مرکز اطلاعات فلسطین

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی شرانگیزیوں سے عرب اور مسلم ممالک کبھی محفوظ نہیں رہے - اس کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے - موساد یہودی پناہ گزینوں کی مخفی تحریکوں کی بھی ذمہ دار ہے جو شام ،ایران اور ایتھوپیا کے باہر موجود ہیں -مغرب اور اقوام متحدہ میں موجود کئی سابقہ کمیونسٹ ممالک میں موساد کے ایجنٹ متحرک ہیں- موساد کاہیڈ کوارٹر تل ابیب میں ہے - 1980ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنظیم کے اراکین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار کے قریب تھی ۔



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 



تحریر:فیروز عالم ندوی 

بالفور سے ٹرمپ تک، 1917 سے 2017 تک ظلم و جبر اور استبداد کی صدی رہی۔ اس مدت میں عالم اسلام عموماً اور فلسطین خصوصاً حق تلفی، نا انصافی، دھوکہ، خیانت، ظلم اور استحصال کا شکار رہا۔ اس سو سالہ مدت میں بڑی چالاکی اور عیاری کے ساتھ شہر مقدس کو امت اسلامیہ کے جسم سے کاٹ کر الگ کر نے کی کوشش کی گئی۔ اس کو رفتہ رفتہ اس کے دھڑ سے جدا کیا گیا۔ 



تحریر: سید حیدر نقوی
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے میں اُمید باقی نہ رہے تو وہ اپنے حال کو اپنےہی ہاتھوں برباد کربیٹھے گا۔



تحریر:افتخار گیلانی 

مشرق وسطیٰ میں جہاں اس وقت امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، وہیں فلسطین کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حکمران اور اسرائیل ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس کو ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  چند ماہ قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے عندیہ دیا تھا کہ: 
’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔



تحریر:خالد امائرے مشرقی بیت المقدس 

اکسٹھ برس قبل انسانی تاریخ کے بڑے جرائم میں سے ایک جرم اس وقت وقوع پذیر ہوا کہ جب یورپ کے نازی یہودیوں نے مغربی قوتوں کے تعاون سے فلسطین پر قبضہ جما لیا اور یہاں کے مقامی باشندوں کو دنیا کے چار کونوں میں منتشر کردیا-فلسطین میں وحشیوں نے وسیع پیمانے پر قتل عام کیا اورارض فلسطین میں ظلم و زیادتی اور اجتماعی قتل و غارت کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ جو چند سال پہلے یورپ میں وقوع پذیر ہوئی تھیں- مجرم غاصبوں نے اسرائیل کو جنم دیا جو ایک نسل پرست ریاست ہے جس کی بنیاد نسلی تطہیر، اراضی پر قبضے، لوگوں کو نکال باہر کرنے اور دروغ گوئی پر ہے-فلسطین کی سرزمین پر بدی کی ریاست اسرائیل کا قیام عصمت دری کا واقعہ ہے-



تحریر:سید ثاقب اکبر 

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنمائوں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔



تحریر:سید ثاقب اکبر 

اسٹرین یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی۔ اس کا اصلی نام بن یامین بتایا جاتا ہے سیسی صیہونیت کا بانی ہے۔ اس نے 1896عیسوی میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی ’’ڈرجوڈن شٹاٹ‘‘ یعنی یہودی ریاست جس کا انگریزی ترجمہ اپریل 1896میں آیا۔ اس کے قیام کے لئے ارجنٹائن یا مشرق وسطی کا علاقہ تجویز کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے ارجنٹائن میں یہودی ریاست قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے فلسطین میں قائم کرنے پر زور دیا۔ 



تحریر:سید ثاقب اکبر 

مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول کہا جاتا ہے۔ اسے اسلامی نقطۂ نظر سے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مقدس ترین مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد فلسطین کے دارالحکومت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد کے اندر پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے البتہ اس کے وسیع صحن بھی موجود ہیں جن میں ہزاروں افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔



تحریر:سید ثاقب اکبر 

یہودیت کی وجہ تسمیہ ان کا یہوداسے منسوب ہونا ہے جو حضرت یعقوب ؑ کے چوتھے بیٹے تھے اور جن کی والدہ لائقہ تھیں۔ تورات اور تلمود کے تمام پیروکاروں کو آج یہودی کہا جاتا ہے چاہے وہ حضرت یعقوبؑ کی اولاد سے ہوں یا دیگر اقوام سے، انھوںنے پہلے یہودی مذہب قبول کیا ہو یا بعد میں۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ اسرائیل حضرت یعقوبؑ کا ایک نام ہے جس کا معنی ہے’’ عبداللہ‘‘ یا’’ اللہ کا بندہ‘‘ ۔

تازہ مقالے