تحریر: سید حیدرنقوی
حضرت امام مہدیؑ کا وجود:
نجات دھندہ کا تصور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں میں موجود ہے۔یہ تصور اسلام سے قبل کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ اسلامی متون میںیہ تصور اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ اور اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث و روایات کی وجہ سے یہ تصور زیادہ واضح و روشن ہے۔ مسلمان اس نجات دہندہ کو  امام مہدیؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ مسلمانوں امام مہدیؑ کے بارے میں جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے کہ وہ بعض اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ امام مہدی علیہ السلام کاامام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونا ہے جبکہ کئی اہل سنت علماء اور مورخین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مہدیؑ اولاد امام حسین علیہ السلام میں سے ہیں اور وہ ان کی نویں نسل سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔



تحریر: سیدہ ندا حیدر
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔
(4 : ‎النساء‎،آیت :59)


 


یہ مضمون مولانا طارق جمیل کی کتاب گلدستہ اہل بیتؑ سے ماخوذ ہے۔

تحریر: مولانا طارق جمیل

حضرت حسینؓ نے کس مقصد کے لیے قربانی دی:
حضرت امام حسینؓ ایک عظیم مقصد کی انجام دہی کے لیے بے چین ہو کر مدینہ سے مکہ اور پھرکہ سے کوفہ جانے کے لیے مجبر تھے  اور جس کے لیے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل بیت کو قربان کرکے خود راہ حق میںقربان ہو گئے۔ واقعہ شہادت کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام تر سفر سے آپؓ کا مقصد یہ تھا:



ہجری سال1442 ء آغاز ہو چکا ہے۔ ہجری تقویم کی ابتداء ماہ محرم سے ہوتی ہے جو اہل بیت رسول ؐ اور ان کے پیروکاروں نیز محبین کے لیے غم و حزن کا مہینہ ہے ۔ ماہ محرم الحرام اور ماہ صفر امت رسول ؐ کے مابین ایام عزا کے طور پر معروف ہیں۔عرب معاشرے میں یہ مہینے حرمت والے مہینے تصور کیے جاتے تھے جن میں عرب قبائل جنگوں اور کشت و خون کا سلسلہ ترک کر دیتے تھے، تاہم واقعہ کربلا میں یہ روایت بھی ترک کی گئی اور خانوادہ رسول اکرم ؐ کو میدان کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاساتہ تیغ کر دیا گیا۔



تحریر: سید آصف نقوی

اس اہم ترین موضوع پر غور و فکر کے ساتھ مطالب کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آئمہ معصومینؑ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔ اس مقالہ میں ہم ان روایات میں سے چند ایک کا ذکر کرکے ان سے جو مفاہیم اخذ کیے جاسکتے ہیں، ان کو بیان کریں گے۔
۱) امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ ’’یقوم القائم ولیس لأحد فی عنقہ عھد ولا عقد ولا بیعۃ۔‘‘(الغیبۃ،ص؍۸۹) ’’جب قائمؑ ظہور کرے گا تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔‘‘



تحریر: سید آصف نقوی

پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ ”حجۃ الوداع“ کے مراسم جس قدر باوقار اور باعظمت ہوسکتے تھے، وہ پیغمبر اکرمﷺ کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے، سب کے دل روحانیت سے سرشار تھے، ابھی تک ان کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذت کا ذائقہ محسوس کر رہی تھی۔ اصحاب پیغمبرؐ کی کثیر تعداد آنحضرتؐ کے ساتھ اعمال حج انجام دینے کی عظیم سعادت پر بہت زیادہ خوش نظر آرہے تھے۔ پیغمبرؐ کے ساتھیوں کی تعداد بعض کے نزدیک 90 ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بارہ ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ نہ صرف مدینہ کے لوگ اس سفر میں پیغمبرؐ کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصوں کے مسلمان بھی یہ عظیم تاریخی اعزاز و افتخار حاصل کرنے کے لئے آپؐ کے ہمراہ تھے



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسئلہ کشمیر
تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصول کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔ شروع ہی سے برطانیہ اور کانگرس کی ملی بھگت سے آزادیٔ کشمیر کا طے شدہ مسئلہ  الجھ کر رہ گیا۔ فوجی مداخلت کے ذریعے بھارت نے کشمیر کے وسیع حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ آج بھی کشمیرکا ایک حصہ آزاد ہے مگر بیشتر حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میںہے جس کے نتیجے میں کشمیر کے مظلوم عوام ہر لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام خاص طور پر اپنی آزادی کی طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں پیش کر چکے ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


نظام حکومت
اسلامی نظام حکومت کی بنیادیہ ہے کہ حق حاکمیت اصالتاً صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص، طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا، لیکن انسان باذن خدا



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اس پس منظرمیں ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ کہ:
پاکستان میں جدوجہد اور جنگ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جنگ کس کے خلاف ، کس کی حمایت میں کس کس کو، کس انداز سے لڑنا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسائل کا آغاز
لا الہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرض وجود میں آ گیا لیکن اس نوزائیدہ  مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور موثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خطر سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طور پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شاید حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام  امور مملکت میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوںمیں جو چاہیں کر سکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا

تازہ مقالے