منگل, 25 فروری 2020 16:38




وکیل و قاضی کو اپنے خلاف کر لوں گا
میں جرمِ آگہی کا اعتراف کر لوں گا

 

وہ حال پوچھیں کروں گا نثار خندۂ لب
جہانِ درد کو زیرِ غلاف کر لوں گا

فقیہ شہر کے فتووں کے تیر کھائے ہیں
تو شہریار سے بھی اختلاف کر لوں گا

تمھارے کعبۂ رخسار کا جو خالِ سیہ
نظر پڑے گا تو میں سو طواف کر لوں گا

تری طلب کو ملے ایک جامِ آبِِ حیات
ہزار خواہشوں کا خوں معاف کر لوں گا

مری وفا پہ اگر حرفِ شین کاف آیا
ثبوتِ حق کو جگر شین قاف کر لوں گا

رقیب جب بھی اڑائے گا گردِ ذکرِ جفا
شتاب آئینۂ دل کو صاف کر لوں گا

ترے حرم کو میں احرام چاک نکلا ہوں
جناب شیخ سے پھر اختلاف کر لوں گا

جمالِ یار کی کرنوں کی آرزو لے کر
عبور راہ کے سب کوہ قاف کر لوں گا


* * * * * 

Read 364 times