سید ثاقب اکبر نقوی

علامہ اقبال عالمی سطح کے ایک مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس دور کی عالمی حرکیات کو پہچانا، ان کی ماہیت کو سمجھا، سماج پر اس کے اثرات پر گہری نظر ڈالی اور انسانی معاشرہ مستقبل میں کس سمت کو اختیار کرے گا، کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انھوں نے جہاں مغربی تہذیب کا تجزیہ کیا اور اس کی اٹھان اور تشکل میں سرمایہ داری نظام کی کارفرمائی کا جائزہ لیا، وہاں اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشتراکیت کو بھی اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان دونوں اقتصادی اور سماجی نظاموں، نیز ان کے تصور کائنات کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا، جو یقینی طور پر ان کے فہم اسلام سے ماخوذ ہے۔ اس کے لیے ان کی فکر کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (9 نومبر 2020ء) علامہ اقبال کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ وہ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں حکیم نور محمد کے ہاں متولد ہوئے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ آج ایک عام مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کل کو اپنے دور کے نوابغ میں شمار کیا جائے گا۔ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مصور پاکستان اور دانائے روزگار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ جس دور میں تشریف لائے، برصغیر انگریز سامراج کی غلامی سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار ہمہ گیر بھی ہوچکا تھا اور گہرا بھی۔ عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا اور رہا سہا مسلم اقتدار زلزلوں کی زد میں تھا۔ علامہ اقبال کے دیکھتے دیکھتے ترکوں کی عثمانی خلافت زمین بوس ہوگئی۔ انھوں نے اپنی جوانی میں جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند پورے عالم کو متاثر کر رہی تھی۔ افکار کہنہ لرزہ براندام تھے۔ سائنس اور کائنات کے مادی تصور کی بنا پر تشکیل پانے والی مغربی تہذیب نئی نسلوں کے ذہنوں کو مسخر کر رہی تھی۔ صدیوں سے رائج تصورات و افکار ایک بڑے چیلنج کے سامنے دفاعی حیثیت سے کھڑے تھے۔



 
سید اسد عباس

امریکہ کے حالیہ انتخابات متنازعہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے درخواستیں دائر ہوچکی ہیں۔ مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ امریکی آر ٹی ایس سسٹم جو کرونا کے سبب ڈاک ووٹ پر مشتمل تھا، فلاپ ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں بائیڈن آتا ہے یا ٹرمپ دونوں اس صورتحال میں نہیں ہونگے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں سے تجاوز کرسکیں اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں۔ میں تو کہوں گا کہ بائیڈن اور ٹرمپ دونوں یہ انتخاب ہار چکے ہیں اور امریکی اسٹیبلشمنت جسکا بڑا حصہ صہیونیوں پر مشتمل ہے کامیاب ہوچکی ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکہ میں کل (3 نومبر2020ء) کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دو بوڑھے پہلوانوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ریپبلکن کے نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گذشتہ چار سال میں اپنے سارے ہنر دکھا چکے ہیں اور دوسری طرف ڈیموکریٹس کے کہنہ کار امیدوار جوبائیڈن ہیں، جو باراک اوبامہ کے دور میں ان کے نائب رہ چکے ہیں اور افغان امور سے گہری شناسائی رکھتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں کی داخلہ پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن بین الاقوامی سیاست کے اہم مسائل پر ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان انتخابات پر ہمارا میڈیا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پوری دنیا میں ان دنوں عید میلاد النبی ؐ کی تیاریاں ایمان افروز ولولوں کے ساتھ جاری ہیں اور دوسری طرف وہ سرزمین جہاں پر انسانیت کو آزادی اور مستضعفین کو نجات بلکہ حکمرانی کی بشارت دینے والے نبی ؐتشریف لائے یعنی سرزمین عرب، وہاں کے حکمران یکے بعد دیگرے عالمی صیہونزم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے عرب ملک کے سرنگوں ہونے کی وحشتناک خبر آرہی ہے۔ اس میں عجیب ترین پہلو شاید یہ ہو کہ سعودی عرب اور اس کے اردگرد موجود ریاستوں خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے مذہبی راہنماؤں کی جانب سے دنیا بھر میں توحید پرستی کا غلغلہ رہا ہے اور وہ بات بات پر مسلمانوں میں رائج بعض مذہبی مظاہر کو شرک کے مظاہر قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

جیسا کہ ہم نے اپنی گذشتہ تحریروں میں اعداد و شمار اور امریکی دانشوروں اور ماہرین کے اقوال کے ذیل میں دیکھا کہ امریکی ریاست، سیاست اور فوجی طاقت کے زوال کا عندیہ تقریباً ہر پیرائے سے عیاں ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال کرونا کے دوران امریکہ میں میڈیکل پراڈکٹس کی پیداواری صلاحیت کی کمی ہے، جس کے لیے یا تو امریکہ کو پیداوار بڑھانی تھی یا پھر ان مصنوعات کو چین سے درآمد کرنا تھا۔ چین گذشتہ کئی برسوں سے امریکی منڈی سمیت اینٹی بائیوٹکس کے خام مال کی برآمد میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ چین نالج شیئرنگ، طبی سامان، عملے اور مالی اشتراک سے پوری دنیا کو اپنی کثیر الجہتی سفارتی امداد میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ 



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔



 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ویسے تو گذشتہ کئی برس سے اربعین حسینیؑ کے موقع پر پوری دنیا سے عشاق کشاں کشاں کربلا میں پہنچ رہے تھے، دل و دماغ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ یہ کسی نئے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ کروڑوں انسان امام حسینؑ کی خدمت میں سلامِ نیاز پیش کرنے کے لیے جس والہانہ انداز سے گوشہ و کنار عالم سے اکٹھے ہو رہے تھے، انسان کو حیرت زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ پھر اس کے ساتھ مشی اور اربعین واک کے سلسلے، بات کچھ زیادہ ہی آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کئی کئی دن پیدل چل کر خواتین و حضرات روز اربعین حسینؑ سید الشہداء کی بارگاہ میں عرض ادب اور اظہار عقیدت کے لیے پہنچتے تھے۔



 
سید اسد عباس

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو قرہ باخ کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر خونریز جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔ نگورنو قرہ باخ کا تنازعہ نیا نہیں 1918ء میں روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو اسی وقت دنوں ممالک کے مابین نگورنو قرہ باخ کا علاقہ متنازع ہوگیا۔ سوویت یونین کے زمانے میں یہ علاقہ آذربائیجان کی انتظامیہ کے تحت ایک خود مختار علاقہ قرار پایا۔ جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا، ایک مرتبہ پھر نگورنو قرہ باخ کے مسئلہ نے سر اٹھایا، جو کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ اور پھر امن معاہدے پر منتہی ہوا۔ 2016ء میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ نفوس پر محیط تھی۔
 

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے