این زمین در آن زمان پُربَلا
ناگہان چون زُلْزِلَتْ زِلْزَالَھَا

 




میں نے چاہا تھا مرے دل کو قرار آجائے
میں نے سمجھا کہ مرے دل کو قرار آیاہے 

 




ماتم شہ میں جو ہم ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
پایۂ تختِ ستم شاہی ہلا دیتے ہیں

 




کَہ نہ سکے جو پیاروں سے
باتیں کیں دیواروں سے

 




سر آسماں کسی کو کوئی وہم ہو گیا ہے
تجھے جب سے دل دیا ہے مرے پاس کیا بچا ہے؟

 




نامہربانیوں میں بھی جس کی اماں ملے
اے دل وہ مہرباں تجھے کیونکر کہاں ملے

 




تری قتل گاہ سے وقت عصر
ترے خوں کا رنگ لیے ہوئے

 




وہی سبطینؑ کی مادر کہ حیدرؑ جس کا ہمسر ہے
خدیجہؑ کے جو پاکیزہ صدف کا پاک گوہر ہے

 




 نقد جاں لے کے جو نکلے ہیں تو ڈر کیسا ہے
ہاں مگر آپ کا معیار نظر کیسا ہے

 




کمال عشق کی جب سطح آخری آئی 
تو اُنؐ کے ہاتھ خدا کی پیمبری آئی