تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔



تحریر: نثار علی ترمذی
مذکورہ بالا عنوان خود مولانا مودودیؒ نے تجویز کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔ واقعی یہ ایک فتنہ ہے جس سے امت محمدی اس وقت دوچار ہے ۔خصوصاً پاکستان کے بسنے والے سب مسلمان اس فتنے کی زد میں ہیں۔ اگر یہ فتنہ زبانی حد تک ہوتا تو شاید یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہ تھا ۔ مگر اب تو یہ فتنہ ناسور بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی زد میں ہرسن و سال کے لوگ اور ہر مبارک اور متبرک جگہ آ چکی ہے کہ جہاں سے امن و آشتی اور صلح جوئی کی آوازیں اٹھنی تھیں وہاں سے اب ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اعلانات ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مال و اسباب اور ناموس کو لوٹنے کے علاوہ قتل و غارت گری کے منصوبے بنتے بھی ہیں اور عمل بھی ہوتا ہے۔ اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو مسلمان بنائیں جبکہ ان کے امتی ان کے نام پر مسلمانوں کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک مومن کا خون حرم محترم کے تقدس سے بالاتر تھا  جبکہ آج ایک مومن کا خون اس بے دردی سے بہایا جاتا ہے کہ سرزمین پاک اب لہو لہان ہو چکی ہے۔ یہ خون مسلمانوں کا خون ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا ہے۔ نہ جانے یہ لوگ روز قیامت اپنے نبیؐ کو کیا منہ دکھائیں گے۔



محرم الحرام جو قمری سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ شہادت امام حسین علیہ السلام کےحوالے سے ایک خصوصی نسبت کا حامل مہینہ ہے میں عموما تمام مسلمان مل کر نواسہ رسول ؐ کا غم مناتے ہیں۔ عاشقان اہل بیت اس غم کو منانے کے لیے اپنے اپنے انداز اور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ کہیں مجالس برپا ہوتی ہیں ، تو کہیں کانفرنسیں اور محافل منعقد کی جاتی ہیں ، کوئی تعزیہ نکالتا ہے تو کوئی سبیل و نیاز کا اہتمام کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک جانب بہت سے ہندو ، مسیحی اور دیگر ادیان کے ماننے والے بھی اس مناسبت کو اپنے انداز سے مناتے ہیں ۔ اس ہم آہنگی اور یک رنگی کی فضا کو عموماملک میں موجود بعض شدت پسندوں اور غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے نظر لگتی ہے جس سے نفرتیں پورے معاشرے پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔



تحریر: سیدہ ندا حیدر
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔ (4: ‎النساء‎، آیت: 59) اطاعت بالذات اللہ کی ہوتی ہے، رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے لیے واحد ذریعہ اور سند ہے۔ اولی الامر کی اطاعت رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے اس اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت پر عطف کیا ہے۔ اولی الامر سے مراد آئمہ اہلِ البیت علیہم السلام ہیں۔ جس طرح رسولؐ کی ہر بات وحئ الٰہی کے مطابق ہوتی ہے، بالکل اسی طرح آئمہ اہل البیت علیہم السلام ہر بات سنت رسولؐ کے مطابق کرتے ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: میری حدیث میرے پدر بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث میرے جد بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث رسول خدا ؐکی حدیث ہے۔ (بحار الانوار 2: 179) چنانچہ رسول اللہؐ نے متعدد احادیث میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے بعد کن کی طرف رجوع کرنا ہو گا:

 



تحریر: سید حیدرنقوی
مقالہ کے حصہ اول میں ہم نے اہل سنت منابع کی روشنی میں "امام مہدیؑ، امام حسن ؑ کی نسل سے" پر گفتگو کی۔ اس سلسلے میں اہل سنت اکابر علمائے کرام، فقہاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کیے گئے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ مقالہ کے اس حصے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ مختصر طور پر رسول اکرمﷺ کے خلفاء کے سلسلے کو بھی بیان کرتے چلیں کیونکہ علماء، محققین اور مورخین کے کئی ایسے اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور اسی طرح امامؑ کے تمام اجداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ رسول اللہﷺ کے جانشینوں کا ذکر کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، امام حسن ؑ یا امام حسینؑ کی نسل مبارک سے ہیں۔



کتاب کا تعارف
تحریر: ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام محبوب خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی نسبت سے ساری امت کو محبوب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ان کے حضور محبتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اوراسلام کے لیے ان کی عظیم قربانی کو دین مبین کی بقا کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ہم اسلام ٹائمز کے ناظرین کی خدمت میں اہل سنت کے متعدد اکابر و نامور علما کی امام حسین علیہ السلام سے محبت کے اثبات کے لیے ان کی لکھی ہوئی کتابوں کا تعارف پیش کر چکے ہیں۔ پیش نظر سطور میں ہم معاصر شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت کی کتاب کا تعارف پیش کررہے ہیں جو بلند مرتبہ صوفی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ خاندان حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ سے نسبت کی وجہ سے پاکستان کے عامۃ المسلمین میں ایک خاص محبوبیت رکھتا ہے۔ خود حضرت سلطان العارفین ؒکے بعض اشعار امام حسین علیہ السلام کے بارے میں زبان زدخاص و عام ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:



تحریر: ڈاکٹر سید مقیل حسین میاں
تعارف:
سید موصوف نے واقعہ کربلا پر طویل مرثیے لکھے ہیں جن میں ایک مرثیہ ایک سو تینتیس ابیات اور دوسرا دو سو تینتیس ابیات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے میدان کربلاء کے مختلف حالات،کیفیت شہادت امام مظلوم ؑ اورحضرت جبرئیلؑ کا خبرشہادت کو مدینہ میں حضور سرور کونینؐ اور مخدومہ کونین سلام علیھا کی بارگاہ میں لے آنا اور ارواح پنجتن پاکؑ کی کربلاء آمد کو احسن انداز میں قلم بند کیا ہے۔ سید میر انور شاہؒ نے اپنے پیر ومرشد امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کی شہادت پر دوسو تہتر ابیات پرمشتمل ایک  کلام ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ نے امام روؤف کے حالات و کرامات ، مدینہ چھوڑنے ، مشہد(ایران) آمد اور یہاں مامون عباسی کا امام کے برتاؤ اور پھر امام کی شہادت پر فرزند امام حضرت امام محمد تقی ؑ کا معجزہ کے ذریعے مدینہ سےمشہد آنا اور بابا کے صحابی خاص حضرت ابوصلتؒ کے ساتھ مل کر اپنے بابا علی ابن موسیٰ رضاؑ کی تجہیز وتکفین کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 



تحریر: سید اسد عباس
مقدمہ:انسانی تاریخ اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے  چاہے جس قدر نئے ہوں، اکثر ایسے حادثات یا واقعات کی نظیر تاریخ انسانیت میں ضرور ملتی ہے تبھی تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ انسانی تاریخ میں خون ریزی کا پہلا واقعہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہے۔ آج بھی انسانی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والا ہر بے گناہ مقتول ہابیل کی یاد تازہ کرتا ہے اور قاتل قابیل کے کردار کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔  اسی طرح بعض تاریخی واقعات اور حادثات نہ فقط انسان کی انفرادی روش سے متعلق ہوتے ہیں بلکہ یہ واقعات نسل انسانی کی منزل اور سمت کے تعین میں بھی راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا، اس کی وجوہات، پس منظر ، اثرات اور امام حسین علیہ السلام کے اقدامات بھی انسانی تاریخ کی ایسی انوکھی مثال ہیں جس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں نے راہنمائی لی۔ اس عظیم سانحہ کے بعد جب بھی کوئی انسان ایسی مشکل سے دوچار ہوا جہاں اسے اصولوں اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا تو امام حسین علیہ السلام کا اسوہ ہمیشہ ایک معیار کے طور پر اس شخص کے پیش نظر رہا۔

تازہ مقالے