سید ثاقب اکبر نقوی

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ آشکار ہوا تو عالم اسلام میں ایک ردعمل پیدا ہوا۔ امارات کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ترکی نے بھی اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ اس کے بعد محرم الحرام آگیا اور حسب معمول امام حسینؑ اور ان کے اعوان و انصار کی یاد میں مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران میں صہیونی اور استعماری قوتوں نے اپنا کھیل جاری رکھا۔ سعودی عرب سے پرواز کرکے اسرائیل کا پہلا طیارہ امارات میں اترا۔ اس سے پہلے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سربراہ نے بھی امارات کا دورہ کیا اور اب اس امر کی تیاری ہو رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید امریکی صدر ٹرمپ کی خدمت میں پہنچیں اور مل کر اس دستاویز پر دستخط کریں، جس کے نتیجے میں امارات باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان ایک آزاد خود مختار اسلامی ریاست ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں معرض وجود میں آئی۔ اس کے قیام کا ایک بنیادی مقصد اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک جدید فلاحی ریاست قائم کرنا تھا تاکہ تمام عالم اسلام کے لیے اسے نمونہ اور مثال بنایا جاسکے۔ اس کی روح میں اسلامی اتحاد اور عالم اسلام کے وقارو استقلال کی بحالی کا جذبہ کارفرما تھا۔یہی وجہ ہے کہ اول روز سے ہی پاکستان کا موقف دشمنان اسلام کی شرانگیزیوں کے مقابلے میں عالم اسلام کے اتحاد پر مبنی رہا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

14 اگست کو جبکہ پاکستان کے عوام یوم آزادی منا رہے تھے، متحدہ عرب امارات نے فلسطینی مسلمانوں پر قید کی زنجیریں مزید کسنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر فلسطین سے لے کر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا آفیشل ردعمل جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کی طرف سے آیا، جنھوں نے منصورہ لاہور میں خطبہ جمعہ کے دوران میں کہا: ”ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔



 
سید اسد عباس

1902ء میں عبد العزیز نے ریاض کے گورنر کو ایک چھاپہ مار کارروائی میں قتل کرکے ریاض پر قبضہ کر لیا اور امیر نجد و امام تحریک اسلامی کا خطاب اختیار کیا۔ یہ وہ دور ہے، جب برطانیہ ترکوں کے خلاف رزم آراء تھا، ترک برطانوی حملوں کے سبب اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ نہ دے سکتے تھے۔ 1915ء میں آل سعود کے تیسرے دور حکومت کے موسس شاہ عبد العزیز نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ درین کیا، جو کہ تاروت جزیرے کے علاقے درین میں ہوا۔ اس معاہدے پر ملکہ تاج کی جانب سے سر پرسی کاکس نے دستخط کیے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات کا پاکستان کو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ۔ یہ بحث سعودی عرب کے مختلف مطالبات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے روابط نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور کشمیر کے بارے میں اس کی سرد مہری نے خاموش لبوں کو بھی حرکت دے دی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے سینیئر سفارتکار شمشار احمد نے DW کو انٹرویو دیتے ہو کہا کہ ”سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلم امہ کا رہنما ہے، لیکن اس نے مسلم امہ کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔؟ سوڈان اور انڈونیشیا کو توڑ دیا گیا۔ کشمیر میں لاکھوں افراد کو ایک بڑے زندان میں بند کیا ہوا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تجزیہ کار کئی روز سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے بارے میں بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بہت بڑی شفٹ اور تبدیلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بعض سادہ اندیشوں کی رائے میں یہ بیان صرف سعودی عرب کو کشمیر کے موضوع پر او آئی سی کے تحت وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کے لیے دباﺅ کی خاطر دیا گیا ہے۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
گذشتہ قسط میں ہم نے کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ ایک سال میں کیے گئے چند اقدامات کا تذکرہ کیا، درج ذیل تحریر انہی اقدامات کے بیان کا تسلسل ہے۔ معروف کشمیری صحافی پیرزادہ مدثر شفیع جیلانی کے مطابق قابض حکام نے حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی تعمیراتی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت کسی بھی علاقے کو ”اسٹریٹجک" نوعیت کا علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے، جہاں بھارتی فوج بلا رکاوٹ تعمیرات کرنے کے علاوہ دیگر سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے اور اس کے لیے اسے انتظامیہ سے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔



 
سید اسد عباس

بھارت پر حاکم انتہاء پسند ہندو جماعت بی جے پی نے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی راہ میں حائل بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو یعنی ایک برس قبل ختم کیا، اگرچہ یہ دفعات بھی کشمیریوں کے اطمینان کے لیے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں، جو غیر قانونی ہی تھیں، تاہم اس سے کشمیر کے باسیوں کو کم از کم یہ تحفظ حاصل تھا کہ باہر سے کوئی ہندوستانی باشندہ آکر ان کی ریاست میں زمین نہیں خرید سکتا یا مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنے کا کوئی حربہ بروئے کار نہیں لایا جاسکتا ہے، تاہم اب ہندوستان کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

جب کبھی مسلمان خاص طور پر عرب فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں بظاہر سنجیدہ تھے، بھارت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مخفی رکھے ہوئے تھا۔ اب فلسطینی حقوق کے دعویدار عرب اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسی صورت حال میں بھارت کو اسرائیل سے اپنے خفیہ مراسم اور دیرینہ آشنائی کو چھپانے کی کیا ضرورت پڑی ہے، لہذا بات اب سر بام آگئی ہے۔



 
سید اسد عباس

تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ آج کل خبروں اور شہ سرخیوں کا حصہ ہے، جسے پنجاب اسمبلی نے بڑے اوچھے انداز سے منظور کیا اور اب اطلاعات کے مطابق اسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور شاید مناسب ترامیم کے ساتھ اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔ سیانے کہتے ہیں کہ انسان ایسا کام کرے ہی کیوں جس پر اسے بعد میں پچھتانا پڑے۔ مذہبی بالخصوص مکاتب کے عقائد و نظریات کی حساسیت اس نوعیت کی نہیں ہوتی کہ ان کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے