پیشکش :سید اسد عباس

تعارف:اصولاً برائت از مشرکین حج کے سیاسی فرائض میں سے ہے اور اس کے بغیر ہمارا حج ،حج ھی نہیں ہے ۔حج کے موقع پر برائت از مشرکین وہ سیاسی ، عبادی پکار ہے کہ جس کا امر رسول اللہ نے فرمایا ہے ۔ہماری صدائے برائت ان سب لوگوں کی پکار ہے جو امریکہ کی فرعونیت اور اس کی ہوس اقتدار کو اب مزید برداشت نہیں کر سکتے ۔حج کے ان عظیم مناسک کا سب سے زیادہ متروک اور غفلت زدہ پہلو سیاسی پہلو ہے خائنوں کا ہاتھ اسے متروک بنانے میں سب سے زیادہ کار فرما رھا ہے آج بھی اور آئندہ بھی رہے گا ۔جو درباری ملّا یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی پہلوؤں سے خالی ہونا چاہیے وہ رسول اللہ کی مذمت کرتے ہیں ۔آج عالم اسلام امریکہ کے ہاتھوں میں اسیر ہے۔ ہمارا فریضہ ہے کہ دنیا کے مختلف بر اعظموں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے اللہ کا یہ پیغام لے جائیں کہ وہ خدا کے سوا کسی کی غلامی اور بندگی کو قبول نہ کریں ۔حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اللہ سے بیعت کریں کہ ہم اس کے اوراسکے رسولوں کے ،صالحین کے اور حریت پسندوں کے دشمنو ں کے دشمن ہونگے ۔



تحریر:مولاناابو الکلام آزاد 

درج ذیل تحریر مولانا ابو الکلام آزاد کی کتاب حقیقت حج سےماخوذ ہے۔اصل کتاب جس کی پی ڈی ایف ہمارے  پاس موجود ہے  میں غیر ضروری طور پر سرخیاں لگا کر سہولت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم تحریر کا ربط ختم ہو گیا جسے بحال کرنے کے لیے ہم نے ان سرخیوں میں سے چند کا انتخاب کیا ہے ۔ تحریر کے اسلوب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصل تحریر مسلسل تھی جسے آسان اور عام فہم بنانے کے لیے سرخیوں کا سہارا لیا گیا ۔ لیکن سرخیوں کی اس قدر بہتات ہوئی کہ اصل عبارت اس میں گم ہو گئی ۔ حج کے حوالے سے مولانا کے فہم کو سمجھنے کے لیے یہ ایک مفید تحریر ہے ۔ یہ تحریر کو اس کتاب سے ایک اقتباس بھی کہا جاسکتا ہے۔ (ادارہ)



بانی جماعت اسلامی سید ابو الاعلی مودودی جو کہ پاکستانی معاشرے میں کسی تعارف کے محتاج نہیں نے درج ذیل خطبات مئی ۱۹۶۳ء میں حج کے موقغ پر ۵، ۶ اور ۷ ذی الحجہ کو نماز عصر کے بعد حرم پاک میں زمزم کے مقام پر دئیے۔ پہلا خطبہ بیت اللہ اور اس جڑی الہی نشانیوں سے متعلق ہے جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسان زمانہ نبوی میں ہے اور تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا ہے۔دوسرے خطبے میں مودودی صاحب نے مناسک حج کے ظاہری اور باطنی مفاہیم پر روشنی ڈالی ہے جس میں احرام سے لے کر رمی جمرات کے مناسک اور قربانی بھی شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے خطبے میں فلسفہ حج اور اس کے ضمنی فوائد پر بات کی گئی ہے۔ خطبات میں موجود مطالب کی اہمیت کے پیش نظر ان خطبات کو قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ یہ مطالب سید ابو الاعلی مودودی اس عنوان سے شائع کردہ کتابچہ سے ماخوذ ہیں۔ (ادارہ)



تحریر:مولاناسید محمد عون نقوی 

یاد رکھو!  خدا تم پر رحم کرے کہ ’’حج‘‘ خداوند عالم کے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک اہم، واجب و لازم فریضہ ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جس کو وہاں جانے کی استطاعت حاصل ہو۔ یہ پوری زندگی میں صرف ایک بار واجب ہے۔ خداوند عالم نے اس (کی ادائیگی) پر گناہوں کی مغفرت  اور اس کے ثواب کے طور پر جنت کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ترک کرنے والے کو کافر کے نام سے یاد کیا ہے اور حج نہ کرنے والے کوجہنم کے عذاب کی خبر دی ہے۔ہم آتش جہنم سے خداوند عالم کی پناہ مانگتے ہیں۔امام رضا علیہ السلام کے اس قول کی مانند دیگر آئمہ علیہ السلام کے حج بیت اللہ کے حوالے سے منتخب اقوال پر مشتمل یہ مضمون قارئین پیام کے پیش نظر ہے۔یہ مضمون مولانا سید محمد عون نقوی کی کتاب عرفان حج سے ماخوذ ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ان دنوں اسلام کے بطل جلیل حضرت امام سید روح اللہ موسوی الخمینی کی اکتسویں برسی منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی جائے گی۔ ان کی زندگی ویسے بھی بڑی جامعیت کی حامل ہے اور ایک بڑی شخصیت کے اعتبار سے جس پہلو کی جانب نظر کریں، وہ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی پہلو کو دیکھا گیا ہے، حالانکہ ان کا سیاسی پہلو دینی عرفانی اور اخلاقی اور ملکوتی پہلوؤں سے پھوٹتا ہے۔



تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک مستند امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق امریکہ کے 16 خفیہ اداروں نے 82 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے جس کاعنوان’’بعدازاسرائیل، مشرق وسطیٰ کی تیاری ہے۔ان خفیہ اداروںمیں بدنام زمانہ سی آئی اے،ڈی ای اے،این ایس اے اور ایف بی آئی بھی شامل ہیں۔اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل کی صہیونی ریاست اب امریکی سلامتی اور امریکی معیشت کے لئے دنیامیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔اس رپورٹ پر امریکہ کے اعلیٰ ترین جمہوری و انتظامی و دفاعی ادارے غوروخوض کررہے ہیں۔رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی علاقائی،سیاسی اور معاشی حالات کا تفصیلی تجزیہ کرچکنے کے بعد مذکورہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔



تحریر: عماد ابو عواد

سنہ 1948ء میں فلسطین میں قیام اسرائیل کے منحوس اقدام کے بعد امریکا اور اور اس کے فوری بعد سابق سوویت یونین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 1950ء میں بھارت نے بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اس وقت کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون نے بھارت کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے ایک روز قبل کہا کہ ’بھارت سفارتی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کررہا ہے‘۔سنہ 1951ء میں بھارت نیاسرائیل میں اپنا قونصل خانہ قائم کر کے یہ ثابت کردیا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر کے فلسطینی قوم کے حقوق کے باب میں نئی پالیسی پر چلنا چاہتا ہے۔



تحریر: پولندہ نل

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ایک مشکل محلے میں پھنسا ہوا ہے لیکن حال ہی میں عرب دنیا کے کچھ ممالک سے اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔اکتوبر کے آخری دنوں میں اچانک ہی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمان کے سلطان سے ملنے پہنچ گئے۔



مرکز اطلاعات فلسطین

شیخ احمد یاسین شہید کے دست راست اور اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے دوسرے اہم راہنماء ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی شہید مقبوضہ شہر عسقلان میں 23 اکتوبر 1947ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے- ان کا خاندان 1948ء میں غزہ ہجرت کرگیا اور ان کی خان یونس مہاجر کیمپ میں مستقل سکونت اختیار کرلی- اس وقت ان کی عمر صرف 6 ماہ تھی- شیخ رنتیسی کے نو بہن بھائی تھے۔



مرکز اطلاعات فلسطین

ہر سال 22مارچ کا دن ہمیں سوگوار کرتا رہے گااس روز ہم اپنے مرشد اور مثالی قائد شیخ احمد یاسین سے جدا ہوئے تھے- فلسطین کے بچے بوڑھے جوان اور خواتین انکی عادات طاہرہ سے خوب واقف ہیں- یہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان اس مرد حق سے متعارف ہیں اور انکے القدس کی حفاظت کیلئے جاری جہاد کو اسلام کہ بہترین خدمت قرار دیتے ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کا ایک وفدشیخ کی برسی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہنچا،جہاں شہید کی یادیں خوشبو بن کر چہار سو بسیرا کئے ہوئے تھیں- انکا نرم و شیریں لہجہ اور حد درجہ محبت کی یاد میں ہر آنکھ اشکبار نظر آرہی تھی۔

تازہ مقالے