بدھ, 16 دسمبر 2020 14:22



سلمان رشید

تحریک پاکستان کے رہنما اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو نئی تشکیل شدہ ریاستِ پاکستان کے گورنر جنرل بننے کے بعد ، ہمارے بابائے قوم قائدِاعظم محمد علی جناح نے ہمارے نظریاتی بانی علامہ محمد اقبال کی طرح ایک وحدتِ اسلام کے نظرئیے کا اشتراک کیا جبکہ علامہ اقبال وہ  عظیم مفکر ، فلسفی  اور شاعر ہیں جس نے مسلم دنیا میں بہت سارے انقلابات کو متاثر کیا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر یہ فیشن بن گیا ہے کہ مسلم دنیا میں پاکستان کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک تنگ نظریہ ہو جس کے نعرے لگائے گئے جیسے پہلے پاکستان یا سب سے پہلے پاکستان جبکہ یہ نظریہ بانیانِ پاکستان کے نظریات کے خلاف ہے۔ خاص طور پر قائدِ اعظم یہ چاہتے تھے کہ پاکستان مسلم دنیا کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھنا ہم ایک ایسی ریاست کی تشکیل کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دنیا کی منزل کا تعین طے کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرے گی۔

 لہٰذا ہمیں ایک وسیع تر نقطۂ نظر کی ضرورت ہے، ایک ایسا نقطۂ نظر جو صوبوں، محدود قوم پرستی اور نسل پرستی کی حدودوقیود سے ماوراء ہو۔ (12 اپریل 1948ء کو پشاور کے اسلامیہ کالج میں تقریر)۔
قائدِ اعظم نے پاکستان کو مسلم دنیا کی رہنمائی اور اسلامی بلاک بنانے کا تصور دیا۔ سن 1943ء کے اوائل میں سردار شوکت حیات خان سے گفتگو کے دوران ریاستِ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے کہا کہ پاکستان ایسی بنیادوں پر استوار ہوگا جہاں ہم مسلمان دانشوروں، ماہرینِ معاشیات و اقتصادیات، سائنسدانوں، ڈاکٹرز، انجینئرز اور ٹیکنیشینز کو تربیت دینے اور پروان چڑھانے کے قابل ہوسکیں اور یہ سب ماہرین اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کیلئے کام کریں۔ ضروری تربیت کے بعد ماہرین اسلامی دنیا کے دیگر حصوں میں پھیل جائیں اور اپنے ہم مذہب طبقے کی خدمت شروع کردیں تاکہ ان میں شعور و بیداری پیدا کی جاسکے  جس کا حتمی نتیجہ ایک مضبوط اور یکجا بلاک کی تشکیل کی صورت میں نکلے گا۔ یہ ایک تیسرا بلاک ہوگا جو نہ کمیونسٹ ہوگا اور نہ ہی سرمایہ دارانہ بلکہ حقیقت میں اس کی بنیاد سماجی اصولوں پر رکھی جائے گی جو خلیفۂ اسلام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی خصوصیات  ہیں۔
تحریکِ پاکستان کے دوران قائدِ اعظم محمد علی جناح نہ صرف برصغیر پاک و ہندکے مسلمانوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے تھے بلکہ استعماری طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کی آزادی کی حمایت بھی کررہے تھے۔ اگر ہم  23 مارچ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں کیے گئے قائدِ اعظم کے صدارتی خطاب کے متن کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں عربوں کے مطالبات پورے کرے۔
بابائے قوم محمد علی جناح نے فرانسیسی حکمرانی اور جبر سے نجات دلانے کی جدوجہد میں مصروف شمالی افریقی عربوں کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے انڈونیشیا پر ڈچ حملے کو پاکستان پر حملہ سمجھا اور ڈچ بحری جہازوں کو جنگی سامان انڈونیشیاء لے جانے کیلئے نقل و حمل کی جگہ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے مسلم ممالک کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ لہٰذا قائداعظم نے انڈونیشیاء، ملایا، سوڈان،، لیبیاء، تیونس، مراکش، نائیجیریا اور الجزائر میں آزادی کی تحریک کو ہر ممکن سفارتی اور مادی امداد فراہم کی۔
مسلم آزادی کی تحریکوں کی مدد کیلئے قائدِ اعظم کی کاوشیں یقینی طور پر یروشلم کے عظیم مفتی محمد امین الحسینی سے کم نہیں جس نے قائدِ اعظم کو تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا جس میں اس نے کہا کہ ہم آپکی قابلِ قدر کاوشوں  کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ  آپ نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام اسلامی ممالک میں  اسلامی اخوت اور مسلمانوں کے مابین تعاون کیلئے خدا کے حکم کے مطابق اسلام اور مسلم دنیا کی خدمت کیلئے مسلسل کوشش کررہے ہیں۔پوری اسلامی دنیا آپ کے اور مسلم لیگ کے مؤقف کی قدر کرتی ہے اور مسلمانوں کی خدمات میں آپ کی مستقل و مبارک کاوشوں کی تعریف کرتی ہے۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائدِ اعظم کا انتقال ہوا تو الحسینی نے ان کی رحلت کو عالمِ اسلام کیلئے عظیم نقصان سمجھا۔
انڈونیشیاء کے قومی انقلاب کے دوران قائدِ اعظم نے برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دینے والے مسلمان فوجیوں کو انڈونیشیاء کی ڈچ امپیریل نوآبادیات کے خلاف لڑائی میں انڈونیشیاء سے ہاتھ ملانے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں برطانوی فوج کے 600 مسلمان فوجیوں نے نو آبادیاتی قوتوں کو چھوڑ کر انڈونیشیاء سے اتحاد کیا جن میں سے 500 فوجی جنگ میں شہید ہوئے جبکہ زندہ بچ جانے والے افراد پاکستان لوٹ گئے یا اب انڈونیشیاء میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمان فوجیوں کی پہچان کے طور پر 17 اگست 1995ء کو انڈونیشیاء کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوران انڈونیشیاء نے زندہ سابق پاکستانی فوجیوں کو آزادئ جنگ ایوارڈز سے نوازا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح اور حکومتِ پاکستان کو اعزاز سے نوازا۔
یہ ہمارے قائدِ اعظم ہی تھے جنہوں نے اسرائیل کی تخلیق کو مغرب کی ناجائز اولاد قرار دیا اور شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی مئی 1950ء میں امریکا میں صیہونی لابی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”حضرات! ہماری جانیں برائے فروخت نہیں ہیں۔“یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔
دوسری جانب ہمارے پاس ایسے پاکستانی بھی موجود ہیں جو حکومتِ پاکستان کو قائدِ اعظم اور شہیدِ ملت کے مؤقف کے خلاف یہ درس دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے جبکہ ہمارے عظیم رہنماؤں نے اپنی روحیں اور ضمیر مالی فوائد یا مسلمانوں کی جانوں کے بدلے میں بھی نہیں بیچیں۔ میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ قائدِ اعظم نے اکتوبر 1945ء میں فلسطین کے بارے میں کیا کہا تھا۔
انہوں نے فرمایا کہ یہودی بھی اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں کانگریس ہے۔ لوگوں کی خواہش کے برعکس پہلے ہی یروشلم میں ساڑھے 5 لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ کون سے دوسرے ممالک نے انہیں رہائش فراہم کی؟ مجھے ان کے ساتھ بڑی ہمدردی ہے اور یہودیوں کے خلاف کوئی عارضی خواہش نہیں لیکن وہ  برطانوی و امریکی افواج کی مدد سے یروشلم (جسے انہوں نے 2000 سال قبل کھو دیا تھا) پر قبضے کے خاص مقصد کے ساتھ فلسطین میں داخل ہوئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہودی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ امریکا اور برطانیہ ان کی مدد سے باز آجائیں اور پھر میں یہ دیکھوں گا کہ یہودی یروشلم کو کس طرح فتح کرتے ہیں۔ یہودیوں کے یروشلم پر قبضے سے پہلے ہی مسلم دنیا کے ہر مرد اور عورت کی موت ہوگی۔ اب بھی ہمارے دل اور جان فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جو اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ فلسطین اور انڈونیشیا کے عوام اپنی مشکلات سے نکل سکیں گے۔اگر خونی جنگ کے بعد بھی چھوٹی قوموں کا استحصال جاری رہا تو آئیے خدا سے دعا کریں کہ ایٹمی بم سے زیادہ طاقتور مصیبت بھیجے تاکہ اِس دنیا کا کام تمام ہوجائے۔
اگست 1948ء میں عید کے خصوصی پیغام میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے برادر مسلم ریاستوں کیلئے میرا پیغام دوستی اور خیر سگالی ہے۔ ہم سب خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ فلسطین، انڈونیشیاء اور کشمیر میں اقتدار کی سیاست کا جو ڈرامہ رچایا جارہا ہے وہ ہمارے لیے چشم کشا ثابت ہونا چاہئے۔ صرف متحدہ محاذ قائم کرکے ہی ہم دنیا کی اہم مشاورت میں اپنی آواز کو توانا محسوس کرسکتے ہیں۔
ہمیں ریاستی قیادت کی ضرورت ہے جیسا کہ قائدِ اعظم، شہیدِ ملت اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی دکھائی جن کا اپنا اتحاد بین المسلمین کا نظریہ تھا جس کی تکمیل کی کوشش بھٹو صاحب نے 1974ء کے اسلامی تعاون کی تنظیم کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں کی۔ پاکستان نے شاہ فیصل کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے تاکہ ایک اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ ایسی تفریق جیسا کہ بد قسمتی سے آج پیدا کی جارہی ہے۔
میری وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھرپور اپیل ہے کہ بانیانِ پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کیلئے اتحاد بین المسلمین کی حمایت جاری رکھیں اور عالمِ اسلام کے امور میں ایک ایماندار مصلح کا کردار ادا کریں تاکہ ہم مسلمانوں کو متحد کیاجاسکے۔

 

ماہنامہ پیام شمارہ ماہ دسمبر 2020
 
* * * * *
Read 175 times Last modified on بدھ, 16 دسمبر 2020 14:27

تازہ مقالے