تلخیص:
قرآن و حدیث میں علم کا مفہوم کیا ہے؟ وہ کون سے علوم ہیں جن کے حصول کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے؟ دینی اور دنیاوی علوم کی اصطلاحات کی حقیقت کیا ہے؟ غیر متغیر (Ultimate) علوم کن کو کہا جاتا ہے ؟ حصول علم خود مقصد ہے یا مقصد کے حصول کا ذریعہ؟ علم اور تعلیم میں کیا فرق ہے؟قرآنی طرز تعلُّم کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کو اس مقالہ میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ڈاکٹر سجاد علی استوری کی یہ علمی و تحقیقاتی تحریر قارئین پیام کے لیے قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔



تلخیص:
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خلفائے راشدینؓ کی خلافت سے صلح امام حسن ؑ تک امت ہر معاملے میں ہمیشہ دو نظریاتی گروہوں میں منقسم رہی۔تاہم حسین ؑ کا قیام ایسا اقدام ہے جس پر مسلمان تو مسلمان ،غیر مسلم بھی امام عالی مقام کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سید المرسلین ؐ کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں جس ہستی کے اقدام کو بلا تخصیص مسلک و گروہ حق سمجھا گیا ، امام حسین ؑ کی ذات والا صفات ہے ۔



بیان کی حقیقت:
 
گذشتہ مباحث میں ہم نے ’’اصولِ فقہ‘‘ میں ’’بیان‘‘ کی مختلف صورتوں کا مطالعہ کیا جس میں ہم نے دیکھا کہ یہ تمام صورتیں الفاظ اور تراکیب نیز ان کی صورتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ اصول فقہ پر موجود وسیع لٹریچر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف ایک ہی جہت سے نصوص کا مطالعہ کیا گیا ہے جو الفاظ اوراس کے منطقی فہم سے متعلق اوراس میں ’’منطق ارسطا طالیس‘‘ سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ نصوص کے ’’معاشرتی فہم‘‘کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔



بیان التفسیر:
علمائے اصول کے نزدیک بیان تفسیر کا مطلب ہے’’بیان مافیہ خفاء‘‘ جس لفظ، ترکیب اور محاورے میں خفاء پایا جاتا ہو اُسے واضح کرنے کا نام بیان تفسیر ہے(۱) اس ضمن میں علماء مشترک و مجمل ،مشکل اور خفی کا ذکر کرتے ہیں۔ واضح ہوکہ فخرالاسلام بزدوی اور شمس الائمۃ سرخسی نے صرف مشترک و مجمل دو صورتوں کا ذکر کیا ہے بعد کے علماء نے اس میں وسعت دی چنانچہ البزدوی کے شارح عبدالعزیز البخاری نے کہا’’ھو بیان مافیہ خفاء من المشترک والمجمل و نحوھما‘‘ یعنی مشترک ،مجمل اور اسی طرح کی دوسری صورتوں میںجو خفاء پایاجاتا ہے اس کو بیان کرنے کا نام بیان التفسیر ہے۔(۲) چنانچہ ملا خسرو نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’و ان تخصیص المشایخ المشترک والمجمل بالذکر تسامح‘‘ مشائخ نے محض مشترک ومجمل کا جو ذکر کیا ہے تو یہ تسامح ہے۔(۳



عصر حاضر میں اسلام کی متحرک اور قابل عمل تصویر اُس وقت تک پیش نہیں کی جاسکتی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا جا سکتا جب تک زمان و مکان کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی روشنی میں قرآن و سنت کے فہم کی سمت متعین نہ کی جائے۔ اس مقالے میں ان بنیادوں اور مختلف پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو براہ راست قرآن و سنت کے فہم پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے اثر انداز ہونے کی نوعیت پر زبردست اختلا ف ہے،



تلخیص:
جو لو گ عقل کی نفی اور توہین پر عقید ۂ نبوت کی بنا استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ وہ نبو ت کے کمال آفرینی کے اہم منصب اور حکمت نبوت سے ناآشنائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ عقل ہی تو انسان کا عظیم مابہ الامتیاز ہے ۔ عقل انسان کو مخلوقات عالم میں ممتاز کرتی ہے ۔ نبوت کی ضرورت کو عقل کی نفی اور کمزوری و نارسائی کی دلیل سے ثابت کرنا عقل کی توہین کے مترادف ہے ۔ ہم قرآن حکیم میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بار بار عقل انسانی کو پکارتا ہے ۔ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ اندھی تقلید تر ک کرنے کے لیے اسے دلیل کی بنیاد پردعوت دیتا ہے ۔ انسان کو دنیا کے سب رنگوں کو چھوڑ کر فطر ت کا الٰہی رنگ اختیار کرنے کی طر ف ابھارتا ہے ۔ 



تلخیص:
اللہ رب العزت نے حضرت محمد مصطفیٰ ؐکو اپنا محبوب قرار دیا ہے اور انسانوں کے اعمال کی قبولیت رسالت آخرالزماں ؐکی اطاعت و محبت سے مشروط قرار دی ہے۔ لہٰذاکسی بھی مسلمان کو رسول اکرم ؐ سے کسی بھی شکل میں نفرت کا اظہا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شان رسالت میں عمداً توہین کرنے والا انسان کافر اور مرتد ہے۔



 امت مظلوم کے کس درد کا نوحہ لکھوں۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم عوام کی کسمپرسی کا حال کہوں، یا سوا ارب سے زیادہ آبادی کے حامل مسلمان ممالک کے نا اہل حکمرانوں کی عیاشیوں کا فسانہ چھیڑوں، امت اسلامیہ کی علمی و فکری پسماندگی کی حکایت بیان کروں یا آپس میں دست و گریباں مسلمانوں کی بپتاکہوں۔ایک جانب پاکستانی حکمران ہیںکہ جنہوں نے اپنے تین بے جرم و خطا شہریوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کواپنے ہی قانون کا سہارا لیتے ہوئے فرار کرایاتو دوسری جانب لیبیا اور خلیجی ریاستوں کے حکمران ہیں جو اپنے ہی نہتے عوام کو بارود اور بندوق کے زور پر خاموش کرنے کے درپے ہیں۔



عصر حاضر میں اسلام کی متحرک اور قابل عمل تصویر اُس وقت تک پیش نہیں کی جاسکتی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا جا سکتا جب تک زمان و مکان کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی روشنی میں قرآن و سنت کے فہم کی سمت متعین نہ کی جائے۔ اس مقالے میں ان بنیادوں اور مختلف پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو براہ راست قرآن و سنت کے فہم پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے اثر انداز ہونے کی نوعیت پر زبردست اختلا ف ہے،



پس منظر
راقم کی ایک کتاب ’’پاکستان کے دینی مسالک‘‘  2010 کے آخر میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے مختلف مسالک کے علمائے کرام کا نقطۂ نظر شامل کیا گیا ہے۔ بعض علمائے کرام سے اس سلسلے میں راقم نے انٹرویو کیا اور بعض نے تحریری طور پر اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں بعض کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ سب قابل احترام علماء نے امت اسلامی کے مختلف مکاتب فکر کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے نیز انھوں نے دوسروں کو کافر قرار دینے کے رویے کی بھی مذمت کی ہے۔ اس باب میں ہم مذکورہ کتاب سے اس ضمن میںان کی آراء قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:

تازہ مقالے