سوموار, 07 دسمبر 2020 11:57



کسی مقصد کے لیے جینا اور اس پر ہر چیز کو قربان کر دینا، انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے، ہم اپنے اردگرد بھی بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہوں گے، جنھوں نے اپنی زندگیوں کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے وقف کیا اور اسی کے تحت اپنے جیون بتا گئے۔ تقریباً سبھی انسان اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی صلاحیات کو وقف کر دیتے ہیں، ان میں سے بھی ماں زیادہ اس صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ بعض افراد کی سوچ اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے انسان کے لیے ایسا کرتی ہے۔ بعض لوگ معاشرے کے ایک طبقے کی فلاح و بہبود کو اپنا ہم و غم بنا لیتے ہیں۔ مدر ٹریسا، عبد الستار ایدھی اور سینکڑوں ان جیسے انسان جو انسانیت کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے لوگ انسانوں کی نظر میں قابل احترام ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی معاشرے میں تاثیر جس قدر زیادہ ہو اور اس کے مقصد سے جس قدر انسان متاثر ہوں، اسی قدر اس کے احترام کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بدیہی ہے کہ محنت، لگن، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہیں۔

کسی مقصد کے لیے جینا اور اس پر ہر چیز کو قربان کر دینا، انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے، ہم اپنے اردگرد بھی بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہوں گے، جنھوں نے اپنی زندگیوں کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے وقف کیا اور اسی کے تحت اپنے جیون بتا گئے۔ تقریباً سبھی انسان اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی صلاحیات کو وقف کر دیتے ہیں، ان میں سے بھی ماں زیادہ اس صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ بعض افراد کی سوچ اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے انسان کے لیے ایسا کرتی ہے۔ بعض لوگ معاشرے کے ایک طبقے کی فلاح و بہبود کو اپنا ہم و غم بنا لیتے ہیں۔ مدر ٹریسا، عبد الستار ایدھی اور سینکڑوں ان جیسے انسان جو انسانیت کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے لوگ انسانوں کی نظر میں قابل احترام ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی معاشرے میں تاثیر جس قدر زیادہ ہو اور اس کے مقصد سے جس قدر انسان متاثر ہوں، اسی قدر اس کے احترام کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بدیہی ہے کہ محنت، لگن، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے ہر پاکستانی آگاہ ہے، وہ بانی پاکستان ہیں، اگرچہ ان کے ہمراہ بہت سے مسلمان قائدین موجود تھے، ان سے قبل بہت سے مسلمان قائدین نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے کوششیں کیں، تاہم جو مقام قائد اعظم محمد علی جناح نے عام پاکستانی کی نظروں میں حاصل کیا، وہ کسی اور قائد تحریک کو حاصل نہ ہوسکا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد آنے والی نسلیں اس عظیم لیڈر کی باتوں اور کاموں کو اس انداز سے نہیں دیکھتیں، جیسے کہ خود ان کی اپنی نسل دیکھتی تھی۔ ہمارے لیے قائداعظم ایک ایسا کردار ہے، جو نصاب کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے، جس کی تصاویر ہر سرکاری دفتر اور سکول میں لگی ہوئی ہیں، جس کے عکس پر مشتمل نوٹ ہماری کرنسی کا حصہ ہیں اور ان کا یوم ولادت 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اگر کچھ لوگ اس سے زیادہ گہرائی میں جائیں تو وہ قائداعظم کے چند اقوال کو یاد کر لیتے ہیں، جو انھوں نے مختلف اہم مواقع پر بیان کیے۔ اس سے بڑھ کر ہمارا قائد اعظم سے کوئی تعلق نہیں۔
گذشتہ دنوں مجھے قائداعظم محمد علی جناح کی کسی مستند تاریخ کی تلاش تھی، اس دوران ایک عنوان My Brother میری نظر سے گزرا۔ یہ کتاب قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے منسوب ہے۔ کتاب کی پی ڈی ایف کاپی نیٹ سے حاصل کی۔ میرا بھائی کتاب محترمہ فاطمہ جناح کی قائد اعظم محمد علی جناح کے حوالے سے یاداشتوں پر مشتمل ہے، جسے قائد اعظم اکادمی نے 1987ء میں تدوین کیا، طبع ہوئی یا نہیں کا علم نہیں ہے۔ کتاب کے مدون شریف المجاہد ہیں۔ شریف المجاہد کتاب کے پیش لفظ میں تحریر کرتے ہیں کہ محترمہ کی زندگی میں ہی ان کے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح پر ہیکٹر بولیتھو کی کتاب Jinnah طبع ہوچکی تھی، جس کے بارے میں محترمہ کا خیال تھا کہ اس کتاب میں قائداعظم کی نجی زندگی اور کامیابیوں کے بہت سے پہلوؤں کو بیان نہیں کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے خود سے اپنے بھائی کی تاریخ کو قلمبند کروانے کا بیڑا اٹھایا۔
اس اہم کام کے لیے ان کا پہلا انتخاب کلکتہ کے اسلامیہ کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر عترت حسین زبیری تھے، جو کہ بعد میں راجھستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر منتخب ہوئے۔ پروفیسر زبیری 1959ء میں امریکہ چلے گئے۔ پھر محترمہ نے یہ کام ایم آر کیانی کے سپرد کیا، جن کے انتقال کے سبب کتاب کی تدوین کا کام G Allana کے سپرد کیا گیا، 1964ء میں جب محترمہ نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو G Allana محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ نہ رہ سکے اور ان کے اختلافات کی وجہ آج تک پنہاں ہے۔ G Allana نے محترمہ کے انتقال کے بعد Quaid-i-Azam jinnah: The Story of a Nation کے عنوان سے کتاب تحریر کی جو کسی بھی پاکستانی کی جانب سے قائداعظم کی زندگی پر تحریر کی جانے والی بہترین کتاب ہے۔
اس کتاب کے لیے مواد کی جمع آوری میں محترمہ فاطمہ جناح ہی بنیادی ماخذ کے ساتھ ساتھ مددگار بھی تھیں۔ محترمہ کی قائداعظم محمد علی جناح کے حوالے سے یاداشتوں کو مختلف مورخین نے اپنی تحریروں میں استعمال کیا ہے بلکہ قائداعظم کی ابتدائی زندگی کے بارے میں محترمہ کے علاوہ کوئی اور ماخذ ہے ہی نہیں۔ محترمہ کی یہ یاداشتیں Stanley Wolpert کی کتاب Jinnah of Pakistan(1984) اور Pakistan: Past and Present(1977) میں بھی شائع ہوئیں۔ شریف المجاہد کے مطابق موجودہ تدوین میں فقط ایک اختلافی پیرا کے علاوہ محترمہ کے تحریر کردہ تمام مواد کو مرتب کیا گیا ہے۔ میرا بھائی کتاب جو کہ قائد اعظم اکادمی کی جانب سے تدوین کی گئی، کے ضمیمہ میں قائداعظم محمد علی جناح کے حوالے سے چند ابتدائی دستاویزات کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے، جن میں سندھ مدرسۃ الاسلام کے چند صفحات، کرسچین مشن سکول کی دستاویز، برٹش میوزیم کا قائد اعظم کا لائبریری کارڈ، لنکن ان کو جمع کروائی گئی پیٹیشن اس کا جواب اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہیں۔
زیر نظر مجلہ میں ہم نے کوشش کی ہے قائداعظم محمد علی جناح سمیت جند دیگر نوابغ کے حوالے سے مقالات قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیے جائیں ۔گذشتہ دنوں عالم اسلام کے ایک عظیم مفکر اور سماجی راہنما ڈاکٹر کلب صادق کا بھی انتقال ہوا ان کے سانحہ ارتحال کی مناسبت سے بھی چند تحریریں پیش خدمت ہیں۔امید ہے ہماری یہ کاوش قارئین پیام کو پسند آئے گی ۔


 

مدیر ماہنامہ پیام 
سید اسد عباس
* * * * *
Read 173 times Last modified on سوموار, 07 دسمبر 2020 12:00

تازہ مقالے