منگل, 05 مئی 2020 20:11


 
سید ثاقب اکبر نقوی

سیف الدین سیف نے کہا تھا:
خریدتا  تھا  بھلا  کون  ٹھیکرا  دل  کا
وہ لے گئے ہیں کہ پیالہ بہت ہی سستا ہے

لیکن تیل کی صورت حال عالمی سطح پر بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص اس سے بھی مختلف ہے۔ اس کے لیے ایک مبصر نے یہ مثال دی ہے:

آپ کے گھر کے باہر کوڑے کا ڈھیڑ پڑا ہے۔ آپ اسے اُٹھانےکے لیے کسی کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور پیسے دے کر کوڑا اٹھواتے ہیں۔

امریکہ کا تیل اب اس صورت حال سے دوچار ہے۔ جو احباب پوچھتے ہیں کہ تیل کی قیمت منفی کیسے ہوسکتی ہے، وہ کوڑے والی مثال کو پیش نظر رکھیں۔ البتہ اس کی کچھ وضاحت مزید کیے دیتے ہیں۔

تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں تیل پیدا کررہی ہیں، دنیا میں کورونا کی وحشت نے ٹریفک تقریباً جام کردی ہے۔ ایرٹریفک نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ریل گاڑیاں گاہے گاہے حرکت کرتی ہیں اور وہ بھی سامان لے جانے اور لے آنے والی گاڑیاں۔ سڑکوں پر کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ ایسے میں تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ بے شک فارسی پڑھو یا عربی لیکن تیل خریدنے والے دکھائی نہیں دیتے، اُن کے ہاتھ سوگئے ہیں سرھانے دھرے دھرے۔ پھر ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ صورت حال کب تک رہے گی۔ عالمی ادارہ صحت ڈرائے جاتا ہے کہ ابھی بہت لمباعرصہ انسانوں کو اس کورونا کے ساتھ جینا اور مرنا ہوگا۔

پاکستان کا تو کیا کہنا کہ اس کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت چند روز سے زیادہ کی نہیں ہے، امریکی صدر نے کہا ہے کہ انھوں نے تیل ذخیرہ کرنے کی استعداد میں 75فیصد اضافہ کرلیا ہے۔ چین دھرا دھر نئے ذخائر تیار کررہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ ذخائر بھی بھر گئے تو کیا ہوگا۔ پھر یہ ذخائر بھرنے میں اب زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ روزانہ کئی ملین بیرل کی پیداوار تو ایک ملک کی ہے۔ باقیوں کو بھی شمار کرلیں۔ ان حالات میں بڑی کمپنیاں آئل ٹینکر کرائے پر حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں کیونکہ ایک ایک بڑا آئل ٹینکر لاکھوں بیرل تیل اٹھا سکتا ہے۔ کمپنیوں کا خیال یہ ہے کہ ٹینکروں کو بھریں گے اور سمندوں میں کھڑا کردیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنے ٹینکر، کتنا تیل اور کتنا عرصہ؟ ایسے میں ہر کمپنی کے اہل کاروں اور کارکنوں کی تعداد ہزاروں کو پہنچتی ہے۔ جب تیل ہی نہیں بکے گا، بلکہ ٹینکروں اور ذخائر کے کرائے پر خرچ اُٹھے گا تو کمپنیوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ ان حقائق کو سامنے رکھ کر یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ امریکی تیل ایک مرحلے میں منفی 37ڈالر فی بیرل پر کیسے آگیا تھا۔

یہاں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکی معیشت میں تیل کی فروخت کا کوئی بڑا حصہ نہیں۔ اس لیے اس کی وجہ سے امریکی معیشت پر کوئی قابل ذکر دباؤ نہیں آئے گا۔ امریکی معیشت کے لیے خطرات کچھ اور نوعیت کے ہیں۔ روس کی معیشت کا بھی تیل پر انحصار کچھ بہت زیادہ نہیں، اگرچہ امریکہ سے کچھ زیادہ ہے لیکن بظاہر روس اس صدمے کو سہ جائے گا۔

اس عفریت کا اصل شکار وہ معیشتیں ہیں جن کا بیشتر انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ ان میں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق نمایاں ہیں۔ دنیا میں تیل کے ذخائر کے اعتبار سے ایران اگرچہ تیسرا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے اور پہلے نمبر پر وینزویلا کا نام آتا ہے، دوسرے نمبر پر سعودی عرب ہے اور چوتھے نمبر پر عراق ہے تاہم ایران پر گذشتہ اکتالیس برس کی پابندیوں کی برکات اب زیادہ واضح ہوکر سامنے آرہی ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر عائد کی جانے والی پابندیاں دن بدن خوفناک صورت حال اختیار کرتی رہیں اور صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہم ایران کی تیل کی فروخت کو صفر تک پہنچا دیں گے ۔ ماضی میں بھی پابندیاں اور جکڑبندیاں رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایران نے اپنی معیشت کے لیے متبادل راستے تلاش کرلیے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تیل کی موجودہ صورت حال سے وہ ملک زیادہ متاثر ہوں گے جن کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل کی فروخت پر ہے، ایران نے تو اپنی معیشت کے لیے متبادل راستے پہلے ہی اختیار کررکھے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ ایران پر پابندیاں عائد کروانے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔

عراق کے بارے میں اس مضمون میں ہم زیادہ بات نہیں کرتے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کریں گے کہ عراقی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اقتدار میں آتے ہی کرپشن کی جن ہوشربا داستانوں کو جنم دیا تھا اب اُن کی آخری قسط بھی ختم ہونے کو ہے۔ ایک زرخیز ملک اور دجلہ و فرات کی وادیاں جب قناعت پسند حکمرانوں کے ہاتھ میں آئیں گی تو عراق بھی غلامی کی دلدل سے حقیقی طور پر نکل جائے گا۔

البتہ سعودی عرب اور امارات کا کیا بنے گا جن کے حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھریں۔ تیل بیچا اور امریکہ و یورپ سے تباہ کن اسلحہ خریدا۔ ہمسایوں کو ڈرایا، یمن کو بارود برسا کر تباہ کیا۔ اُن کے پاس اب امریکہ کو دینے کے لیے کتنے پیسے رہ گئے ہیں؟ جن شاہی طور طریقوں کے وہ عادی ہوچکے ہیں انھیں کیسے تبدیل کریں گے؟ امریکی اور یورپی بینکوں میں جمع شدہ رقم کے ضبط ہونے کے دن قریب آگئے ہیں۔ 

کیا امریکہ کے پاس رکھی ہوئی امانت کو بھی محفوظ سمجھا جاسکتا ہے؟ شاہ ایران مخلوع و معدوم سے بھی انھوں نے سبق نہ سیکھا جسے مرنے اور دفن ہونے کی بھی مہلت اپنی سرزمین پر امریکہ اور اس کے حواریوں نے نہ دی اور اس کی جمع کروائی گئی رقم جو امریکی بینکوں میں تھی اس پر قبضہ کرلیا گیا حالانکہ وہ دولت تو ایرانی عوام کی تھی۔ اس داستانِ عبرت آموز و غم انگیز کے اور بھی بہت پہلو ہیں لیکن آج کی نشست میں اتنا ہی کافی سمجھیے اور تیل فروشوں اور اسلحہ کے خریداروں سے ایک مرتبہ پھر کہنے دیجئے کہ: اب بیچو تیل ۔۔۔۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 433 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے