الجمعة, 25 دسمبر 2020 23:29


 
سید ثاقب اکبر نقوی

سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت اگرچہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اتر چکی ہے اور انھیں بجا طور پر ’’سردار دلہا‘‘ یعنی دلوں کا سردار کہا جاتا ہے، تاہم ہماری رائے یہ ہے کہ ابھی تک دنیا سردار قاسم سلیمانی کو دریافت کرنے کے مرحلے میں ہے۔ ایک عظیم عبقری اور روحانی شخصیت کے پرت رفتہ رفتہ ہی کھلتے ہیں اور پھر قرنوں پر پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ قاسم سلیمانی بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔ شہید آیت اللہ سیدباقر الصدرؒ نے امام خمینیؒ کے بارے میں فرمایا تھا: ’’امام خمینی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علیؑ ایک شخص نہ تھے، جو تاریخ میں آئے اور چلے گئے بلکہ ایک شخصیت تھے جو آج بھی زندہ ہے۔‘‘ دنیا میں جب بھی بڑی شخصیات ظہور کرتی ہیں تو ان کے دمِ مسیحائی سے اور بھی بہت سے بڑے انسان ظاہر ہوتے ہیں۔


امام خمینیؒ کے ساتھ اور ان کی تحریک کے نتیجے میں جس درجے کی بڑی شخصیات سامنے آئی ہیں، وہ عصر حاضر میں ہمارے اس دعوے کی دلیل ہیں۔ یہ سلسلہ ان کی قیادت میں آنے والے انقلاب کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔

ہم ماضی میں بھی ایسی بہت سی مثالیں پیش کرسکتے ہیں، تاہم اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے بالآخر وعدہ الٰہی کے مطابق پوری دنیا پر غالب آکر رہنا ہے، اس لیے بھی اس کی جامع تعلیمات کے نتائج مختلف صدیوں میں نکلتے رہے ہیں اور عالمی سطح کی بڑی شخصیات سامنے آتی رہی ہیں۔ آپ کے اہل بیت اطہارؑ اور عظیم المرتبت صحابہؓ کے بعد بھی اسلامی تاریخ میں نوابغ کی کمی نہیں رہی۔ البتہ جامع شخصیات کبھی کبھی سامنے آتی ہیں۔ سردار قاسم سلیمانی بہت جہت دار روشن دماغ، عمیق روح، عصری علوم سے آگاہ اور انسان دوست شخصیت ہونے کے اعتبار سے رفتہ رفتہ معرض شناخت میں آرہے ہیں۔ جہاد، استقامت، شہامت، منصوبہ بندی اور دشمن شناسی میں وہ پوری تاریخ کے کم نظیر جرنیلوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں۔ شوق شہادت ان کے پورے وجود سے آشکار تھا، ان کی زندگی کے واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ ان کا دل اس شوق سے کبھی بھی خالی نہیں رہا اور اس شوق کے بغیر وہ کسی معرکے میں نہیں اترے۔

شاید ان افراد کو شمار نہیں کیا جاسکتا، جن سے انھوں نے اپنی اس تمنا کے پورا ہو جانے کے لیے ’’التماس دعا‘‘ نہ کہا ہو۔ انھوں نے کسی بڑی ہستی کی ضریح کو بوسہ دیتے ہوئے اپنی اس تمنا کے اظہار میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ آخری دنوں میں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ یہی آرزو لیے کبھی کسی بڑی شخصیت کے پاس جاتے ہیں اور دعا کی التجا کرتے ہیں اور کبھی کسی دربار پر حاضر ہو کر مقام شہادت تک پہنچنے کے لیے فریاد کناں ہوتے ہیں۔ یہ آرزو اتنی پختہ، گہری، سچی اور عظیم تو تھی کہ آپ کو جو شہادت کا درجہء رفیعہ حاصل ہوا، وہ اپنی مثال آپ بن گیا۔ دنیا کے سب سے بڑے شیطان نے آپ کے قتل کا حکم صادر کیا اور پھر اس کا اعلان بھی کیا۔ چھوٹے چھوٹے شیطانوں کا کسی مجاہد کو قتل کرنے کا فیصلہ تو ہوتا ہی رہتا ہے، لیکن مجاہد کی عظمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دور حاضر کی سب سے بڑی طاغوتی قوت کا طاقتور ترین آدمی یہ اعلان کرتا ہے کہ قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم میں نے دیا تھا۔

بعید نہیں کہ وہ جو وائٹ ہائوس سے چمٹا رہنا چاہتا ہے اور اس سے باہر نہ آنے کے لیے سو سو حیلے کرتا پھرتا ہے، اس پر اسلام کے اسی بطل جلیل کی شہادت نے خوف طاری کر رکھا ہو، جس کا وہ اظہار نہیں کرپا رہا اور ابھی وائٹ ہائوس میں مزید پناہ گزین رہنا چاہتا ہے اور امریکی صدر کو حاصل اختیارات اور سکیورٹی اپنی حفاظت کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اگر ہم تک ایران کے روحانی پیشوا جنھیں بجا طور پر ’’مرشد دلہا‘‘ کہا جاسکتا ہے کا خطبہ پہنچ گیا ہے، جو انھوں نے ’’سردار دلہا‘‘ کی پہلی برسی کی مناسبت سے ایک پروگرام میں دیا ہے تو ہم سے پہلے یقیناً وائٹ ہائوس کے پناہ گزین تک پہنچ چکا ہوگا، جس میں انھوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ جس شخص نے سردار قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا ہے، اس سے بدلہ لیا جائے گا۔

اس بدلے کا آغاز تو شہادت سے چند روز بعد ہی ہوگیا، تھا تاہم امام خامنہ ای نے بات واضح کر دی ہے کہ اگرچہ خطے سے امریکہ کو نکالنا بھی شہید قاسم سلیمانی کے انتقام کا حصہ ہے، تاہم قتل کا حکم دینے والے سے بدلہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید دنیا میں اگرچہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے کہ دو ملکوں کے اہم حاضر فوجی افسروں کو کسی اور ملک کا صدر حکم دے کر قتل کروا دے، لیکن یہ واقعہ بڑے بڑے عالمی واقعات کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے اور ابھی بنے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ 3 جنوری 2019ء کی سحری کو ہونے والا واقعہ ایک نئے عالمی انقلاب کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے چند روز بعد راقم نے ملی یکجہتی کونسل کے ایک وفد کے ہمراہ ایران کا دور ہ کیا تھا، اس موقع پر راقم نے اپنے جو تاثرات رقم کیے تھے، ان میں سے چند جملوں کا ذکر یہاں مفید معلوم ہوتا ہے:

’’ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادیں تو وہی ہیں لیکن تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں۔ رفتار کچھ تیز ہوگئی ہے۔ اثرات کا پھیلائو وسعت اختیار کر رہا ہے۔ چشمۂ زمزم ہے جو امام خمینیؒ کے دور میں پھوٹا اور اب اس کا آب مصفیٰ زیادہ قوت اور زیادہ دبائو سے نکل رہا ہے۔ وفد جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں آیا ہے۔ اس میں پاکستان کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ شیعہ ہیں، سنی (بریلوی) ہیں، سنی دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں لیکن لگتا نہیں کہ مختلف ہیں۔ سب ایک ہیں اور ایک مکتب فکر اسلامی و انقلابی رکھتے ہیں اور وہ ہے نبی اعظمؐ کے نام کی دنیا بھر میں سربلندی اور قرآن و رسولؐ کے دشمنوں کے مقابل مل کر جدوجہد کرنے کا عزم۔ نیا انقلاب جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے شروع ہے۔ پہلا موقع ہے کہ کسی کے قتل ناحق کی ذمہ داری بلاواسطہ امریکی صدر نے قبول کی ہے۔ طاغوتی قوتوں کا سرغنہ جب خود کسی کے قتل کو اپنے ذمے لے تو پھر مقتول کی عظمت کا اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے۔

اگر عوامی ردعمل جو عراق، ایران اور دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے، رونما نہ ہوتا تو "اندازہ" کا لفظ مناسب ہوتا، لیکن امریکی استبداد اور ظلم کے خلاف عوامی سیلاب تو چشم فلک نے دیکھا اور ساری دنیا کو اس کی خبروں سے بھر دیا۔ ہمارے ساتھیوں میں اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل پیر سید محمد صفدر گیلانی، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی، ہدیۃ الہادی کے نائب رہبر جناب رضیت باللہ، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے چیف آرگنائزر مولانا جناب مقصود احمد سلفی اور جمعیت علماء اسلام (سینیئر) کے جناب طاہر حبیب بھی ہیں۔ سب بدلی ہوئی دنیا کا تماشا کر رہے ہیں۔ حیرت خیز اور تعجب انگیز مناظر ہیں کہ آنکھوں میں ٹھہرتے جا رہے ہیں۔ انقلابی قائدین کی باتیں ہیں کہ حقائق کے پرت کھول رہی ہیں۔ قوم کا عزم ہے کہ سیل رواں کی شکل اختیار کرتے جا رہا ہے۔‘‘

اس کے بعد سے تاریخ نسبتاً تیز رفتاری سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندہ قاسم سلیمانی جسے ان کی زندگی میں ہی ’’شہید زندہ‘‘ کا خطاب دے دیا گیا تھا، شہید ہو کر دشمنوں کے لیے زیادہ خوف کا باعث بن گئے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ان کا نام بھی فیس بک پر گوارا نہیں کیا جاتا۔ میں ایسے سینکڑوں افراد کو جانتا ہوں، جن کا فیس بک اکائونٹ یا ختم کر دیا گیا یا کچھ عرصہ کے لیے اس میں کوئی پوسٹ لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی، صرف اس لیے کہ انھوں نے شہید قاسم سلیمانی کے لیے اپنی محبت کا کسی انداز سے اظہار کیا تھا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ شہید ہو کر بھی بہت طاقتور ہیں اور دشمنوں کی نیند اڑا دینے کے لیے موجود ہیں۔ ایک سال کے اندر ان کے لیے جتنے مقالات لکھے گئے، جتنے انٹرویوز نشر ہوئے، جتنے پروگرام منعقد ہوئے، جتنے سیمینار کیے گئے اور جتنی کتابیں لکھی گئیں، وہ سب حیرت میں ڈال دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور جوں جوں ان کی پہلی برسی نزدیک آرہی ہے، پوری دنیا میں استعمار شکن جذبے زیادہ پرورش پاتے ہوئے دکھائے دے رہے ہیں۔ حق کے ساتھ وابستگی ولولوں کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ ایک عالمی انقلاب کی دستک پہلے سے زیادہ افراد تک پہنچ رہی ہے۔

 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




بشکریہ : اسلام ٹائمز
Read 264 times

تازہ مقالے