جمعرات, 02 جنوری 2020 00:57



 
سید ثاقب اکبر نقوی

29 دسمبر 2019ء کو امریکی فضائیہ نے شام کی سرحد کے قریب صوبہ الانبار کے ضلع القائم میں عراق کی سرکاری ملیشیاء الحشد الشعبی کے ایک بریگیڈ کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر فضائی حملہ کیا،

جس میں حزب اللہ کے ترجمان محمد محیی کے مطابق 27 افراد شہید اور 51 زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق ان شہداء اور زخمیوں میں کوئی غیر عراقی نہیں۔ محمد محیی نے یہ انٹرویو آج(بدھ یکم جنوری 2020ء) کو خبر ایجنسی العہد کو دیا۔ یاد رہے کہ الحشد الشعبی عراق کی وہی پاپولر رضاکار فورس ہے، جس نے اس دور کے بدترین عفریت داعش کو عراق میں شکست سے دوچار کیا اور عراق کی سرزمین اس سے آزاد کروائی، جس کے بارے میں مقامی اور عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسے خود امریکا نے ایجاد کیا تھا۔ داعش کی شکست عراق اور شام میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کی شکست سمجھی جاتی ہے۔

چنانچہ اپنے انٹرویو میں محمد محیی کا کہنا ہے کہ امریکا اور صہیونی حکومت کی الحشد الشعبی سے دشمنی بالکل واضح ہے۔ وہ اسے اپنے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھتے ہیں۔ لہٰذا امریکا اور صہیونی حکومت اسے نشانہ بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے کوشش کی ہے کہ عراق میں عوامی اعتراضات سے سوئے استفادہ کریں اور ان کے مظاہروں کو عراق کی داخلی جنگ میں تبدیل کر دیں، لیکن عوام کی آگاہی اور الحشد الشعبی کے اقدامات کی وجہ سے وہ یہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکے۔ امریکا نے پس پردہ رہ کر کتائب حزب اللہ عراق اور الحشد الشعبی کو نقصان پہنچانے کی جو کوششیں کیں، وہ ناکام ہوگئیں۔ لہٰذا اب وہ کھل کر میدان میں آگیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا پہلے بھی غیر اعلانیہ طور پر الحشد الشعبی پر ایسے حملے کرتا رہا ہے۔ البتہ آج اس نے بڑی جسارت سے اور واضح طور پر اپنی دشمنی کو ظاہر کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکا کی بہت بڑی حماقت ہے۔

دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی چھائونی پر حملہ 27 دسمبر کو کرکوک کے فوجی اڈے میں اپنے ایک کنٹریکٹر کی ہلاکت کے جواب میں کیا ہے۔ امریکا کا یہ دعویٰ عراق کی حکومت اور مختلف جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کی فوجی چھائونی پر حملے کے خلاف اس وقت عراق میں بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل سامنے آرہا ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ امریکا عراق سے نکل جائے۔ عراقی صدر نے امریکی حملے کو عراق کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں تین دن کے لیے سوگ کا اعلان کیا۔

الحشد الشعبی کے ایک اور بریگیڈ عصائب اہل الحق کے راہنما قیس خز علی نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی عراق میں کوئی ضرورت نہیں، یہ برائیوں کی جڑ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہاں سے نکل جائے۔ بی بی سی کے مطابق خز علی عراق کے سب سے با اثر اور سب سے پسند کیے جانے والے ملیشیاء راہنمائوں میں سے ہیں۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران کے سب سے اہم اتحادیوں میں شامل ہیں۔ گذشتہ روز الحشد الشعبی کے شہداء کے جنازوں کو امریکی سفارتخانے کے باہر لایا گیا، جنازوں کے ساتھ ہزاروں عراقی موجود تھے، جو غم و غصہ سے بھرے ہوئے تھے، وہ امریکا کے خلاف اور اپنے شہداء اور الحشد الشعبی کی حمایت میں نعرے بلند کر رہے تھے۔ تشییع جنازہ کے لیے الحشد الشعبی کے بلند پایہ راہنما بھی موجود تھے، جن میں عصائب اہل الحق کے راہنما قیس خز علی، الحشد العشبی کے ایک اور کمانڈر جمال جعفر ابراہیمی عرف ابو مہدی المہندس اور بدر آرگنائزیشن کے راہنما ہادی العامری بھی شامل تھے، جو عراقی پارلیمان میں دوسرے بڑے منتخب گروہ کے سربراہ ہیں۔

یہ مجمع بے قابو ہو کر سفارت خانے پر ٹوٹ پڑا، لوگ امریکی سفارتخانے کو جاسوسی اور دہشتگردی کا اڈا قرار دے رہے تھے۔ علاقے میں 40 سال بعد ایک اور امریکی سفارتخانے کے باہر عوام امریکا کے خلاف ایسے ہی نعرے لگا رہے تھے، جیسے تہران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عوام امریکی سفارتخانے کے باہر نعرے لگایا کرتے تھے اور آخرکار انہوں نے اسے جاسوسی کا اڈا قرار دے کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ بغداد میں بھی لوگوں نے ویسے ہی غم و غصہ کا اظہار کیا، سفارتخانے کی بیرونی دیوار پر الحشد الشعبی کی حمایت میں اور امریکا کے خلاف نعرے لکھے۔ امریکی پرچم کو نذر آتش کیا اور کتائب حزب اللہ کے جھنڈے سفارتخانے کی دیوار پر آویزاں کر دیئے۔ عمارت کے ایک حصے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ عمارت کے اندر سے مظاہرین پر بے پناہ آنسو گیس پھینکی گئی اور فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 60 سے زیادہ مظاہرین زخمی ہوئے۔ بعدازاں ملیشیاء کے کمانڈروں نے عوام سے اپیل کرکے انہیں سفارتخانے پر حملے سے روکا۔

امریکا کی اس حرکت نے، جسے کتائب حزب اللہ کے ترجمان محمد محیی نے ایک بہت بڑی حماقت قرار دیا ہے، صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ قبل ازیں عوام اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر تھے، جن کی پشت پناہی امریکا اور علاقے کی امریکا نواز رجعت پسند قوتیں کر رہی تھیں، لیکن اب انہی سڑکوں پر امریکا کے خلاف بپھرے ہوئے عوام موجود ہیں اور اس سے عراق چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ امریکا جب تک اپنے لے پالکوں سے کام لیتا رہتا ہے اور پس پردہ سازشیں کرتا ہے، اس وقت تک اسے بلاواسطہ جواب دینا مشکل ہوتا ہے، لیکن جب وہ پردے کی اوٹ سے باہر نکل کر کوئی کارروائی کرتا ہے تو ہمیشہ خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر لیتا ہے۔ امریکا ایسا قدم آسانی سے نہیں اٹھاتا، وہ بلاواسطہ اس وقت اقدام کرتا ہے، جب اس کی نظر میں کوئی اور راستہ نہیں بچتا یا پھر وہ سمجھتا ہے کہ اب وہ اتنا موثر ہوچکا ہے کہ کھل کر کھیلنے میں بھی اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

جیسا کہ اس وقت وہ شام میں کر رہا ہے۔ ساری دنیا کے سامنے کھلے بندوں شامی تیل کے کنووں کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اس کا خیال تھا کہ عراق میں بھی کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آئے گا، لیکن ہماری رائے میں جو ردعمل اب تک سامنے آیا ہے، اس سے زیادہ کی توقع رکھنا چاہیئے، یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں امریکا عراق سے ہی نہیں بلکہ شام سے بھی بوریا بستر سمیٹ کر رفو چکر ہو جائے گا۔ اس کے لیے پارلیمینٹ میں سب سے بڑے منتخب دھڑے کے سربراہ مقتدیٰ صدر کے بیان کو بھی سامنے رکھنا ہوگا، جنھوں نے کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر امریکی حملے کے بعد امریکا سے عراق چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ عراق کی سرکاری ملیشیاء جو عوام کی نظر میں نہ فقط محبوب ہے بلکہ اپنے ملک کو داعش سے نجات دلانے کے لیے عظیم قربانیاں دے چکی ہے، کو امریکا دہشت گرد گروہ قرار دے رہا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور ان کے حامی دیگر ممالک کتائب حزب اللہ، عصائب اہل الحق اور الحشد الشعبی کے دیگر تمام اداروں کو عسکریت پسند گروہ قرار دیتے ہیں اور انہیں ایران نواز کہتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی پشت پناہی کا الزام ایران پر عائد کیا ہے اور اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ایران کو حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ وارننگ نہیں دھمکی ہے۔ امریکی صدر نے نئے سال کا آغاز اس دھمکی سے کیا ہے۔ نئے سال کی یہ ان کی پہلی ٹویٹر پوسٹ ہے۔ ہم خطے میں حالیہ چند برسوں میں دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ جہاں بھی امریکا اور اس کے حواریوں کو ہزیمت اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا الزام ایران پر ہی دھرا گیا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے ہاتھوں اسرائیل کی شکست ہو یا لبنان میں داخلی طور پر امریکا نواز گروہوں کی ہزیمت، مورد الزام ایران قرار پایا ہے۔ آرامکو پر انصار اللہ کا حملہ ہو یا خلیج میں کسی بحری جہاز پر نامعلوم حملہ، ذمہ دار ایران ہی کو گردانا گیا ہے۔ حماس کی اسرائیل کے خلاف کارروائی ہو یا فلسطینی عوام کی اپنے گھروں کو واپسی کی تحریک، سب کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کو ایران ہی دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ چند دہائیاں پہلے عالم اسلام میں جب بھی کوئی ظلم کی واردات ہوتی، مسلمانوں کے مابین جنگ چھڑتی یا کسی بڑی اسلامی شخصیت کا قتل ہو جاتا تو لوگوں کی انگلیاں امریکا کی طرف اٹھتی تھیں، یہ سلسلہ تو اب بھی جاری ہے ،لیکن ایک بات کا اضافہ ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ اب جب بھی امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو امریکا اور اس کے حواری اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہیں۔ دنیا کیسے تبدیل ہو رہی ہے۔ نئے سال میں تاریخ کچھ قدم اور آگے بڑھائے گی اور ہمیں یقین ہے کہ امریکا کچھ نئی ہزیمتوں کا سامنا کرے گا اور اس مصرعے کا مصداق قرار پائے گا:
خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا


بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 633 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« May 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے