پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف حکومت کے اتحادی جو اب پی ڈی ایم کے تحت بننے والی حکومت کے اتحادی ہیں (بلوچستان عوامی پارٹی چار سیٹیں، متحدہ قومی موومنٹ سات سیٹیں، بلوچستان نیشنل پارٹی چار سیٹیں، جمہوری وطن پارٹی ایک نشست، مسلم لیگ (ق) دو نشستیں، آزاد امیدوار چار نشستیں۔ یہ کل ملا کر 21 نشستیں بنتی ہیں) جو پہلے پی ٹی آئی حکومت کا حصہ تھیں۔ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے علاوہ یہ جماعتیں بھی اچانک حکومتی اتحاد چھوڑ کر پی ڈی ایم کی حکومت میں شامل ہوگئیں۔ ان جماعتوں کے بعض اراکین نے جماعت کے فیصلے کے خلاف عمل کیا، جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کی خاتون رکن زبیدہ جلال شامل ہیں، جو مشرف دور میں وفاقی وزیر تھیں۔ مسلم لیگ (ق) کے دو ارکین نے اپنی پارٹی کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ بہت اہم ہے کہ معلوم کیا جائے کہ ان اتحادیوں کے پی ٹی آئی حکومت سے کیا مطالبات تھے اور اب ان کا نئی حکومت سے کس بات پر معاہدہ ہوا ہے۔

مجھے تقریباً تمام اتحادیوں کے بیانات اور اختلاف کی وجہ کو سننے کا موقع ملا۔ بلوچستان سے منتخب ہونے والی جماعتوں کے ارکین، جو کہ حکومتی اتحاد کا نہ فقط حصہ تھے بلکہ وزارتوں کے بھی حامل تھے، میں سے اکثر کا یہی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ہمارے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کر پائی ہے۔ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ بلوچ شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کروائے گی اور گمشدہ افراد کو بازیاب کروائے گی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی جو حکومتی اتحاد سے 2020ء میں ہی جدا ہوگئی تھی، اس کے سربراہ اختر مینگل نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2012ء میں جب میں سپریم کورٹ میں پیش ہوا تو عمران خان صاحب نے کندھے سے کندھا ملا کر کہا کہ بلوچستان میں ظلم و زیادتیاں ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کا مسئلہ غلط ہے اور جو ان کے ذمے دار ہیں، میں ان کو کٹہرے میں لاؤں گا جبکہ اس سے پہلے میاں نواز شریف نے بھی یہی کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ذہنیت 1947ء سے چلی آرہی ہے، یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے، جس نے بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کو اس ملک کی کالونی سمجھا ہوا ہے، لیکن ہم کالونی نہیں ہیں، اگر ہمیں اس ملک کا حصہ سمجھا جاتا ہے تو ہم سے شہری جیسا سلوک کیا جائے۔ اختر مینگل نے کہا کہ دو دن پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی جس کا بھائی چار سال سے غائب ہے، وہ احتجاج کرتے کرتے اتنی تھک گئی کہ دو دن پہلے اس نے خودکشی کر لی، اس کی ایف آئی آر کس پر کاٹوں، اپنے آپ پر کہ میں نے اسے کہا کہ انتظار کرو، اپنے پارٹی کے نمائندگان پر اس کی ایف آئی آر کٹواؤں کہ میں نے ان سے کہا کہ تمہارا بھائی آئے گا یا ان لوگوں نے جنہوں مجھے یہ آسرا دیا کہ ان سب کے بھائی، بیٹے اور والد آئیں گے، ان پر ایف آئی آر کاٹوں یا حسب روایت ان سب پر مٹی ڈال دوں۔

متحدہ قومی موومنٹ بھی ایسے ہی چند مطالبات کے ساتھ پی ٹی آئی کی اتحادی بنی تھی۔ 9 مارچ 2022ء کو وزیراعظم پاکستان اور ایم کیو ایم کی قیادت کے مابین ہونے والی ملاقات میں متحدہ نے اور تو کوئی مطالبہ نہیں کیا، فقط یہ کہا کہ ہمارا حیدر آباد زونل آفس 22 اگست 2016ء کے بعد سے بند ہے، تاہم نائن زیرو اب بھی بند ہے۔ پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ کے مابین اور بھی کچھ معاہدے تھے، جن پر پی ٹی آئی حکومت انتظامی مسائل کی وجہ سے عمل نہ کرسکی۔ انہی مطالبات پر عمل نہ ہونے کے سبب ایم کیو ایم اپوزیشن کے ساتھ چارٹر آف رائٹس کرنے پر مجبور ہوئی۔ یہ چارٹر 18 نکات پر مشتمل ہے، جس پر ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی اور پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو نے دستخط کیے، جبکہ معاہدے پر شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل اور خالد منگسی نے بطور ضامن دستخط کیے۔

معاہدے کے نکات کے مطابق لوکل گورنمٹ ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمل ہوگا، سرکاری ملازمتوں پر طے شدہ کوٹہ شہری اور دیہی سندھ کے مطابق عمل کیا جائے گا، جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر تمام مشترکہ فورمز پر جدوجہد کی جائے گی اور جعلی ڈومیسائل پر تحقیقات کے بعد اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ معاہدے میں لکھا ہے کہ ملازمتوں کے کوٹہ کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو اسے مانیٹر کرے گی اور گریڈ 1 سے 15 تک کی ملازمتوں پر سختی سے مقامی حکومتوں کے حوالے سے عمل کیا جائے، امن و امان کی بہتری اور اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے مقامی پولیسنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کمیٹی کام کرے گی، جس کے خصوصی پیکج کا اعلان ہوگا۔

مندرجات میں ایم کیو ایم کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر اور کمنشنر کراچی کی تعیناتی پر مشاورت کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ حیدرآباد کے ایڈمنسٹریٹر کے لیے بھی ایم کیو ایم حکومت کو 3 نام بھیجے گی۔ معاہدے کے مطابق نوکریوں کے کوٹہ 60 اور 40 فیصد پر عملدرآمد ہوگا، حلقہ بندیاں باہمی مشاورت سے ہوں گی اور سب سے اہم صوبائی حکومت کی تشکیل کے لیے بھی ایم کیو ایم سے مشاورت لازمی ہوگی۔ اس کے علاوہ معاہدے میں ایم کیو ایم نے شہرِ قائد میں سرکاری جامعہ برائے خواتین بنانے، سیف سٹی پروجیکٹ کو فوری مکمل کرنے، کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے علاوہ شعبہ صحت و تعلیم پر فی الفور طور پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد کی حکومت کس حد تک ان مطالبات کو پورا کرسکتی ہے اور یہ اتحاد کتنا عرصہ قائم رہتا ہے۔ اگر سرسری طور پر ہی دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ درج بالا مطالبات پر فیصلہ کرنا فقط عمران خان کے اختیار سے باہر تھا۔ ان معاملات کے علاوہ بہت سی ایسی باتیں ہیں، جن کے حوالے سے عمران حکومت پر اعتراض کیا جاتا ہے، جن میں یمن جنگ میں سعودیوں کی حمایت کرنا، کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنا، روس کا دورہ، جن کے فیصلے بھی اکیلے عمران کا کام نہیں تھا۔ یہ فیصلے پاکستان کے مقتدر حلقوں نے ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے، تاہم ان تمام فیصلوں کا بوجھ فقط عمران خان پر ڈال دیا گیا۔ ایسا ہونا بھی چاہیئے، کیونکہ وہ بہرحال چیف ایگزیکٹیو یعنی سربراہ مملکت تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ عدم اعتماد کے وقت تمام فیصلہ ساز ادارے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوتے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ ان تمام فیصلوں کا بوجھ عمران حکومت کو اٹھانا پڑا، یقیناً اس میں بھی کوئی ملکی مفاد پوشیدہ ہوگا۔ اللہ کریم وطن عزیز کو ہر طرح کی آزمائش سے محفوظ رکھے، آمین

بشکریہ: اسلام ٹائمز