الجمعة, 21 فروری 2020 08:32




مالکِ چادرِ عصمت ہے اور تطہیر کی ملکہ ہے 
باپ نے جس کو عطا کردی خلعت اُمّ ابیھا ہے

 

دخترِ سرورِ عالمؐ ہے بنتِ خدیجہؑ کبریٰ ہے
پیکر عظمت وہ خاتون سیّدہ فاطمہ زہراؑ ہے

آیۂ تطہیر آ کے نبیؐ جس کے در پر پڑھتا ہے
جس کا حسینؑ ہو یا ہو حسن ؑ دوش نبیؐ پر بیٹھا ہے

جس کے بَچّوں کو دنیا نے سید و سرور مانا ہے
جس کی چوکھٹ کو سلماںؓ، عمارؓ، اویسؓ نے چوما ہے

جس کو بعد نبیؐ جبریلؑ پُرسہ دینے اُترا ہے
پیکرِ عظمت وہ خاتون سیّدہ فاطمہ زہراؑ ہے

جس کو دیکھ کے پیغمبرؐ مسند چھوڑ کے اٹھتا ہے
آل نبیؐ میں جس کا نام راضیہ ہے مرضیّا ہے

اور فرشتوں میں مشہور وہ جو بتول عذرا ہے
باغ رضواں کی مالک ، حوض کوثر جس کا ہے

جس کی مثال نہیں ممکن دو عالم میں یکتا ہے
پیکر عظمت وہ خاتون سیدہ فاطمہ زہراؑ ہے 

جس کا ظاہر خاکی ہے جس کا باطن نوری ہے 
جس کے حق میں کوثرودہر اتری پوری کی پوری ہے


جس بن ناقص مدح نبیؐ اور صلوات ادھوری ہے
ویسے بھی اس کو ایماں میں شامل کرنا ضروری ہے

جس کے حق میں نبیؐ کہہ دے یہ تو میرا ٹکڑا ہے
پیکرِ عظمت وہ خاتون سیّدہ فاطمہ زہراؑ ہے 

جس کے باپ کے بعد کوئی ہرگز پیغمبر بھی نہ تھا
خانہ نشیں وہی جس کے سوا تاجورِ کوثر بھی نہ تھا

ہوتے نہ حیدر صفدرؑ گر اس کا کوئی ہمسر بھی نہ تھا
اٹھتا نہ اس کا حسینؑ اگر دیں کا کوئی یاور بھی نہ تھا

اس کا حسنؑ جب صلح کرے تیسرا چہرہ کھلتا ہے
پیکرِ عظمت وہ خاتون سیّدہ فاطمہ زہراؑ ہے 

* * * * * 

Read 420 times