بدھ, 16 دسمبر 2020 13:44


 
سید اسد عباس

قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق خوجہ برادری سے تھا جو خوجوں کی اپنی روایات کے مطابق ہندو الاصل تھے۔ ہندو ذات لوہانہ، لوہرانہ یا لوہارنہ خوجہ برادری کی اصل ہے ۔ لوہانوں کی روایات کے مطابق وہ رام کے بیٹے لووا کی نسل سے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسویں میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی آمد کے بعد اس قوم کے قبائل ملتان سے گجرات سمیت برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ لوہانوں میں گجراتی لوہانے، پشتون لوہانے، بلوچ لوہانے ، سندھی لوہانے، کیچی لوہانے قابل ذکر ہیں۔ مختلف علاقوں میں پھیلنے کی وجہ سے اس ذات نے ہر علاقے کی زبان اور رسوم و روایات کو اپنایا تاہم کچھ رسوم و روایات ان کے مابین مشترک بھی ہیں۔ ہندو لوہانے کرشنا ، وشنو، سیتا، سری ناتھ جی، روی رندل ماتاجی، امبیکا، جلارم باپا، یوگی جی مہاراج کی پوجا کرتے ہیں ان کے خاندانی بتوں میں سے  ویر دادا یشراج، ہرکور با، سندھی شری سکوتر ماتا، دریا لال قابل ذکر ہیں۔ یہ ذات سورج کی بھی پوجا کرتی ہے ۔ 

لوہانے سے خوجہ کا سفر
پندھرویں صدی عیسویں میں ایک اسماعیلی مبلغ پیر صدر الدین بن پیر شھاب الدین جن کا تعلق ایران سے تھا نے لوہانہ ہندؤں کو اسلام کی تعلیم دی،پیر صدر الدین کی تبلیغ سے لوہانوں کی ایک بڑی تعداد اسماعیلی نظری مکتب کی پیروکار ہوگئی جبکہ ان کی رسوم و رواج میں ہندو روایات کی آمیزش باقی رہی۔ پیر صدر الدین نے ہی اپنے پیروکاروں کو خوجہ کا لقب دیا جس سے مراد سردار یا بڑا ہے۔ اسماعیلیوں کے امام آقا خان اول نے خوجوں کو نماز روزہ کی جانب مائل کیا نیز آئمہ کی زیارت کی ترغیب دلوائی۔ آقا خان محلاتی کی سختی کی وجہ سے بعض خوجے اہل سنت مکتب کی جانب مائل ہوئے اور بعض دیگر نے شیعہ اثنا عشری مکتب اختیار کیا۔ میمن بھی خوجہ برادری سے ہی تعلق رکھتے ہیں ۔
آداب و رسوم
قومی تشخص کو برقرار رکھنا اس نسل کی اولین ترجیجات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کے آداب و رسوم برصغیر پاک و ہند اور ہندوؤں کے آداب و رسوم سے متأثر ہیں۔ لباس میں یہ لوگ برصغیر پاک و ہند کے دیگر اقوام کی پیروی کرتے ہوئے وہاں رائج لباس پہنتے ہیں۔ اسی طرح برصغیر پاک و ہند کے مقامی کھانے ان کی پسندیدہ غذاؤوں میں شامل ہیں۔
یہ لوگ اپنے علاوہ دوسری قوموں حتی خوجوں کی دوسری جماعت کے ساتھ کم ہی رشتہ داری کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی اور سماجی آداب و رسوم جیسے شادی بیاہ اور مجالس و محافل وغیرہ میں اسلامی تہذیب اور برصغیر کے مقامی رسم و رواج سے دونوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح کا خاندان
جناح کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا۔ آپ کا تعلق ایک متوسط آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ یہ خوجہ اسماعیلی کمیونٹی کے انہی خانوادوں میں سے تھے جو مختلف ادوار میں ملتان سے گجرات ہندوستان اور ان کے گردونواح میں آباد ہوئے۔ محمد علی جناح کے اجداد کئی نسلوں سے دلی کے نواح میں واقعہ نوابی ریاست  کاٹھیاواڑ،) کے گاؤں پنیلی) کے باسی تھے۔ محمد علی جناح کے دادا پونجا جناح پنیلی میں ہی کاروبار کرتے تھے محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق اس گاوں کی آبادی ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور یہ گاوں اپنے اردگر کی سیاسی سرگرمیوں سے مکمل طور پر لاتعلق تھا۔ فاطمہ جناح کے مطابق ان کے والد پونجا جناح تین بھائیوں میں سے سب سے چھوٹے تھے۔ فاطمہ کے مطابق پونجا جناح کا کپڑوں کی بنائی کا چھوٹا سا کارخانہ تھا جس کی وجہ سے وہ گاوں کے متمول افراد میں شمار ہوتے تھے۔ 
پونجا نے کاروبار کے لیے گوندل کا رخ کیا اور والد کے دئیے گئے پیسوں سے منافع کمایا ۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ قائداعظم ہندو خاندان سے تھے جس کی تردید فاطمہ جناح نے اپنی کتاب میرا بھائی کے دوسرے باب میں کی کہ میرے والد کی شادی کے لیے اپنی طرح کے ہی خوجہ اسماعیلی خاندان میں لڑکی کی تلاش کے کام کا آغاز ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم کا خاندان ہندو نہیں بلکہ خوجہ اسماعیلی تھا۔ جناح کی شادی مٹھی بائی سے 1874ء کے لگ بھگ ہوئی۔ جناح گوندل میں بھی نہ رک سکے اور انھوں نے کراچی کے علاقے کھارادر کا رخ کیا جہاں پہلے ہی کئی کاٹھیاواری اور خوجہ خاندان آباد تھے۔ فاطمہ جناح کے مطابق میرے والد نے نہ فقط کھارادر میں جناح پونجا اینڈ کمپنی کے نام سے کاروبار کرنا شروع کیا بلکہ انھوں نے ایسی نیک شہرت حاصل کی لوگ اپنے اثاثے ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے۔ فاطمہ جناح کے مطابق اس وقت تو بینکوں کا نظام موجود نہیں تھا لہذا ایسی شخصیات ہی بینک کا کام کرتی تھیں جو نہ فقط مقامی کاروباریوں کے لیے بلکہ دیگر خطوں سے آنے والے کاروباریوں کے لیے اپنی خدمات مہیا کرتی تھیں۔
جناح کا کنبہ اور محمد علی کی ولادت
جناح کے ہاں سات بچوں کی ولادت ہوئی جن میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کے بھائیوں اور بہنوں کے نام بلحاظ ترتیب حسب ذیل ہیں:
محمد علی ،رحمت، ماریانی، احمد علی ، شیریں، فاطمہ اور بندے علی
فاطمہ جناح کے مطابق کھارادر میں 25 دسمبر 1876ء کو  ہمارے پہلے بھائی محمد علی جناح کی ولادت ہوئی۔ وہ پیدائش کے وقت نہایت نحیف اور چھوٹے سے تھے تاہم ان کے ہاتھ پتلے اور لمبے تھے اسی طرح سر بھی لمبوترا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد علی جناح کی پیدائش کے حوالے سے ہیکٹر بولیتھو نے ان کے تاریخ پیدائش میں احتمال ظاہر کیا ہے جس کی وجہ مدرسہ کے رجسٹر میں درج ان کا تاریخ پیدائش ہے جبکہ ہیکٹر بولیتھو لکھتے ہیں کہ قائداعظم خود یہ کہا کرتے تھے کہ ان کی ولادت کرسمس والے دن 1876ء میں ہوئی۔ فاطمہ جناح کے مطابق پنیلی میں ہمارے بچوں کے نام ہندو طرز کے ہوتے تھے جبکہ کھارادر میں آنے کے بعد بچوں کے نام اسلامی طرز کے رکھے گئے۔ 
کھارادر سے پنیلی پہلا سفر
محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق میری والدہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے فرزند کا عقیقہ اپنے گاوں پنیلی کے قریب واقعہ گنود میں قائم حسن پیر کی درگاہ پر کریں۔ فاطمہ جناح کے مطابق حسن پیر ایک اسماعیلی مبلغ تھے جو ایران سے بلوچستان، ملتان ، سندھ سے ہوتے ہوئے پنیلی میں متمکن ہوئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ہمارے والد جناح اپنا کاروبار چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے تاہم زوجہ کے اصرار پر انھیں جانا پڑا۔ فاطمہ جناح روایت کرتی ہیں کہ اس سفر کے دوران شدید سمندری طوفان آیا جس سے کشتی کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوا۔ مٹھی بائی نے اپنے شوہر کو بتایا کہ اس دوران میں نے نیت کی تھی کہ میں حسن پیر کی درگاہ پر سارا دن گزاروں گی ۔ فاطمہ کے مطابق والدہ نے پورے گاوں کی دعوت کی۔
تعلیم و تعلم میں عدم دلچسپی
فاطمہ جناح کے مطابق محمد علی جناح 6 سال کے تھے کہ مدرسے میں داخل ہوئے تاہم تعلیم و تعلم کی جانب ان کی بالکل رغبت نہ تھی۔ حساب کی صورتحال یہ تھی کہ محمد علی کے استاد نے ان کے والد کو بتایا کہ یہ لڑکا حساب میں بمشکل پاس ہوگا جو جناح کے لیے کافی تشویشناک تھا۔ والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا کاروبار میں ان کی مدد کرے گا تاہم بیٹا نہ تعلیم کی جانب راغب تھا اور نہ حساب کتاب سے اسے کوئی شغف۔ محمد علی نے کچھ عرصے بعد سکول چھوڑ دیا اور والد کے ہمراہ دفتر جانے لگے۔ کچھ ہی عرصہ دفتر رہ کر قائداعظم دوبارہ سکول کی جانب راغب ہوئے تاہم والد سے کہا کہ مجھے کسی اور مدرسہ میں داخل کروائیں۔ والد نے محمد علی کو سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخل کروایا تاہم تعلیم کی جانب رغبت نہ ہو پائی۔ محمد علی جناح کچھ عرصے بعد اپنی پھپو کے ہمراہ بمبئی چلے گئے اور وہاں سکول میں داخلہ لیا۔ والدہ نے محمد علی کو واپس بلوا لیا اور قائد اعظم دوبارہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخل ہو گئے۔ قائد اعظم نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے کسی اور سکول میں داخل کروائیں یوں قائد اعظم سی ایم ایس ہائی سکول لارنس روڈ کراچی میں داخل ہوئے۔ فاطمہ جناح کے مطابق 1891 ء میں محمد علی جناح دوبارہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخل ہوئے۔ آپ کی عمر 15 برس تھی۔
گراہم ٹریڈنگ کمپنی کے مالک جو جناح کے دوست تھے نے تجویز پیش کی کہ محمد علی کو تین برس کے لیے برطانیہ بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں کاروباری امور کو چلانا سیکھیں۔ پنیلی میں ایمی بائی سے شادی کے بعد ان کو لندن جانے کی اجازت ملی یوں قائد اعظم برطانیہ پہنچ گئے۔
وکالت میں دلچسپی
گراہم ٹریڈنگ کمپنی میں اپنی ملازمت کے دوران میں قائد اعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ وکالت کا شعبہ اختیار کریں گے۔ جب انھوں نے اپنے والد کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو انھوں نے سختی سے قائداعظم کو منع کیا اور کہا کہ آپ فورا واپس آجائیں۔ قائد اعظم نے والد کو لکھا کہ میں آپ سے مزید خرچ نہیں مانگوں گا اور جو رقم آپ نے بھیجی ہے اسی میں کوشش کرکے چار برس گزاروں گا۔ والد کو بھی کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہو چکا تھا اسی دوران قائد اعظم کی زوجہ اور والدہ کا انتقال ہو گیا۔ قائداعظم نے وکالت کی ڈگری تین برس کے بجائے دو برس میں حاصل کی۔ فاطمہ جناح لنک ان کالج کے انتخاب کے بارے معروف واقعہ لکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ قائداعظم نے لکھا کہ وکالت کے کالج کے انتخاب کے دوران میں ایک روز میں نے تمام انز کا دورہ کیا جب لنکن ان پہنچا تو اس کے دروازے پر میں نے ختمی مرتبت کا نام قانون دہندہ افراد کی Category میں سب سے اوپر دیکھا اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اسی ادارے میں تعلیم حاصل کرنی ہے۔
فاطمہ جناح کے مطابق قائداعظم کتابی کیڑا نہیں تھے بلکہ برطانیہ کے قیام کے دوران میں انھوں نے متعدد سرگرمیوں میں حصہ لیا ہندوستانی طلبہ کو مجتمع کرنا، ہائڈ پارک میں جا کر لوگوں کی تقاریر سننا ان کا مشغلہ تھا، اسی طرح سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی ، انگریزی ادب کا مطالعہ شیکسپئیر کو پڑھنا ان کا وہ شوق تھا جو آخری عمر تک قائم رہا۔
قائداعظم کے مسلک کا تنازعہ 
اگرچہ قائداعظم مذہب اور مسلک کو کسی بھی انسان کا ذاتی مسئلہ سمجھتے تھے اور کبھی اپنے آپ کو مسلکی شناخت کے عنوان سے متعارف نہیں کرواتے تھے تاہم بہرحال وہ ایک مسلک کے پیروکار تھے۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ سندھ ہائی کورٹ میں اس وقت پیش کیا گیا جب قائداعظم کی وصیت کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح ان کی جائداد کی اکلوتی وارث قرار پائیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے یہ حق حاصل کرنے کے لیے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان کے دستخظ کے ہمراہ ایک حلف نامہ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروایا جس میں انھوں نے قائداعظم کو شیعہ اثنی عشری لکھا۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی ہمشیرہ شیریں بائی بھی پاکستان آئیں اور قائداعظم کی وراثت کا دعوی کیا جبکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد جن کا تعلق اسماعیلی مسلک سے تھا نے اس دعوی کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا۔ 
سید شریف الدین پیرزادہ جو عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہوئے نے گواہی دی کہ قائداعظم اپنی دو بہنوں رحمت بائی اور مریم بائی کے سنی خاندانوں میں نکاح کے سبب 1901ء میں اسماعیلی جماعت سے الگ ہو گئے۔ عدالتی کارروائی میں قائداعظم محمد علی جناح کی آخری رسومات کا مکتب تشیع کے حوالے سے انعقاد پھی بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ مولانا سید انیس الحسن نے سندھ ہائی کورٹ میں گواہی دی کہ انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی فرمائش پر قائداعظم کو شیعہ طریقے سے غسل دیا اور ان کی نماز جنازہ گورنر ہاوس کے کمرے میں ادا کی بعد میں قائد اعظم کا عوامی جنازہ مولانا شبلی نعمانی نے پڑھایا۔ ایم آئی ایچ اصفہانی قائداعظم کے خاندانی دوست اور ان کے 1936ء کے پرسنل سیکریٹری نیز سید مقبول حسین جو کہ قائد اعظم کے 1940ء سے 1944ء تک سیکریٹری رہے نے بھی گواہی دی کہ قائداعظم شیعہ اثنا عشری تھے۔ آئی ایچ اصفہانی نے عدالت کو بتایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1936ء میں انھیں خود بتایا کہ جب وہ 1894ء میں برطانیہ سے واپس لوٹے تو انھوں نے اپنے خاندان کے چند دیگر افراد کے ہمراہ مکتب اہلبیت اختیار کیا۔ اس مقدمے کی کارروائی اب بھی سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔
اسماعیلی خوجہ سے اثنا عشری خوجہ تک
سنہ 1870ء کے اوایل میں خوجوں کی ایک جماعت نے امام حسینؑ کی زیارت کے موقع پر نجف میں اس وقت کے شیعہ فقیہ زین‌ العابدین مازندرانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے اپنے آپ کو شیعہ کے عنوان سے پیش کیا اور کہا کہ ہم اسلامی احکام پر عمل نہیں کرتے اور ائمہ معصومین ؑ کی زیارت کو خانہ کعبہ کی زیارت پر مقدم سمجھتے ہیں۔ جب ان کی اس بات سے آیت‌ اللہ مازندرانی ناراض ہوئے تو انہوں نے اسلامی احکام سے انہیں روشناس کرانے کیلئے کسی کو برصغیر بھیجنے کی درخواست کی۔ آیت اللہ مازندارنی کی سفارش پر آپ کے ایک ہندوستانی شاگرد ملا قادر حسین بمبئی چلے گئے۔ وہ کسی خوجہ کے گھر قیام پذیر ہوئے اور انہیں شیعہ مذہب کی تعلیم دینے میں مشغول ہو گئے۔ یوں ان میں سے ایک گروہ نے شیعہ اثنا عشری مذہب قبول کیا۔
سنہ 1880ء کے اوائل میں آیت‌ اللہ ابو القاسم نجفی خود شیعہ مذہب کی ترویج کیلئے برصغیر تشریف لے گئے۔ آپ نے بمبئی میں شیعوں کی پہلی نماز جمعہ قائم کی۔ خوجہ اثنا عشری اسماعیلیوں کے خوف سے مدتوں اپنی سرگرمیوں کو مخفی طور پر انجام دیتے تھے لیکن سنہ 1899ء میں انہوں نے مستقل طور پر اپنی جماعت قائم کی۔
قائد اعظم گو کہ اسماعیلی شیعہ پس منظر رکھنے والے خوجا تھے لیکن جیسا کہ ہم نے قبل ازیں ذکر کیا کہ اسی زمانے میں اسماعیلی خوجوں کے شیعہ اثنا عشری خوجہ ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور 1899ء تک خوجہ اثنا عشری جماعت ظاہر ہو چکی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح جو اس زمانے میں بمبئی میں مقیم تھے آپ کے خانوادے کی متعدد شخصیات نے شیعہ اثنا عشری مسلک اختیار کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے نکاح نامہ میں  ان کا اثنا عشری ہونا درج ہے۔
خوجہ اثنا عشریہ کی آبادی کے علاقے 
خوجہ اثنا عشری مسلم کمیونیٹیز کی رسمی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ان کی آبادی تقریبا 125000 نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تقریبا 25000 نفوس ہندوستان کے مختلف شہروں من جملہ گچ، گجرات اور بمبئی وغیرہ میں رہتے ہیں۔ تقریبا 42000 کے لگ بھک پاکستان میں سکونت پذیر ہیں جن میں سے اکثر کراچی میں رہتے ہیں۔افریقہ میں تقریبا 15000 کے قریب خوجہ‌ اثنا عشری موجود ہیں ،تنزانیہ اور کینیا ان کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ تقریبا 15000 امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں مقیم ہیں۔
امارات، بنگلادیش، یمن، عمان، زنگبار، یوگانڈا، صومالیہ، مڈغاسکر، ہالینڈ اور فرانس بھی ان ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں پر اثنا عشری خوجے آباد ہیں۔


مآخذ
۱) رنجبر شیرازی، روح‌ اللہ، شیعیان تانزانیا؛ بررسی وضعیت فرہنگی‌ اجتماعی، قم، انتشارات شیعہ‌ شناسی، چاپ اول، ۱۳۹۳ش۔
۲) روغنی، زہرا، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، پژوہشگاہ علوم انسانی و مطالعات فرہنگی، تہران، ۱۳۸۷ش۔
۳) عرب‌ احمدی، امیر بہرام، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گسترہ جہان، مؤسسہ شیعہ شناسی، قم، ۱۳۸۹ش۔
۴) معین، محمد، فرہنگ فارسی معین۔
۵) امینی، رحیم، تانزانیا، تہران، دفتر مطالعات سیاسی و بین المللی، ۱۳۷۵ش۔
۶) عرب‌ احمدی، امیر بہرام، شیعیان تانزانیا دیروز و امروز، تہران، انتشارات بین ‌المللی الہدی، ۱۳۷۹ش۔
۷) Jinnah Fatima, My brother, Quaid e Azam academy Karachi, 1987


Read 191 times Last modified on بدھ, 16 دسمبر 2020 13:55

تازہ مقالے