اتوار, 22 نومبر 2020 09:10


 
سید اسد عباس

شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی و فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درس و تدریس کے علاوہ لاہور کی مسجد میں خطیب تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی منظر عام پر آئے۔ اس رویئے اور بعد کے اقدامات کے سبب وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرمت رسول (ص) کے لیے قربانی دینے والے شجاع بزرگ اور قائد کے طور پر سامنے آئے۔

نومبر 2017ء میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنے سے مولانا ایک سیاسی تحریک کے بانی کے طور پر ابھرے۔ اسی دھرنے کے بعد 2018ء کے انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان کے عنوان سے اس جماعت نے الیکشن میں بھی حصہ لیا اور چند ایک صوبائی نشستیں جیتیں، علاوہ ازیں موجود جماعتوں کو سخت مقابلہ دیا۔

بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017ء میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کے لیے سخت گیر موقف اور مسلسل تحریک کے علاوہ مولانا کی دوسری شہرت ان کا انداز کلام تھا۔ وہ سٹیج پر اور دوران خطاب اکثر پنجابی گالیاں، جو کہ پنجاب کے عمومی معاشرے میں شاید بے ہودہ نہیں سمجھی جاتیں، دیتے تھے۔ ان کی یہ گالیاں سوشل میڈیا پر خاصی معروف تھیں۔ نظریاتی حوالے سے بھی مولانا ایک شدید رویئے اور نہج کے حامل انسان تھے اور اپنے موقف کے اظہار کے لیے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں فرماتے تھے۔ معروف سماجی کارکن عبد الستار ایدھی، ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کئی ایک شخصیات کو انھوں نے ہدف تنقید بنایا۔

جلسے کے دوران وہ حکومتی عہدیداروں، پولیس اور فوج کے افسران نیز خفیہ اداروں کے لوگوں پر بھی سخت تنقید کیا کرتے تھے۔ ان کے بیانات ایسے ہوتے تھے، جن پر خواب میں ہی عمل ممکن ہے۔ ایسا ہی ایک بیان انھوں نے کراچی میں دیا تھا کہ اگر ان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ ہالینڈ کو کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے سے پہلے ہی پوری طرح سے برباد کر دیتے۔ حالیہ دنوں میں بھی ان کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ایٹم بم کو نکال کر استعمال کرو۔بہت سی شخصیات کو ان کے اسی طرز تخاطب سے شکایت رہی، اگر کوئی ان کی منہج کو درست سمجھتا بھی تھا تو شاید ان کے طرز تخاطب کی وجہ سے ان سے دور تھا۔ بعض لوگ ان کے شدت پسندانہ رویہ کے سبب بھی ان کے ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کی تحریک کا فعال حصہ نہ بن سکے۔ کچھ لوگ اس تحریک میں شامل ہو کر ان سے جدا ہوگئے۔ مخالف مسالک کے حوالے سے خادم حسین رضوی مرحوم  کا موقف بھی سخت گیر تھا اور طرز تخاطب بھی وہی تھا، جو شخصیات کے حوالے سے ہوتا تھا۔ اپنے سامعین کو ہنسانے کے لیے وہ آوازیں بھی بدلتے تھے اور نقالی بھی کر لیا کرتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ان کی چند ویڈیوز کافی معروف ہیں، جس میں وہ دیوبندی اذان اور شیعہ عزاداری کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

2017ء کے دھرنے کے بعد خادم حسین رضوی مرحوم حکومتی حراست میں رہے اور پھر تقریباً روپوشی کی زندگی گزارنے لگے۔ انھوں نے اپنی روپوشی کا خاتمہ ایک مرتبہ پھر نومبر میں ہی چند روز قبل ایک دھرنے سے کیا، جس کے چند روز بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا خادم حسین رضوی کو آیا کسی کی پشت پناہی حاصل تھی، یہ ایک معمہ ہے۔ تاہم معاشرے کا ایک خاص قدامت پسند طبقہ ان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسی مقبولیت کی بنا پر وہ پر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ اگر اس تحریک کی بنیاد پر غور کیا جائے تو بنیادی طور پر اس کا سبب عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہے، جو تقریباً ہر مسلمان کے لیے ایمانیات کا مسئلہ ہے۔ مولانا خادم اور ان کے پیروکار اس گروہ کا حصہ ہیں، جو شاتم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سزا سر تن سے جدا سے کم پر راضی نہیں۔ شاید سبھی مسلمان شاتم رسول (ص) کی اسی سزا پر یقین رکھتے ہیں، تاہم اس سزا کے نفاذ کے سلسلے میں مختلف روشوں کے حامل ہیں۔

بعض کے خیال میں واقعہ کی تحقیق ضروری ہے، بعض کے خیال میں یہ فیصلہ عدالت کو کرنا چاہیئے، بعض شاتم کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھنے کے قائل ہیں۔ تاہم تحریک لبیک اور اس کے پیروکار وہ گروہ ہے، جو ان سب لوازمات کا قائل نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار کے لیے لازم سمجھتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدام کریں۔ اسی لیے تو مولانا خادم حسین رضوی ممتاز قادری کے اقدام کی حمایت میں کھڑے ہوئے اور انھوں نے ممتاز قادری کے جنازے میں خود آکر اسے عزت و احترام سے نوازا۔ شدت پسند عقیدہ اگرچہ بذات خود ایک خطرناک چیز ہے، جو معاشرے میں کسی قانون اور انتظامیہ کو نہیں مانتا، تاہم اگر اس ذہن کے حامل افراد ایک نظم کی صورت اختیار کریں اور منظم طور پر اپنے مفادات کے تحفظ نیز مخالفین کے لیے مقابلہ کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تو یہ صورتحال معاشرے کے لیے زیادہ تشویشناک امر ہے۔

خادم حسین رضوی کی رحلت سے تحریک لبیک یا اس فکر کا خاتمہ نہیں ہوا، بلکہ اب مولانا کی تحریک ایک نئے فیز میں داخل ہوچکی ہے۔ اس تحریک کے مستقبل کا کافی انحصار مولانا کے بیٹے کی تربیت اور صلاحیت پر ہے، جن کو نیا امیر منتخب کیا گیا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اب یہ جماعت ایک سیاسی دھڑے کے طور پر ہمارے معاشرے کا حصہ بنے گی، جس کا آغاز مولانا خادم حسین رضوی کی ہی زندگی میں ہوچکا ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اہلسنت اور بریلوی مکتب فکر کی ہم خیال مذہبی جماعتیں اور شخصیات اگلے مرحلہ میں ایک مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ایوان ہائے اقتدار میں آنے کی کوشش کریں، جس کی قیادت تحریک لبیک کے ہاتھوں میں ہو۔ ہم ملک کی دو سیکولر جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کی عوام میں مقبولیت میں کمی کا مظاہرہ دیکھ چکے ہیں۔ ان جماعتوں کی سیاسی شخصیات کی کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور اچھل کود نے عوام کو مایوس کیا ہے اور اب ان کو متبادل کی تلاش ہے۔ مذہبی بیانیہ، مولانا کی تحریک، جوان قیادت کا طرز عمل اور ملک میں مسلکی تفریق اس متبادل کے چناو میں ایک اہم عامل ہوگی۔ اگلے انتخابات میں تو نہیں، تاہم آنے والے برسوں میں ہمیں مذہبی بنیاد پر منتخب ہونے والے نمائندگان قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بکثرت نظر آئیں گے۔





بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 217 times Last modified on ہفته, 28 نومبر 2020 09:18

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے