سوموار, 23 نومبر 2020 16:21


 
سید ثاقب اکبر نقوی

2 جنوری کو بغداد سے القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے کمانڈر مہندس ابو مہدی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت کی بہت بڑی خبر کے بعد سال کے آخر میں ان دنوں پھر بڑی بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بڑی خبروں کا اصل سرچشمہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اصولی طور پر 21 جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس کو ترک کرنا ہے لیکن وہ مسلسل ایسی تدابیر پرغور کر رہے ہیں یا ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن سے انھیں کچھ عرصہ مزید اقتدار رہنے کا موقع مل جائے۔ تاہم انھیں جتنے دن بھی ملیں گے، وہ اپنے عالمی سطح کے طاغوتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے اقدام کرتے رہیں گے۔


اقتدار میں آنے کے بعد ان کے بڑے منصوبوں میں سے ایک یہ رہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرلیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین خبر کے مطابق سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو اور صہیونی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے ملاقات کی ہے، جو پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ دنیا کے مختلف خبر رساں اداروں نے اسرائیلی ٹیلی ویژن ٹی وی سیون اور اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے حوالے سے یہ خبر جاری کی ہے۔ یہ ملاقات گذشتہ روز (اتوار 22 نومبر2020ء) کو ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے لیے اسرائیلی ہوائی اڈے، بن گورین سے ایک خفیہ پرواز کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے سربراہ سعودی عرب پہنچے تھے۔ اس ملاقات کی تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، البتہ اس کا ایک بڑا ہدف اسرائیل کو تسلیم کیا جانا اور علاقے میں اسرائیل کی تقویت کے لیے امریکی منصوبوں کو آگے بڑھانا ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیل عرب اتحاد کو ایران اور اس کے حامیوں کے خلاف مضبوط کرنا اس کے مقاصد میں شامل ہوسکتا ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہوئے انہی مقاصد کو بیان کیا ہے۔ انہی دنوں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی B-52 طیاروں کی دو کھیپیں روانہ کی ہیں۔ ان اقدامات سے ان خبروں کو تقویت ملتی ہے، جن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ایران پر فوجی حملے کے لیے مشاورت کی ہے۔ اگرچہ جاری کی گئی خبروں کے مطابق فوجی مشیروں نے اس تجویز کی تائید نہیں کی، لیکن صدر ٹرمپ کے مزاج میں انہونیوں کو کر گزرنا شامل رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یمن کی پاپولر موومنٹ انصاراللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی Category میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

صدر ٹرمپ امریکہ کی سیاسی روایات سے ہٹ کر مختلف ریاستوں کے عوامی نمائندوں کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لیے ہموار کر رہے ہیں۔ ماضی میں عوامی نمائندگان ریاست کے پاپولر ووٹ کو دیکھ کر صدر کے لیے فیصلہ کرتے رہے ہیں۔ اسی بنا پر عالمی سطح پر جوبائیڈن کو آئندہ کا امریکی صدر سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ آئینی تقاضا نہیں سمجھا جاتا، تاہم عوام کی رائے کے احترام میں ہر ریاست کے منتخب نمائندے پاپولر ووٹ کو سامنے رکھتے ہوئے صدر کے حق میں ووٹ دیتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح سے اس روایت کو تبدیل کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ نمائندوں پر زور ڈالا جائے کہ وہ ان کے حق میں رائے دیں، تاکہ انھیں مزید چار سال اقتدار میں رہنے کا موقع مل جائے۔ علاوہ ازیں جنگ چھیڑنے کی صورت میں بھی انھیں ہنگامی حالات میں کچھ عرصہ مزید اقتدار میں رہنے کا جواز مل سکتا ہے۔ اقتدار کے لیے ان کا حرص اور ان کے مسلسل اوچھے ہتھکنڈوں کو سامنے رکھا جائے تو وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی طرف صدر ٹرمپ کی پیش قدمی بھی واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔ سعودی عرب بھی اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو ایران کے خلیجی ہمسایوں میں اسرائیل ایران کے خلاف دوبدو جنگ میں حصے دار بن سکتا ہے۔ یمن کے خلاف جاری جنگ کی باگیں بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اگرچہ زمینی طور پر ساڑھے پانچ سال میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی یہ جنگ نہیں جیت سکے بلکہ حالیہ دنوں میں انھیں مزید ہزیمتوں کا شکار ہونا پڑا ہے، لیکن بعید نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ کسی نئے فوجی معاہدے کے تحت نئے معرکوں میں اسرائیلی فوج کو شریک کر لیا جائے۔

آج (23 نومبر 2020ء) کی خبروں کے مطابق یمن کی طرف سے سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی تنصیبات آرامکو پر ایک اور حملہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ آرامکو یا سعودی عرب کے کسی سرکاری ادارے کی طرف سے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی لیکن یمنی کمانڈر جنرل یحییٰ سریع نے یہ خبر میڈیا کے سامنے بیان کی ہے۔ ان کی ماضی کی بیان کی ہوئی خبریں درست ثابت ہوتی رہی ہیں۔ علاوہ  ازیں گذشتہ دنوں یمنی فوج نے ماٰرب کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے ایک نہایت اہم فوجی چھائونی ماس پر قبضہ کر لیا ہے، جس کے بعد ماٰرب پر اس کی دسترس آسان ہوگئی ہے۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد یمن کے کچھ علاقے پر قائم سعودی حمایت یافتہ مستعفی یمنی صدر منصور الہادی کی نام نہاد حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا، جو پہلے ہی اماراتی فوج اور دیگر شدت پسند گروہوں کی طرف سے مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔

دوسری طرف ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ علاقے میں تمام امریکی فوجی اڈے  اس کی دسترس میں ہیں۔ اسرائیل کے خلاف بھی ایران نے اپنی طرف سے تیاری مکمل کر رکھی ہے۔ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یقینی طور پر یہ بہت ہولناک ہوگی۔ کیا امریکی صدر ٹرمپ کو اس سلسلے میں واقعی جلدی ہے؟ اس کا جواب تو وقت ہی دے گا، لیکن ان کے عرب اور اسرائیلی دوست یہی سمجھتے ہیں کہ اگر جوبائیڈن امریکہ میں برسراقتدار آگئے تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہرگز جاری نہیں رکھیں گے۔ یقیناً ان کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ صدر ٹرمپ کسی نہ کسی طرح سے مزید اقتدار میں باقی رہ جائیں، جنھیں وہ اپنا بہتر دوست سمجھتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک پر جہاں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو بڑھایا جا رہا ہے، وہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوشش ہوگی کہ کسی جنگ کی صورت میں پاکستان ان کا ساتھ دے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ بہت بڑا امتحان ہوگا، جو پہلے ہی گومگو میں مبتلا ہے۔ اگر پاکستان کو کسی بڑی مشکل سے بچانا ہے تو گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہوگا اور ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے پاکستان کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔






بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 295 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے