مصلحت کوشی مری سوچ کی دیوار نہیں
مُجھ کو اس جُرم کا اقرار ہے انکار نہیں

 




جب ذرا سا قرار آتا ہے
کوئی زخموں کو چھیڑ جاتا ہے

 




دل کی حیات یاد امامِ ہمام کی
سبطِ نبی حسین علیہ السلام کی

 




عکسِ خیال آئنے سے پوچھنے گیا
کیا سچ ہے کوئی درد کی تصویر لے گیا

 




آپ ساماں تو ذرا کیجئے جلنے کے لیے
دل ہے تیار ان آنکھوں سے پگھلنے کے لیے

 




پناہ لینے لگے جب وہ بھول جانے میں
کئی بہانے چھپے تھے اس اک بہانے میں

 




جو دوش نبیؐ پر کبھی کرتے تھے سواری
زہراؑ و علیؑ روز و مسا جن پہ تھے واری

 




شوقِ آوارگی کی بخشش ہے
درکِ حُسن و جمال و رعنائی

 




ہم نے وہ غم بھی بصد شوق سنبھالے ہوئے ہیں
پچھلی صدیوں نے جو اِس پار اچھالے ہوئے ہیں

 




میں جانتا ہوں کہ گلستاں میں سلوک مجھ سے وہ کیا کرے گا
مہک وہ اپنی بکھیر دے گا حجاب صدرنگ اوڑھ لے گا