منگل, 03 نومبر 2020 08:28


 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکہ میں کل (3 نومبر2020ء) کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دو بوڑھے پہلوانوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ریپبلکن کے نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گذشتہ چار سال میں اپنے سارے ہنر دکھا چکے ہیں اور دوسری طرف ڈیموکریٹس کے کہنہ کار امیدوار جوبائیڈن ہیں، جو باراک اوبامہ کے دور میں ان کے نائب رہ چکے ہیں اور افغان امور سے گہری شناسائی رکھتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں کی داخلہ پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن بین الاقوامی سیاست کے اہم مسائل پر ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان انتخابات پر ہمارا میڈیا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔

اس کے لیے خصوصی ٹرانسمیشنز کا اعلان کیا گیا ہے، بعض ٹی وی چینلز نے 24 گھنٹے کی ٹرانسمیشن کا انتظام کیا ہے۔ بعض اخبارات نے بھی خصوصی ایڈیشنوں کا اہتمام کیا ہے۔ مذاکروں اور ٹاک شوز کا سلسلہ اس پر مستزاد ہے، جو نہ جانے انتخابات کے بعد بھی کتنے روز تک جاری رہیںگے۔ عالمی حالات کے ’’ماہرین‘‘ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں، کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے، کوئی جو بائیڈن سے ’’نیک امیدوں‘‘ کا اظہار کر رہا ہے۔ اس طرح کے اہتمامات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن امریکہ ویسے کا ویسا ہی ہے جیسے وہ پہلے تھا۔ اس کی کہہ مکرنیوں میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ دھونس دھاندلیوں میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ کمزور قوموں کو دبانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے وہ ہمیشہ سے ہر حربہ استعمال کرنے کو جائز گردانتا رہا ہے، آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

ایسے میں ہمارے ماہرین یہ کار خیر کیوں انجام دے رہے ہیں؟ امریکہ کے صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کی حمایت میں ہمیں ہموار کرنے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ جس زمانے میں امریکہ ہمارا اتنا اچھا دوست تھا کہ ہمیں ’’نان نیٹو اتحادی‘‘ کا درجہ حاصل تھا، ہمارے فوجی صدر پرویز مشرف کی امریکہ میں ایسی ناز برداریاں کی گئیں کہ جن کی مثال پاک امریکہ تعلقات میں کم ملتی ہے، اسی زمانے میں امریکہ جو کچھ ہمارے ساتھ کرتا رہا، اس پر ایک شاعر نے کیا خوب لفظوں میں عکس بندی کی ہے:

دوستی کا دعویٰ ہے، دشمنوں سا لہجہ ہے
حد بھی پار کرتے ہو، روز وار کرتے ہو
سازشوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟

خون بھی بہاتے ہو، پیار بھی جتاتے ہو
کتنے گھر گرائے ہیں، کتنے ظلم ڈھائے ہیں
نفرتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟

سینکڑوں جواں لاشے، ملک بھر میں ہیں بکھرے
دشمنوں سے جنگوں میں، کھوئی تھیں نہ یوں جانیں
وحشتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟

مانگتے مدد بھی ہو، چاہتے رسد بھی ہو
دھونس بھی جماتے ہو، حکم بھی چلاتے ہو
دھمکیوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟

چَین اپنا غارت ہے، کیسی یہ شراکت ہے؟
دہر بھر میں رسوا بھی، طعنوں کا نشانہ بھی
تہمتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟

ہم پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جو بھی وائٹ ہائوس میں آ بیٹھے، کیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں وہ کوئی دلچسپی لے گا؟ کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلوانے میں وہ کوئی کردار ادا کرے گا؟ کیا بھارت کے جوہری دھماکوں کے بعد اس کے ساتھ جو جوہری روابط امریکہ نے برقرار کیے ہیں، پاکستان کے لیے بھی وہ کوئی ایسا راستہ کھولے گا؟ کیا نیا امریکی صدر بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت سے روکنے میں کوئی کردار ادا کرے گا؟ یاد رہے کہ یہ وہی امریکہ ہے جس نے 1965ء میں اپنے اتحادی پاکستان پر فوجی ضروریات سے متعلق فاضل پرزوں کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ اس زمانے میں بھارت روس کا اتحادی تھا اور یہ وہی امریکہ ہے جس کا بحری بیڑہ 1971ء میں خلیج بنگال میں کھڑا پاکستان کے ڈوب جانے کا تماشا کرتا رہا۔ اس کی تماشا بینی پاکستان کی نہیں بھارت کی حوصلہ افزائی کے لیے ثابت ہوئی۔ اسی طرح ہمارا یہ سوال بھی ہے کہ کیا نیا امریکی صدر سی پیک کی مخالفت بند کر دے گا۔؟

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو کوئی سا بھی نیا امریکی صدر آئے اسرائیل کی ناز برداریاں اسی طرح جاری رہے گی، جیسے اس وقت جاری ہے۔ عراق کی تباہی کا آغاز ڈیموکریٹک صدر کے دور میں ہوا۔ داعش کی بنیاد ڈیموکریٹ اقتدار نے رکھی اور اسے ریپبلکن صدر کی سرپرستی میں پروان چڑھایا گیا اور عراق کے بعد اسے شام، افغانستان اور دیگر ملکوں میں بھی لانچ کیا گیا۔ جب تاریخ  ان حقائق سے بھری پڑی ہے تو ہمارے تجزیہ کار ہمیں کیوں کبھی اس صدارتی امیدوار کی حمایت میں آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اُس کی حمایت میں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ساری کیفیت پر ’’پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کی ضرب المثل ہم پر صادق آتی ہے۔  ’’عبداللہ دیوانہ‘‘ نے تو شاید زخم نہ کھائے ہوں، لیکن ہم وہ دیوانے ہیں جو امریکہ کے ہاتھوں کئی زخم کھا چکے ہیں اور آج بھی کھا رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی زنجیریں کس نے ہمارے پائوں میں باندھ رکھی ہیں۔ کسی نے بھارت کو ہم پر مسلط کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ بلڈ بارڈرز کے نظریئے کے مطابق کس نے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ کون ہے جس نے پاکستان میں فرقہ واریت کے فروغ اور عدم استحکام کے لیے حال ہی میں سو ملین ڈالر وقف کیے ہیں۔

یہ تو پاکستان کا حال ہے، عالم اسلام کے دیگر ملکوں میں امریکہ کی کس پارٹی نے برسراقتدار آکر رحم کھایا ہے۔ مسلمانوں کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ ہر امریکی صدر اور اس کی انتظامیہ نے جاری رکھا ہے، اب بھی ایسا ہی رہے گا۔ تبدیلی ہمارے اندر آنا چاہیئے، امریکہ میں تبدیلی کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا، اگرچہ چہرے بدل جائیں اور چہروں پر نقاب بدل جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خصوصیت کو البتہ یاد رکھا جائے گا کہ اس نے کئی ایک نقاب اتار پھینکے۔ وہ ملک میں داخلی طور پر بھی حقیقی حکمرانوں کی واضح شکل کے ساتھ سامنے آیا اور بیرونی دنیا کے لیے بھی استعماری حقیقت کی عریاں تصویر بنا رہا۔ دنیا کو اسی امریکہ کے ساتھ ابھی کچھ عرصہ اور رہنا ہے۔ مستقبل کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حوصلہ مندانہ عزم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ امریکی حمایت یافتہ مکہ میں ہو تو مکہ سے خیر کی خبر نہیں آئے گی اور ٹرمپ کی جگہ وائٹ ہائوس میں جو بائیڈن ہو تو بھی ہمیں اسی طرح سے باندھنے کی کوشش کرے گا جیسے ماضی کے صدور کرتے رہے ہیں۔




بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 335 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے