سوموار, 02 مارچ 2020 07:11




میں کیوں کہوں کہ ترے بن بسر نہیں ہوتی
ضرور ہوتی ہے، ہوتی ہے پر نہیں ہوتی

 

کچھ اشک و آہ سے ہو واسطہ تو عرض کروں
زبان و لفظ سے عرضِ ہنر نہیں ہوتی

اک اور عمر ملے تو حدیثِ درد کہوں
شبِ فراق کبھی مختصر نہیں ہوتی

فرازِ دشت کے ہر خار کو گواہ کرو
مہم وفا کی دعائوں سے سر نہیں ہوتی

کہو یہ گردش افلاک کی تمنّا سے
اڑان کوئی بھی بے بال و پَر نہیں ہوتی

مری کہانی کو یہ کَہ کے مسترد نہ کرو
کہ بے خبر کی کہی معتبر نہیں ہوتی

اگرچہ تو نے مرے ہم سفر سے پوچھا ہے
گواہِ سوز دروں چشمِ سر نہیں ہوتی

تمام رات پگھلتا رہا ہے جس کا وجود
وہ ایک شمع شریکِ سحر نہیں ہوتی


دوا، دلیل، نصیحت سنبھال کر رکھ لو
مریضِ ہجر پہ یہ کارگر نہیں ہوتی

تمھاری آنکھ کے غم میں میں رو دیا ثاقب
ہجوم درد ہے لیکن یہ تر نہیں ہوتی 


* * * * * 

Read 352 times