غموں کا حساب رکھنا 

 




بار جتنا تھا سب اتار گئی 
آخرش جانِ قرضدار گئی

 

الطاف حسین حالی
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی




ہزار صفحوں میں اک حرفِ مدّعا نہ لکھا
وَرَق سیاہ کیے دل کا ماجرا نہ لکھا

 

ڈاکٹر علامہ اقبال
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب
عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب