سوموار, 24 فروری 2020 07:05




ماتم شہ میں جو ہم ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
پایۂ تختِ ستم شاہی ہلا دیتے ہیں

 

اِن کی حکمت سے، بصیرت سے نہ اُلجھے کوئی
نامِ دشمن کو یہ دشنام بنا دیتے ہیں

وہ اگر ہیں تو محمدؐ کی نبوت محفوظ
جن کے سر نیزوں پہ قرآن سنا دیتے ہیں

کیوں نہ گھبرائے عدو اُن کے کھلے ہاتھوں سے
جو رسن بستہ بھی ایوان ہلا دیتے ہیں

ہاتھ کٹ جائیں تو سینے سے لگا لو پرچم
قافلے والو! یہ عباسؑ صدا دیتے ہیں

حیف! انسان ہو اور فیض سے محروم رہے
یہ تو مٹی کو بھی تاثیرِ شفا دیتے ہیں

دشمنِ دیں کو نہ رہنے دو کبھی زیرِ نقاب
کوفہ و شام کے زندان صدا دیتے ہیں

دو چھلکتی ہوئی آنکھوں کے کٹورے لے کر
آج پیاسوں کی طرف ہاتھ بڑھا دیتے ہیں

جاتے ہیں مالکِ کوثر کی قدم بوسی کو
ثاقبؔ اب دیکھیے کیا دستِ سخا دیتے ہیں 


* * * * * 

Read 426 times