سید ثاقب اکبر نقوی

”کرونا“ اگرچہ ایک عالمگیر وبا و ابتلا کی صورت میں دنیا میں رونما ہوئی ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔ اس عالمی وباء کے دوران میں ایسے ایسے معنوی و مادی حقائق سامنے آئے ہیں، جو اس سے پہلے اتنے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کرونا کے دوران میں سرحدیں بے معنی ہوگئیں ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پا در ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتاؤ کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت سے مقامات پر اس کی حشر سامانیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور بعض علاقوں میں اس کے لوٹ آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
 



 
سید ثاقب اکبر نقوی


یہ بات تو دشمنوں نے بھی سرعام کہہ دی ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے سب سے آسان اور سستا ہتھیار فرقہ واریت ہے اور فرقہ واریت کی آگ تکفیریت کے تیل سے مزید شعلہ ور ہوتی ہے۔ پھر تکفیریت شدت پسندی کا روپ دھارتی ہے تو داعش، القاعدہ، بوکو حرام، جبھۃ النصرہ، لشکر جھنگوی وغیرہ جیسے ناموں سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ پھر نہ وہ دائیں پہلو کو چھوڑتی ہے نہ بائیں پہلو کو۔ اسی کو کہتے ہیں اسلام کا گلا اسلام کے نام سے کاٹنا۔ کسی نے کہا کہ امام حسین ؑ کو ان کے ناناؐ کی تلوار سے شہید کیا گیا۔ یعنی ان کے ناناؐ کا کلمہ پڑھنے والوں نے انھیں تہ تیغ کر دیا۔ ایک شاعر نے اسی بات کو موزوں کیا ہے:



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو بھی تبدیل نہیں کرسکتے اور شاید ایک دوسرے کی آراء کو بھی نہیں بدل سکتے لیکن مختلف آراء کی بنیاد پر جنگ و جدل کرسکتے ہیں اور تاریخ میں کرتے چلے آرہے ہیں، جبکہ کئی صدیوں سے دونوں گروہوں پر مشترکہ طور پر غیر مسلم حکومت کر رہے ہیں۔ عصر حاضر میں ”خلیفہ ٹرمپ“ کی حکومت ہے۔ یہ خلافت انھیں 21 مئی 2017ء کو ریاض میں 54 مسلمان ممالک نے مل کر پیش کی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے چند ایک اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگر ان کو تجاویز کے بجائے احکامات قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27 نکات میں سے پاکستان 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرچکا ہے جبکہ 13 مزید نکات پر اسے عمل کرنا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والے پاکستانی معاشرے اور اس کے مسائل کو ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں، تبھی تو پاکستانی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دنیا پر حکومت کا نیا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دنیا کے معاشی ادارے دنیا میں کاروبار، پیسے کی نقل و حمل، معاشی بے ضابطگیوں اور جرائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا نظام درج بالا شعبوں میں کمزور ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہیں، جس کے سبب دنیا کے معاشی ادارے، بینک اور ممالک اس ملک سے کاروبار نہیں کرتے یا اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس فورس کی ایک لسٹ بلیک لسٹ بھی ہے، جس میں ایران اور شمالی کوریا ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں بہت سے دانشور، علماء اور تجزیہ کار موجودہ فرقہ واریت کے مختلف اسباب پر اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ فرقہ واریت کی موجودہ لہر کے پیچھے سی پیک کے مخالفین کا ہاتھ ہے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم لگتی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے ایک میجر کی جو وڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں وہ واضح طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے اپنا منصوبہ بیان کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے دن ہی سے سی پیک کا مخالف چلا آرہا ہے اور امریکا بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سی پیک جسے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کہا جاتا ہے، کی مخالفت میں بھارت اور امریکہ کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے



 
سید اسد عباس

بی بی سی اردو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سائٹ ہے، جو برطانوی حکومت کے زیر اثر ہے اور انہی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتی ہے۔ میں کافی عرصے سے بی بی سی اردو کا قاری ہوں اور ان کی خبروں، تجزیات کو بغور دیکھتا ہوں۔ بی بی سی اردو میں لکھنے والے اگرچہ سب پاکستانی ہیں، تاہم ایڈیٹر برطانوی نشریاتی ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اپنے مطالعہ کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ بی بی سی مسلمانوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی رپورٹیں جہاں دلچسپ ہوتی ہیں، وہیں ان کے اندر ایسا مواد موجود ہوتا ہے، جو اردو دان طبقہ کے مابین کسی نئی بحث کا آغاز کر دے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔



تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے