غم نے ایسا مجھے نہال کیا
نصفِ شب بھی مرا خیال کیا

 




نصیب مرسل حق کوثری و خوش نَسَبی
نصیب دشمن شہ ابتری و لا عَقَبی

 




کہنے لگے حسین ؑ کہ اے ربِّ دو سرا
دوراہے پر ہے ظالموں نے لا کھڑا کیا

 



فرزند بوترابؑ مرے آٹھویں امام
حاضر ہے لے کے عرضِ مودت ترا غلام 
اے وہ کہ ہے خواص پر بھی تیرا فیض عام
مِنْ کُلِّنَا عَلَیْکَ وَآبَائِکَ السَّلام




حضوری میں بھی رہتی ہیں لہو رونے پر آمادہ
شب ہجراں میں کیا کر دیں یہ آنکھیں رنگ سجادہ

 




کمال عشق کی جب سطح آخری آئی 
تو اُنؐ کے ہاتھ خدا کی پیمبری آئی

 




مت کہیو‘ ان کے آنے کی گرچہ خبربھی ہو
قاصد!جو ان کے وعدے میں شامل ’اگر‘بھی ہو

 




جو دوش نبیؐ پر کبھی کرتے تھے سواری
زہراؑ و علیؑ روز و مسا جن پہ تھے واری

 




کوثرِ الفت کے چھینٹے میرے گیتوں کا نکھار
شعر بکھرائیں مرے تیری مودّت کی پھوار

 




دم دہلیز ساقی کو دیا پیغام، رہنے دو
کسی کے ہاتھ بھیجا ہے تو اپنا جام رہنے دو