بدھ, 26 فروری 2020 07:20




انسان کا غم کھانا انساں کا بھرم رکھنا
غم خانے کے مخزن میں محفوظ یہ غم رکھنا

 

اپنی یہ روایت ہے اس کو تو نبھانا ہے 
بازو تو کٹا دینا‘ پر اونچا علم رکھنا 

وہ جن کی شرافت کے سب قصر ہیں مانگے کے 
کیوں ان سے تقاضا ہو : وا باب کرم رکھنا 

ہم دُھن پہ نظر رکھیں‘ تم دَھن پہ نظر رکھو 
ہم اپنا دھرم رکھیں‘ تم اپنا دھرم رکھنا 

جب ان کی بلندی کے سب راز عیاں ہوں گے 
پھر بھول نہ جائیں وہ کندھوں پہ قدم رکھنا 

بجھتے ہوئے حرفوں نے دیوار پہ لکھا ہے 
اے اہلِ قلم ! روشن یہ شمعِ قلم رکھنا


* * * * * 

Read 527 times