سوموار, 07 دسمبر 2020 12:01


 
سید ثاقب اکبر نقوی

قرآن حکیم کی سب سے بڑی سورۃ  البقرہ ہے۔اس نام کی مناسبت’’ البقرہ ‘‘(گائے)کا ایک قصہ ہے  جو مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ [67] قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لاَّ فَارِضٌ وَّ لاَ بِکْرٌ عَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ [68]

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَا قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ [69] قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا وَ اِنَّآ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ [70] قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لاَ تَسْقِیْ الْحَرْثَ مُسَلَّمَۃٌ لاَّ شِیَۃَ فِیْھَا قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوْھَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ [71] وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَا وَ اللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْن [72] فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَ یُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ [73]]البقرۃ[
اور جب  (حضرت) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم گائے ذبح کرو۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو، تو (حضرت) موسیٰ نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں ، اس پر انھوں نے کہا کہ اپنے رب سے کہیں کہ ہمیں بتائے کہ یہ گائے کیسی ہو؟ (حضرت) موسیٰ نے کہا کہ اللہ کہتا ہے کہ یہ گائے نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا  بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔ پس اب وہ کام کر گزرو جس کا تمھیں  حکم دیا گیا ہے، وہ پھر کہنے لگے کہ اپنے رب سے کہیں کہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ (حضرت) موسیٰ نے کہا کہ اللہ کہتا ہے کہ گائے گہرے زرد رنگ کی ہوجو  دیکھنے والوں کو خوش کردے۔وہ کہنے لگے اپنے رب سے کہیں کہ ہمیں بتائے کہ یہ کیسی ہو کیونکہ گائے ہمارے لیے مشتبہ ہو گئی ہے اور یقیناً اللہ نے چاہا تو اب ہم سمجھ جائیں گے۔(حضرت) موسیٰ نے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ یہ گائے ایسی ہو جس سےزمین جوتنے کی  خدمت نہیں لی جاتی اور نہ  کھیتی کے لیے پانی کھینچنے کی،  صحیح سالم  ہواور اس میں کوئی داغ دھبہ نہ ہو۔ وہ کہنے لگے اب تو نے حق بات کہی ہےپس انھوں نے اس گائے کو ذبح کر دیا جب کہ وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا پھر تم اس کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور جو بات تم چھپا رہے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے والا تھاپس ہم نے کہا کہ اس کا ایک حصہ اس پر مارواس طرح سے اللہ مردہ کو زندہ کرتا ہے اور تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لو۔
 لفظ بقرہ کے بارے میںاہل لغت کی متفقہ رائے ہے کہ یہ بیل اور گائے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ان آیات میں ضمیروں کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں پر بیل مراد ہے ۔ اگرچہ اس کا ترجمہ گائے کیا گیا ہے تاہم جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ اس سے ہل  جوتنے کی اور کھیتی کو پانی دینے کی خدمت نہ لی جاتی ہو،  یہ کام زیادہ تر بیل سے لیا جاتا ہے ۔ 
 یہ واقعہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کا ہے ۔ اس زمانے کے واقعات قرآن حکیم میں تکرار کے ساتھ بیان ہوئے ہیں خاص طور پر فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور معرکے طرح طرح سے اور مختلف تعبیروں کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔تاہم یہ واقعہ جو گائے یا بیل سے متعلق ہے اسی مقام پر آیا ہے ۔ سورہ  بقرہ کی آیت نمبر ۶۷سے اس کا آغاز ہوتا ہے، چونکہ یہ کہیں اور ذکر نہیں ہوا لہذا نسبتا ًیہاں اس کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے ۔یہ جو فرمایا گیا :
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ۔موسی نے جب اپنی قوم سے کہا کہ 
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ ۔۔کہ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے 
 اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً۔ کہ تم ذبح کرو بقرہ کو ۔ گائے یا بیل کو۔۔۔
قَالُوْٓا۔۔۔تو اس قوم کے لوگوں نے کیا کہا ۔۔۔
 اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا ۔۔کیا تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو؟ 
 قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ  ۔۔۔تو موسی نے کہا: خدا کی پناہ ۔۔
اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔۔کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاوں۔ 
اس کے پس منظر کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ واقعہ جو بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ کیا ہے۔ جوں جوں ہم آگے بڑھیں گے تو بات کھلے گی ۔یہاں تک جو بات کہنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت کے مخاطب رسول اکرم ؐ ہیں اوریہ بات کلمہ ’’اذ‘‘سے ظاہر ہو رہی ہے۔  اس سے قبل جو آیات آئی ہیں ان میں بنی اسرائیل سے براہ راست خطاب کیا گیا ہے۔ یہاں اذ سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا رخِ عنایت آنحضرت ؐ کی جانب ہے۔ دوسرا حکم  بالکل واضح ہے ، بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ گائے لائیں اور اسے  ذبح کریں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ اللہ تعالی کی جانب سے حکم ہے ۔ 
اللہ تعالی کی جانب سے حکم کہنے کے بعد وہ بھی موسی علیہ السلام کی زبانی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل جو حضرت موسی علیہ السلام کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے تھے ۔ یہ وہ وہی لوگ ہیں جن کا طرز عمل اس سے پہلے موسی علیہ السلام کے ساتھ کئی ایک واقعات کے ضمن میں بیان کیا جا چکاہے۔یہ لوگ جانتے تھے کہ  اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو غلبہ عطا کیا ہے ۔پھر اس قوم کا دریا سے نکل کر آنا ، فرعون اور اس کے لشکریوں کا ڈوب جانا، یہ سب واقعات رونما ہو چکے تھے  ۔ اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کا پتھر پر عصا مارنا اور چشموں کا جاری ہونا ۔ ان کی جو بھی تاویل کی جائے حضرت موسی علیہ السلام انھیں حکم خدا سنا رہے تھے جو آپ کو اللہ کا نمائندہ مانتے تھے اور آپ پر ایمان کا اظہار کر چکے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انھیں  گائے ذبح کرنے کے الہی حکم کے مقابلےمیں کہنا چاہیے تھا کہ تم ہمارے ساتھ ٹھٹھہ یا مذاق کر رہے ہو ؟
کیا یہ بات نبیوں سے کہنے کی ہے ؟ یہ خطرناک بات ہےکہ ایک پیغمبر سے اس کی قوم یہ بات کرے  وہ بھی ایسی قوم جو بظاہر ان کے نبی ہونے پرایمان رکھتی ہو۔ حضرت موسی علیہ السلام نے جوابا بڑی گہری بات کی کہ میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں ۔
یہاں  دو لفظوںکی وضاحت ضروری ہے، ایک ’’بقرہ‘‘ اور دوسرا ’’جاہلین‘‘۔بیل زمین میں ہل چلانے کے کام آتاہے وہ مٹی نکال کر زمین کو فصل کے لیے آمادہ کرتا ہے ۔ بقرہ کہنے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ جانور جو زمین کو کھودتا ہے ۔ امام باقر علیہ السلام کے لیے ’’باقر العلوم ‘‘کا لفظ بھی اسی معنی کے پس منظر میں ہے ۔ چونکہ امام محمد باقر علیہ السلام نے مدفون علوم کو ایک مرتبہ پھر سے باہر نکالا اسی لیے انھیںباقر العلوم یعنی علوم کو کھود کر نکالنے والا کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اگرچہ شہرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبتاً زیادہ ہے تاہم یہ کلمہ  امام باقر علیہ السلام کے لیے اسی لیے استعمال کیاجاتا ہےکہ انھوں نے اس عظیم مدرسے کی بنیاد رکھی ہے جسے پھر ان کے نہایت قابل فرزند امام جعفر صادقؑ نے عروج تک پہنچایا ۔
دوسرا لفظ جس کی وضاحت ضروری ہے ’’جاہلین‘‘ ہے ۔ ہمارے ہاں عام طور’’ علم‘‘ کے مقابل ’’جہل ‘‘لایا جاتا ہے ۔ عربی زبان میں’’ جہل‘‘ ’’عقل‘‘ کے مقابل ہے۔ اسی لیے حدیث کی کتب میں عقل و جہل کے باب ہیں۔ ابو جہل چونکہ عقل سے کام نہیں لیتا تھا اس لیے اسے ابو جہل کہا گیا۔ دور جاہلیت عقل سے عاری دور کی نشاندہی کرتا ہے یعنی گویا اس دور میں دانشمندانہ فیصلے نہیں کیے جاتے تھے اور اس دور میں لوگ عقل کو بروئے کار نہیں لاتے تھے اسی لیے ہم اس دور کو دور جاہلیت کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں جابجا اور انہی آیات کے آخر میں فرمایا گیا ہے کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَ یُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ  یعنی تمھیں اللہ کی نشانیاں دکھائی جاتی ہیں کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو۔مطلب یہ کہ جہل عقل کے مقابل آیا ہے ۔ دوسری بات عقل ہی ہے جو انسان کے لیے علم کا راستہ کھولتی ہے ۔ عقل نہ ہو تو بہت سی معلومات کو جمع کرکے درست طور پر بروئے کار نہیں لایا جاسکتا ۔  اگر ان معلومات کے استعمال کے لیے عقل استعمال نہ کی جائے تو یہ گدھے پر کتابیں لادنے کے مترادف ہے۔صحیح عالم ہونے کے لیے عاقل ہونا پہلے ضروری ہے ۔
 یہاں جو حضرت موسی علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں سے مراد یہی ہے کہ میں غیر عاقلانہ بات نہیں کر سکتا ۔ گناہ بھی غیر عاقلانہ کام ہے ۔ کیا عقل کہتی ہے جھوٹ اچھی چیز ہے ؟ کیا عقل کہتی ہے غیبت اور ظلم اچھی چیز ہے ؟ یعنی دین نے جسے بھی برا قرار دیا ہے عقل بھی اسے  برا ہی کہتی ہے ۔ اسی لیے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ
 ’’کل ما حکم بہ العقل حکم بہ الشرع‘‘
ہر وہ چیز جس کا  عقل حکم دیتی ہے ، شریعت بھی اس کاحکم دیتی ہے ۔
 یعنی شریعت کا حکم غیر عاقلانہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کی عقل کس قدر تکامل حاصل کر چکی ہے اور آپ حقائق کو کس قدر اخذ کر سکتے ہیں ۔ تاہم اتنی عقل تو انسان میں ہوتی ہے کہ اگر کوئی نمائندہ الہی ہے تووہ  جھوٹ نہیں بول سکتا ،  ٹھٹھہ نہیں کر سکتا۔ کجا یہ کہ کہا جائے کہ اللہ کا نام لے کر وہ کہے کہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ تم گائے  ذبح کرو، کیا الہی نمائندہ اپنے پاس سے ایساکہ سکتا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر عاقلانہ کام جس میں گناہ بھی شامل ہے نبی  انجام نہیںدے سکتا ۔ قال  اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔۔۔حضرت موسیٰ نے کہا کہ خدا کی پناہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں ۔ یہاں سے عصمت کا معنی بھی نکلتا ہے ۔ 
موسی علیہ السلا م نے سارے انبیاء کے لیے یہ بات کہ دی کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے ۔ اگر موسیؑ جاہلوں والا کام نہیں کر سکتے تو پھر کوئی نبی بھی ایسا کام نہیں کر سکتا ۔ آیت مجیدہ کے اس حصے سے انبیاء علیھم السلام کی عصمت کے نظریے کے حوالے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ۔۔۔اب چاہیے تو یہ تھا کہ موسی علیہ السلام نے جب کہ دیا تو وہ گائے پکڑ لاتے اور اسے ذبح کرتے لیکن انھوں نے نئی بات شروع کردی ۔ انھوں نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ آپ اپنے رب سے کہیں کہ یہ کیسی گائے ہو ۔ یعنی انھوں نے سوالات شروع کردیے ۔ یہ یونہی ہے کہ کسی کو پیاس لگی ہو اور وہ آپ سے کہے پانی پلائیں تو آپ آگے سے پوچھیں: پانی آپ شیشے والے گلاس میں پئیں گے یا سٹیل والے گلاس میں ؟ پیاسا کہےگا: او میرے بھائی !پانی پلائو شیشے اور سٹیل والے کا کیا سوال ہے بہرحال تم شیشے والے میں ہی لے آئو ۔ اب آپ سوال کریں کہ گلاس پھولدار ہو یا سادہ ۔ جواباً پیاسا کہے گا کہ بھائی پیاس لگی ہے پھولوں والا ہی لے آئو۔ اب اگلا سوال پیش کر دیا جائے کہ پھولوں والا چھوٹے سائز کا ہو یا بڑے سائز کا ؟ جواب یہی ہو گا کہ بھائی پانی پینا ہے چھوٹے میں لائو یا بڑے میں مجھے پانی پینا ہے ۔ 
اس طرح کے سوالات کا مطلب ہے کہ بدنیتی ہے ۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کہا جارہاہے کہ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ۔انھوں نے کہا کہ اپنے رب سے کہیں ۔’’اپنے رب سے کہیں‘‘  یہاں بھی ایک قابل توجہ نکتہ ہے ربنا کیوں نہ کہا ربک یعنی تیرا خدا یا تیراپروردگار ۔ انھوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے پوچھو۔ ان کے جملوں اور لفظوں میں اس طرح کی حجت بازی نظر آتی ہے ۔ موسی علیہ السلام نے حوصلہ رکھا اور اللہ سے رجوع کیا اور جواب دیا ۔ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لاَّ فَارِضٌ وَّ لاَ بِکْر۔۔۔کہ اللہ کہتا ہے کہ یہ گائے یا بیل نہ بوڑھی ہو نہ بکر ہو ۔ وہ لڑکی جس کی شادی نہ ہوئی ہو ’’باکرہ‘‘ کہلاتی ہے ۔ لہذایہاں کہا گیا کہ وہ بکر نہ ہو ۔عَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَ۔۔۔یعنی ان دونوں کے مابین ہو ۔۔۔پھر کہا فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ۔۔۔جو تمھیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔ 
یہاں اب روکا گیا ہے اور کہا گیا ہےکہ حجت بازی بند کرو اورجو حکم دیا گیاہے اس پر عمل کرو۔ یعنی جو کہا گیا ہے وہ کافی ہے،اس پر عمل کرو۔ ورنہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی  فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ۔۔جو کہا گیا ہے اس پر عمل کرو۔ بنی اسرائیل بھی بڑے ڈھیٹ تھے ۔ انھوں نے پھر سوال کیا کہ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَا۔۔۔انھوں نے اگلا سوال یہ کیا کہ اپنے رب سے پوچھو کہ اس گائے کا رنگ کیسا ہو۔جواب آیا کہ   اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔۔۔اب اللہ نے ایسے وضاحت کردی کہ مزید کسی سوال کی گنجائش نہ رہی ۔ کہا کہ زرد رنگ کی ہو ۔ ایسے رنگ کی وہ دیکھنے والوں کے لیے سرور آور ہو یعنی آنکھوں کو بھلی لگے ۔ جسے دیکھ کر دیکھنے والے کا دل خوش ہو جائے ۔حد ہو گئی، وہ اب بھی باز نہ آئے کہنے لگے  ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ۔۔۔یعنی اپنے رب سے کہو کہ کچھ مزید وضاحت کردے۔ گویا کہ رہے ہیں کہ اب تک وضاحت نہیں ہوئی ۔اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا وَ اِنَّآ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ۔۔۔کہ بیل ہم پر مشتبہ ہو گیا ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کون سا بیل مراد ہے کچھ اور وضاحت ہو جائے تو اللہ نے چاہا تو اب ہم صحیح راستہ پا لیں گے۔ ان کا  اِنْ شَآئَ اللّٰہُ  کہنا بھی ایک حجت بازی ہے۔ اللہ نے چاہا تو گویا کیا اب تک اللہ نے نہیں چاہا؟اب وہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہیں اللہ ان کو ایک خاص گائے تک پہنچا رہا ہے ۔۔
اللہ تعالی فرماتا ہے : اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ ۔۔۔یعنی ایسا بیل جو زمین پر ہل چلانے کے لیے  سدھایا نہ گیا ہو  ۔ لَّا ذَلُوْلٌ یعنی سدھایا نہ گیا ہو۔ تُثِیْرُ۔۔۔اسی سےثورۃ  ہے۔جب حل چلایا جاتا ہے تو زمین زیرو زبر ہوجاتی ہے چونکہ انقلاب میں معاشرہ زیر وزبر ہوجاتا ہے اسی لیے اسے ثورۃ کہا جاتا ہے ۔وَ لاَ تَسْقِیْ الْحَرْثَ کھیتی کو پانی دینے کے لیے بھی استعمال نہ کیا گیا ہو۔مُسَلَّمَۃٌ لاَّ شِیَۃَ فِیْھَا۔۔ٹھیک ہو اس پر کوئی داغ دھبہ نہ ہو ۔ شِیَۃ داغ دھبہ خال یا تل کو کہتے ہیں۔
 امام خمینی کا مشہور شعر یاد آرہا ہے:
من به خال لبت، ای دوست! گرفتار شدم                  
چشم بیمار تو را دیدم و بیمار شدم
مراد یہ کہ اس میں ایسا کوئی خال نہ ہو ۔ یہاں پہنچ کر قوم نے کہا کہ الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ۔۔اب وہ پھرتوہین کر رہے ہیں کہ اب آپ حق لائے ہیں۔ یعنی پہلے آپ حق نہیں لائے تھے (نعوذ باللہ من ذٰلک)آخر کار وہ ویسا بیل یا گائے لے آئے اور اسے ذبح کر دیا ۔قرآن کہتا ہے کہ   فَذَبَحُوْھَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ  وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے تاہم چار و ناچار ایسا کر دیا ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اصل میں ہوا کیا ؟ اس کے آگے والی آیات کے بارے میں بیشتر مفسرین متاخرین اور مقدمین کا کہنا ہے کہ اگلی تین آیات میں بنی اسرائیل کی سرشت اور مزاج کو بیان کیا ہے ۔  وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَا۔۔جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور تم لگے اسے ایک دوسرے پر ڈالنے ۔۔یعنی پھوٹ پڑ گئی ۔۔وَ اللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْن۔۔۔یعنی جو تم چھپانا چاہ رہے تھے اللہ اسے  ظاہر کرنے والا تھا ۔ حقیقت ان کے ذہنوں میں تھی لیکن اللہ نے اسے  ظاہر کر دیا۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا ۔۔۔پھر ہم نے کہا کہ مارو اس کے ایک حصے کو اس پر ۔۔مارو کس کو ؟ بیل کے ٹکڑے کو مقتول کے ساتھ ۔
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَ یُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ:  یوں اللہ اپنی آیات دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لینے لگو۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بات اوپر کے واقعہ سے متعلق ہےکہ جب انھوں نے بیل کو ذبح کر لیا تو حکم ہوا کہ اس کا ایک حصہ مقتول کو مارو ۔ یہ روایات میں بھی آیا ہے ، اہل سنت محدثین نے بھی لکھا ہے اسی طرح شیعوں نے بھی لکھا ہے تاہم اس میں اختلاف ہے ۔
 کہا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے  ایک نیک آدمی قتل ہو گیا تھا ۔ وہ نہیں بتانا چاہتے تھے کہ قاتل کون ہے ، ایک ہے یا متعدد۔  وہ اس مسئلے کو ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے ۔ یہ قوم اپنا مسئلہ لے کر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آگئی ۔ موسی علیہ السلام نے اس سلسلے میں اللہ سے رجوع کیا ،تو گائے ذبح  کرنے کاحکم ہوا پھر جیسے تیسے گائے ذبح کی گئی۔  اس کےگوشت کے ایک ٹکڑے کو  مقتول کے جسم پر مارا گیا۔ بعض کا کہنا ہے کہ دم کو مارا گیا اب دم میں بھی ایک نکتہ ہے جسے یہاں چھوڑتے ہیں۔ وہ شخص اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تمھیں کس نے قتل کیا ہے ؟ تو اس نے قاتل کا نام بتا دیا۔ اس طرح اصل مجرم پکڑا گیا ۔ بعض مفسرین کہ جن کی تعداد کم ہے، کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حقیقی نہیں ہے۔  ان مفسرین کی فکری مشکل یہ ہے کہ مردہ کیسے زندہ ہو گیا ۔ سرسید اور اس طرح کے لوگ معراج اور دریا میں راستے بن جانے جیسے معجرات کی اپنے دور کی سائنسی معلومات کی روشنی میں توجیہ کرتےہیں۔ بہرحال زیادہ تر لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ ایک شخص حقیقت میں قتل ہو ا تھا اور اس کی حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے گائے  ذبح کرنے کا واقعہ پیش آیا۔بعض کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ایک لڑکی کی وجہ سے پیدا ہوا۔دو لڑکے ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے باپ نے لڑکی کے کہنے پر ایک لڑکے سے شادی کر دی، دوسرے نے پہلے کو قتل کر دیا جو اس کا چچازاد تھا۔اس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے واویلا شروع کر دیا کہ میرا چچا زاد قتل ہو گیا ہے۔اسے خونبہا کی بھی فکر پڑ گئی وہ چاہا تھا کہ خونبہا بھی اسے مل جائے کیونکہ مقتول کا اس کے علاوہ کوئی وارث نہ تھا۔ بقول شاعر
وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا
بعض کہتے ہیں کہ لڑکی کے باپ کو قتل کیا گیاتھا ۔ ہم ان روایات میں نہیں پڑتے ۔ اسی طرح گائے کا بھی مسئلہ ہے کہ یہ کس کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نوجوان کاروبار کرتا تھا۔ تجارتی نقطہ نظر سے اس کا اچھا سودا ہورہاتھا۔مال لینے والے نے مال کا تقاضا کیا تو بیچنے والے نے کہا کہ کچھ دیر توقف کرو، میرے بابا آرام کر رہے ہیں اور گودام کی چابی ان کے سرہانے کے نیچے ہے۔ میں نہیں چاہتا انھیں بے آرام کروں ۔ مال لینے والا مال لیے بغیر روانہ ہو گیا ۔ باپ اٹھا تو اسے افسوس ہوا کہ بیٹے کا اتنا اچھا سودا ہورہا تھاجو میرے آرام کی وجہ سے ضائع ہو گیا ۔ باپ نے بیٹے کو گائے دی اور دعا بھی دی کہ اللہ تمھیں اس میں منافع دے۔ باپ کا چند روز بعد انتقال ہو گیا ۔ جب گائے کی شرائط سامنے آئیں تو لوگ اس لڑکے کے پاس یہ گائے لینے آئے ۔ لڑکے نے کہا کہ گائے تو مجھے  باپ نے بخشی تھی تاہم میں اپنی والدہ سے بھی پوچھ لوں کہ وہ کتنے میں بیچنے کی اجازت دیتی ہیں۔ والدہ سے جب معاملہ بیان ہوا تو اس نے ۲۰ درہم لگائےحالانکہ گائے کی قیمت پانچ درہم تھی۔ گائے لینے والے واپس چل دیے۔ راستے میں ان کا ارادہ بدلا کہ گائے لینی تو ہے ہی چل کر بیس کی ہی لے لیتے ہیں ۔بیٹے نے کہا کہ معلوم کرنا پڑے گاکہ والدہ اب کتنے میں بیچتی ہیں،جب دوبارہ پوچھا گیا تو لڑکے کی ماں نے کہا کہ اب یہ گائے چار سو درہم کی ہے ۔ خریدار قیمت سن کر پھر واپس چل دیے۔ راستے میں انھوں نے پھر سوچا کہ گائے خریدنا تو پڑے گی۔لہٰذا واپس آئے  پس لوٹے ۔ اب جب لڑکے کی ماں سے قیمت پوچھی گئی تواس نے ۸۰۰ درہم قیمت بتائی۔ اس واقعہ کو مختلف واعظین نے بیان کیا ہے ۔ آخری مرتبہ والدہ نے مزید رقم بڑھا دی ۔ آخر کار بنی اسرائیل نے وہ گائے منہ مانگی قیمت پرخرید لی ۔ واعظین اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ منافع اس لڑکے کو گائے کی وجہ سے نہیں بلکہ والد کی دعا کی وجہ سے ملا۔
بہرحال وہ شخص جو زندہ ہوا اس کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آیا وہ شخص جو فوت ہو گیا تھا وہ زندہ رہا یا اس واقعے کے بعد دوبارہ فوت ہو گیا۔ اس بارے میں بھی مختلف روایات ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس نے یہ بیان دیا اور دوبارہ فوت ہو گیا۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کے بعد زندہ رہا ۔ اس پر بھی نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ انسان دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتا ہے ؟ کیا وہ زندہ رہ سکتا ہے ؟ یہ سوالات پھر ان واقعات پر بھی ہوں گے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق ہیںیعنی چار یا پانچ پرندوں کا زندہ ہونا، نبی کا موت کو درک کرنا،اصحاب کہف کا ۳۰۹ سال تک پڑے رہنا وغیرہ۔فلسفہ میں استعداد سے فعلیت تک پہنچنا اور فعلیت کا پھر استعداد کی طرف پلٹنا ایک خصوصی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ان امور میں اس طرح کے فلسفی سوال موجودہیں ۔ 
تناسخ روح کے ایک بدن سے دوسرے بدن میں جانے کو کہتے ہیں۔ زیر بحث موضوع  تناسخ سے متعلق نہیں ہے کیونکہ یہاں ایک ہی بدن سے نکلی ہوئی روح کا واپس اس سے متعلق ہونا ہے۔ تناسخ کو  ہمارے علماء  نہ عقلی مانتے ہیں اور نہ تسلیم کرتے ہیں۔ آخر میں جا کر انسان کے ملکات کا ظاہر ہونا اور مسئلہ ہے، اسے تناسخ نہیں کہا جا سکتا ۔ قرآن کریم میں  ہےفَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ ۔۔ہم نے ان کو دھتکارے ہوئے بندروں کی شکل میں کر دیا ۔یہاں بدن وہی ہے اگر ان کے بدن کی ہئیت بدلی ہے یا ان میں اگر بندروں والی خصوصیات پیدا ہو گئی ہیں تو یہ بھی تناسخ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ زیر بحث موضوع میں اس درجے کی فعلیت پر روح کا اسی بدن میں واپس آنا اور کمال کے اگر امکانات موجود ہوں تو ان کا طے کرنا، اس کا امکان موجود ہے ۔ علامہ طباطبائی اور بعض دیگر مفسرین نے اس موضوع کوقدرے تفصیل سے  بیان کیا ہے ۔
بہر صورت ان آیات سے ایک بات سمجھ آتی ہے کہ غیر ضروری سوالات اور تفصیلات میں پڑنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔ جتنا انسان کو حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا چاہیے ، بنی اسرائیل کی صفت یہی بیان کی گئی ہے کہ وہ بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوالات کرتے تھے اور اصل چیز کو نظر انداز کردیتے تھے ۔ اللہ کی بے حرمتی ، نبی کی بے ادبی پر مشتمل ان کے کئی ایک واقعات کو  قرآن کریم نے بیان کیے ہیں۔ ان کا  اپنے لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دینا ،پھر  فدیہ دے کر چھڑوانا، ان کی ایسی ہی سرشت کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ تمھارا انھیں  نکالنا ہی ٹھیک نہ تھاکہ اب فدیہ دے کر واپس لا رہے ہو۔ کیا نامعقول حرکات ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلا م کے ساتھ ان کے جس طرح کے بحث مباحثے لکھے گئے ہیں وہ ان کے اس مزاج کی نشاندہی کرتے ہے ۔ اسی کو مسیح ابن مریم علیہ السلام سے نقل کیا گیاہے۔ انجیل متی میں ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے مذہبی افراد سے کہتے ہیں:
اے ریا کار فقیہو اور فریسیو(مذہبی سیاسی ملائو) !تم پر افسوس کہ پودینہ ، سونف اور زیرہ کے عشر کی ادائیگی تو کرتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف ، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔اے اندھے راہ بتانے والو جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کونگل جاتے ہو ۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ پیالے کو اوپر سے تو صاف کرتے ہو جو اندر لوٹ کے مال اور ناپرہیز گاری سے بھرے ہیں۔اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم سفیدی پھر ی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اندر ہڈیوں اور نجاست سے بھری پڑی ہیں۔
حضرت مسیح کے مخاطبین میں ریاکاری زیادہ تھی ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوںکےمختلف طبقوں اور لوگوں میں بھی یہ مزاج آچکا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کےپیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ آج پوری اسلامی دنیا استعماری طاقتوں کے شکنجوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہمیں چھوٹے چھوٹے فرعی  سوالوں میں پڑنے کے بجائے امت اسلامیہ کی حقیقی  آزادی کا خواب دیکھنا چاہیے ۔ دنیا میں بہت سے لوگ پسماندہ اور محروم ہیں ،ان کی آزادی کا خواب دیکھنا چاہیے۔  پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی میں چلا گیا ہے اور ہم کس سطخ کے  اختلافات میں پڑے ہیں؟ 
 سورۃ بقرہ کی ان آیات میں بیان ہونے والا مزاج ہم میں بھی موجود ہے ہمیں حقیقی مطالب اور معارف کو جاننے کی ضرورت ہے ۔
Read 272 times

تازہ مقالے