تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

کائنات میں پیدا ہونے والا ہر با شعور انسان جو اس دنیا کے بارے میں غوروفکر کرتا ہے۔ اس کے آغاز و انجام پر تدبر کرتا ہے، دنیا میں موجود مختلف نظاموں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے موجود نظام انسانیت کا خون چوسنے والے دکھائی دیتے ہیں اور وہ موجود نظاموں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ 



تحریر:محبیب الرحمن قاسمی

الحمدللّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وخاتم النبیین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین

قیامت ایک امر غیبی ہے جس کا حقیقی علم بجز خدائے عالم الغیب کے کسی کو نہیں ہے قرآن مجید ناطق ہے۔ ’’ان اللہ عندہ علم الساعۃ‘‘ اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا علم ہے۔ ایک دوسرے موقع پر ارشاد الٰہی ہے:



مرتبہ: سیدہ ہما مرتضیٰ

جناب ثاقب اکبر نے 16مارچ 2020 کو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست سے خطاب کیا۔ اس میں تنظیم کے کچھ سابقین بھی موجود تھے۔ ذیل میں ان کے خطاب کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ (ہما مرتضیٰ)



تحریر : ڈاکٹرمحمدتیجانی سماوی 

مہدی موعود کا مسئلہ بھی ان موضوعات میں شامل ہے جن کی وجہ سے اہل سنت شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ بعض تو اس حدتک بڑھ جاتے ہیں کہ تمسخر واستہزاء سے بھی نہیں چوکتے ۔ کیونکہ اہل سنت اس کو بعید ازعقل اور محال سمجھتے ہیں کہ کوئی انسان بارہ سو برس تک زندہ مگر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ۔



تحریر:آیت  اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

انواع واقسام کے مخلوقات حتی کہ انسان بھی "مابہ الاشتراک" اور"مابہ الامتیاز" سے مرکب ہوتے ہیں بہ الفاظ دیگر افراد بعض ذاتی یا عرضی یا اعتباری صفات میں دوسروں کے ساتھ شریک ہونے کے علاوہ کچھ خصوصی اور امتیازی صفات کے مالک ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ دوسروں سے الگ اور ممتاز ہوتے ہیں، یہی امتیازات عالم خلقت کی اہم ترین حکمت اور نظام کائنات کی بقاء کے ضامن ہیں۔



 تحریر : سید علی ابراہیم

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک اور ان کی باعظمت شخصیت کے حوالے سے پیغمبر اسلام اور ائمہ اھل بیت رسول علیھم السلام سے منقول تمام تر احادیث ہم آھنگ اور ملتی جلتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روز اول سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے برحق معصوم جانشین ائمہ اھل بیت علیھم السلام امام مہدیؑاور ان کے ذریعہ سارے جہان پر اسلام کے غلبے والے مسئلہ پر خصوصی عنایت رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اپنے پیروکاروں کو بھی اس اہم موضوع سے بھی صحیح طریقے سے باخبر کریں۔



تحریر:علی اصغر سیفی

احادیث کے مطابق بہت سی قرانی آیات امام مہدی(عج) اور انکے ظہور کے متعلق بشارت دے رہی ہیں کیونکہ مسلم سی بات ہے کہ آخر الزمان میں الہی حکومت کی تشکیل جو کہ ایک بہت بڑا موضوع ہے اور تمام انبیاء کی زحمتوں
اور قربانیوں کا ثمرہ ہے کیسے قران مجید میں اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ذا بہت سی آیات میں سے بطور نمونہ یہاں چند آیات کو پیش کیا جاتا ہے:



سربراہ البصیرہ، سید ثاقب اکبر کی عصر حاضر کے مذہبی مباحث پر مشتمل کتاب ’’معاصر مذہبیات‘‘ زیر طبع ہے۔ اس کے مباحث سے چند اقتباسات،ماہنامہ پیام کے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ید ثاقب اکبر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اُن کی ذات جدید و قدیم علوم کا حَسِیں امتزاج ہے۔ آپ ایک طرف اسلام کے تہذیبی، ثقافتی، مذہبی اور روحانی ورثے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں تو دوسری طرف اپنے وسیع تجربے اور علم کی بنا پر عہدِ حاضر کے بدلتے تقاضوں اور ضروریات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ا



قرآن مجید راہنما ہے۔ الٰہی راہنمائی ہے۔ یہ راہنمائی ایسی ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔ قرآن مجید تمام مسلمانوں کے درمیان متفقہ آسمانی کتاب ہے۔ اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس کے ہر لفظ و حرف پر ایک مسلمان کا ایمان محکم ہے۔ کسی آیت کا انکار کفر ہے۔ اس کے ہر حکم پر عمل ضروری ہے۔ آج جس قدر امت پریشان بلکہ ذلیل و خوار اور انتشار و افتراق کے چنگل میں پھنس چکی ہے اس کا ایک سبب قرآن مجید سے دوری ہے۔ علامہ اقبالؒ جواب شکوہ میںاس مفہوم کو یوں ادا کرتے ہیں:



مترجم: ملک جرار عباس یزدانی(محمدعامر رضا)
امام رضاؑ کو عالم آل محمد ﷺ کا لقب امام کاظمؑ نے دیا۔ امام کاظمؑ اس لقب کو اپنے والد گرامی یعنی امام جعفر صادقؑ کی طرف نسبت دیتے ہیں۔ اور ایک روایت کے مطابق امام رضاؑ کے بھائی جناب اسحاق بن موسی کہتے ہیں کہ ہمارے والد گرامی اپنے بچوں سے کہتے تھے کہ : یہ آپ کے بھائی علیؑ(امام رضاؑ) عالم آل محمدﷺ ہیں ،اپنے مسائل اور سوالات اس سے پوچھو اور جو بات یہ بیان کرے اسے اپنے پاس محفوظ کر لو۔ 

تازہ مقالے