جمعرات, 26 نومبر 2020 09:18


 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔

اگر اردن اور مصر سے اسرائیل کے تعلقات کی بحالی پر غور کیا جائے ،جو کہ جنگ کے نتیجے میں ہوئی تو اس وقت اردن اور مصر کے قائدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم یہ تعلقات اس لیے بحال کر رہے ہیں، تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کی بہتر طور پر ترجمانی کریں اور ہمارے اس اقدام سے فلسطین کاز کو طاقت ملے گی۔ مصر اور اردن کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے فلسطین کاز کو تقویت ملی یا نہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔

1977ء میں مصر اور اسرائیل کے مابین ہونے والے امن معاہدے میں کہا گیا تھا کہ مصر اور اسرائیل دونوں صحرائے سینا سے اپنی افواج نکال دیں گے۔ مصر اسرائیل کو تسلیم کرے گا، سویز کینال سے اسرائیلی کشتیوں کو گزرنے دیا جائے گا۔ اسی طرح اس معاہدے کا حصہ تھا کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں کا قبضہ چھوڑ دے گا اور فلسطینیوں کو اپنے علاقوں میں مکمل خود مختاری دی جائے گی، جو افسوس آج تک نہیں دی گئی۔ 1994ء میں اردن نے بھی اسرائیل سے ایک امن معاہدہ کیا، جس میں اردن اور اسرائیل کے باہمی مسائل کے حل کے علاوہ مہاجر فلسطینیوں کی آباد کاری اور مدد کی بات کی گئی، جو اب تک ایک خواب ہی ہے۔ اب 2020ء میں مزید دو عرب ممالک نے اسرائیل سے اپنے تعلقات کو بحال کیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی اس کامیابی کو فلسطینیوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

اگر مصر اور اردن کے امن معاہدوں کو بغور دیکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں ممالک نے اسرائیل کے ساتھ جنگیں لڑیں اور جب یہ دونوں ممالک جنگ کے ذریعے اسرائیلی تسلط کے خاتمے میں ناکام ہوئے تو ان کی قیادت نے اسی میں عافیت جانی کہ اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فلسطین کاز سے ایک قدم پیچھے ہٹا لیا جائے، تاہم بحرین، عرب امارات اور اب سعودیہ کو ظاہراً ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں ہے کہ جس سے بچنے کے لیے انہیں فلسطین کاز سے پیچھے ہٹنا پڑے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ مجبوری ہمارے علم میں نہیں ہے۔ اس عنوان سے دو امکانات موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان عرب ریاستوں نے فلسطین کاز کو ترک کرکے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا راستہ چنا ہے۔ ایک اقتصادی مشکلات اور دوسرا ایران اور اس کے اتحادیوں سے درپیش خطرات۔ ان دونوں امکانات کا تعلق ان عرب ممالک کے عوام سے نہیں بلکہ وہاں برسر اقتدار خاندانوں کے اقتدار سے ہے۔

کرونا کے سبب جہاں پوری انسانیت صحت سے متعلق ایک عذاب سے دوچار ہے، وہاں معاشی میدان میں بھی ممالک کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ عرب ممالک کو اپنی بڑی معیشتیں چلانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کی توقع انھیں مغرب سے ہے۔ اب مغرب اگر ان سے چاہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں، تاکہ سرمایہ کاروں کو ان ممالک میں سرمایہ کاری پر راضی کیا جاسکے تو میرا نہیں خیال کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے علاوہ عرب حکمرانوں کے پاس کوئی اور راہ موجود ہے۔ اسی طرح ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جو خطرہ عرب حکومتوں کے لیے کھڑا کیا گیا ہے، اس سے نمٹنے میں بھی اسرائیل اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لہذا اب ان عرب حکمرانوں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا کڑوا گھونٹ پیا جائے۔

اہم سوال یہ ہے کہ ان عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کو اس قدر اہمیت کیوں دی جاتی رہی یا دی جا رہی ہے؟ جہاں دسیوں ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور اس سے تعلقات کو معمول پر لائے ہیں، وہاں چند مزید سہی۔ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ یہ عرب ریاستیں بالخصوص عرب امارات اور سعودی عرب فقط دو عرب ممالک نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے علامتی حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک نظریاتی مکتب فکر کے پشت پناہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ عالم اسلام میں ان عرب ممالک کا اثر و رسوخ اس چیز کا باعث بنے گا کہ ان کے زیر سرپرستی کام کرنے والا مکتب فکر بھی اس عمل کی تائید کی راہیں تلاش کرے گا۔ یوں مسلمانوں کے مابین مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو آراء وجود میں آجائیں گی۔ ایک رائے جو فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتی ہے اور اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست تسلیم کرتی ہے جبکہ دوسری رائے وہ ہوگی جو کہ اسرائیل کے وجود کو بھی تسلیم کرتی ہے اور فلسطین کو بھی حقوق دینے کی بات کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دو ریاستی حل کی بات کرکے تقریباً سبھی مسلمان ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروا لیا گیا ہے، تاہم اس حل میں فلسطینی ریاست کا بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب جو حل صدی کی ڈیل کے ذریعے پیش نظر ہے، اس میں فلسطینی ریاست ایک نیم مردہ وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں اگر درج بالا مسلمان ریاستیں بھی اس منصوبے کی حمایت کرتی ہیں تو ایک طرح سے یہ فلسطینی کاز کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان عوام فلسطین کاز کو اپنی وابستگیوں سے ہٹ کر امت اور انسانیت کے ایک مسئلہ کے طور پر دیکھیں اور اس کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔





بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 283 times Last modified on ہفته, 28 نومبر 2020 09:21

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے