علامہ سید ساجد علی نقوی کی وحدت امت کے لیے خدمات

سید نثار علی ترمذی

یہ بھلے دنوں کی بات ہے۔ باغ جناح لاہور کے سبزہ زار میں ایک ظہرانہ منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام کو دعوت تھی۔ علامہ ساجد نقوی صاحب بھی مدعو تھے۔ بہت اچھی باتیں ہوئیں۔ علامہ صاحب نے اس ظہرانے میں جو گفتگو کی اس کے دو نکات قابل توجہ ہیں:
۱۔ مسائل کے حل کے لیے اجتہاد کیا جانا چاہیے۔
۲۔ مسالک کے درمیان جو مشترکات ہیں انھیں پبلک لاءکے طور پراور جن مسائل میں اختلاف ہے انھیں پرسنل لاءکے طور پر نافذ کیا جائے۔
جب مولانا مودودیؒ کے بارے میں مطالعہ کررہا تھا تو ان کی ابتدائی تحریروں میں ایسی ہی تجویز سامنے آئی تھی۔ مگر 22نکات کے بعد وہ موقف سامنے آیا جو آج کل زیر بحث ہے کہ اکثریت کا پبلک لاءہو گا اور پرسنل لاءمیں مسالک کو اختیار ہوگا۔

علامہ صاحب نے کس قدر مشکل مسئلہ کا حل کس قدر آسان الفاظ میں بیان کردیا تھا۔ اس سے لگتا ہے کہ وہ ان مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس کا پس منظر بھی ہے۔علامہ صاحب فیلسوف مشرق آیت اللہ باقر الصدر شہیدؒ کے شاگرد ہیں جنھیں وہ عقیدت سے ”مرشد صدر“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ شہید صدر کے اجتہادی نظریات اوراتحاد بین المسلمین کے حوالے سے نظریات شہرہ آفاق حیثیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں وہ نقیب وحدت علامہ عارف حسین الحسینی کی تحریک کا حصہ تھے۔ آپ علامہ سید عارف حسین الحسینی کے دور صدارت میں ہونے والے وحدت آفرین اقدامات کا حصہ رہے جن میں منشور”ہمارا راستہ“ تالیف کرنے والی کمیٹی کی سربراہی ،قرآن و سنت کانفرنس کی کنوینر شپ اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک کے وفد کی سربراہی شامل ہیں۔
علامہ عارف حسین الحسینی کی اچانک شہادت کے بعد آپ پاکستان کے اہل تشیع کے قائد بنے۔ شہید نے اپنی پوری تحریکی زندگی میں اتحاد بین المسلمین کے حصول کے لیے کوشاں رہے بلکہ یہی ان کی ایک پہچان قرار پائی۔ (اس موضوع) پر بندہ ناچیز کی کتاب ”نقیب وحدت علامہ عارف الحسینیؒ “کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ جب بھی ملک میں فرقہ واریت اور اس کے اسباب پر بات ہوتی ہے توبعض حلقوں کی طرف سے یہ بات کی جاتی ہے کہ اس کا ایک سبب نفاذ فقہ جعفریہ کی تحریک ہے اور پھر اس کو انقلاب اسلامی ایران سے جوڑا جاتا ہے اور فرقہ واریت و قتل و غارت کو اس کا ردعمل قرار دیا جاتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب جنرل ضیاءالحق نے اس ملک میں ایک فقہ کو نافذ کرنے کا اعلان کیااور اس کے لیے بعض عملی اقدامات بھی کیے جن میں زکوٰة و عشر آرڈیننس کا نفاذ شامل ہے تو اس کے ردعمل کے طور پر اہل تشیع نے اپنے احتجاج کو موثر بنانے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کے آغاز کا اعلان کیا اورمطالبہ کیا کہ اہل تشیع کے لیے فقہ جعفریہ نافذ کیا جائے۔ ان کے مطالبات احتجاجات اور نعروں سے واضح تھا مگر اس تحریک کے لیے جونام تجویز ہوئے ان سے ایک حلقے میں یہ تاثر ضرور پیدا ہو گیا ہے جس کی جانب اشارہ کیا گیاہے۔ شہید حسینیؒ گو دلی طور پر اس نام میں تبدیلی کے خواہاں تھے اور اس کے لیے تنظیمی اداروں میں بحث بھی کروا چکے تھے لیکن ایک تو علامہ حامد موسوی کے دھڑے کے پراپیگنڈے کے ڈر سے اور مناسب وقت کے انتظار میں تبدیلی کا اعلان نہ کر سکے اور تبدیلی کی خواہش لیے اپنے خدا کے حضور پیش ہو گئے۔ علامہ صاحب نے تنظیم نو کے بعد نام کی تبدیلی کے لیے پیش رفت کی۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو تحریک جعفریہ کے نام سے بدل دیا۔ نام کی تبدیلی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اسی نام کی تبدیلی کے اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ اس الگ تھلگ تنظیم کا قومی دھارے میں آنا ہے جس کا ثبوت اس دور میں تشکیل پانے والا وہ سیاسی اتحاد ہے جو پیپلز پارٹی، تحریک استقلال اور تحریک جعفریہ پر مشتمل تھا اور جس کا نام پیپلز ڈیموکریٹک الائنس (PDA) تھا۔
اعلامیہ وحدت
10جنوری 1990ءکو علامہ سیدساجد علی نقوی اور علامہ طاہر القادری کے درمیان اشتراک عمل کا دس نکاتی فارمولہ ”اعلامیہ وحدت“ کے نام سے طے پایا جو برصغیر پاک و ہند کی مذہبی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہے۔ یہ اعلامیہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک جعفریہ کے مابین طے پایا جس میں اعلان کیا گیا کہ اسلامی انقلاب کے لیے برسرپیکار جماعتیں متنازعہ امور طے کرکے یکجہتی وہم آہنگی کے ساتھ ملک میں نفاذ اسلام کی مشترکہ جدوجہد کریں گی۔
اعلامیہ وحدت کے مختصر نکات درج ذیل ہیں۔
اس اعلامیہ وحدت میں عقیدہ توحید و رسالت کو عقائد کا مرکزی نقطہ اور عمل کی اساس قرار دیا گیا ہے۔
اس اعلامیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا اقرار اور آپ کی شان میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ادنیٰ بے ادبی و گستاخی کے مرتکب کو کافر قرار دینے پر اتفاق کیا گیااور قرآن مجید کو الحمد تا والناس کسی کمی بیشی اور تحریف سے پاک ہونے کا اقرار کیا گیا۔
اس دستاویز میںحب اہل بیت کو اساس ایمان اور ان سے بغض و عناد رکھنے والے کی ایمان سے محرومی کے اقرار کے ساتھ جملہ صحابہ کرام کے برگزیدہ ہونے اور امہات المومنین اور صحابہ کرام کے ادب واحترام کے وجوب جبکہ ان کی بے ادبی کو حرام قرار دیا گیاتھا۔
اعلامیہ وحدت میں مذہبی رسوم اور خصوصی ایام میں باہمی رواداری اور احترام کو قائم رکھنے اور کشیدگی و تفرقہ سے اجتناب اور ملکی آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی کے نکات بھی شامل تھے۔
اس اعلامیہ وحدت پر علامہ ساجد علی نقوی، علامہ سید آغا علی الموسوی مرحوم اور مولانا موسیٰ بیگ مرحوم اور عوامی تحریک کی جانب سے علامہ طاہر القادری، مولانا محمد معراج الدین اور مولانا احمد علی قصوری مرحوم نے دستخط کیے۔(ماہنامہ منہاج القرآن، فروری ۰۹۹۱ئ)
یہ تحریر لکھتے ہوئے اس اعلامیہ کے دو محرک شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور شہید ذوالفقار حسین نقوی بارہا یاد آرہے ہیں۔ اللہ ان برگزیدہ شخصیات کے درجات بلند فرمائے۔
اس اعلامیہ وحدت کے بعد یہ تجویز بھی زیر غور تھی کہ دونوں جماعتوںکے اشتراک عمل سے مشترک اجتماعات منعقد کیے جائیں جس سے شیعہ سنی مسالک کے درمیان افہام و تفہیم اور رواداری کی فضا کو تقویت ملے گی لیکن انتہا پسند اور تفرقہ باز باز ی لے گئے اور انھوںنے مختلف سازشوں کے ذریعے وحدت ملی کے اس حسین خواب کو شرمندہ تعبیرہونے سے محروم کردیا۔
جن قوتوں کا مفاد ملت اسلامیہ کو باہم دست و گریبان رکھنے میں ہے یا جو انتہا پسندی اور تنگ نظری کا شکار ہیں، انھوں نے اس اعلامیہ وحدت پر بھی خوب شور مچایا اور غلط فہمیوں کو پھیلانے میں اپنا پورا زور صرف کردیا۔ ان کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ اعلامیہ کے الفاظ کیا ہیں اور کیا ہونے چاہئیں۔ یہ لوگ سرے سے وحدت ملی اور بین المسالک میل جول اور رواداری کے ہی خلاف ہیں۔ ان لوگوں کی سوچ پر تعجب ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اہل کتاب کو بھی مشترک بنیادوں پر تعاون کی دعوت دی تو مسلمان کیونکر متحد نہیں ہو سکتے؟
اس میںکوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ اعلامیہ علامہ صاحب کے وحدتِ امت کے ارمان کی ترجمانی کرتا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل
جب 1990کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان میںفرقہ واریت عروج پر تھی، آئے دن فریقین کے لاشے گر رہے تھے تو ایسے میں امت کے اہل فکر و نظر افراد اس کے حل کے لیے کوشاں رہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مرحوم قاضی حسین احمد، جو کہ اس وقت امیر جماعت اسلامی تھے کو ملاقات کی دعوت دی۔ ان دونوں شخصیات کی ملاقات سے ملی یکجہتی کونسل کے خیال کو عملی شکل دینے میں پیش رفت ہوئی بعدازاں اس قافلے میں مرحوم شاہ احمد نورانی بھی شامل ہو گئے۔مشاورت کے بعد آخر تمام پارٹیوں نے شاہ احمد نورانی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور 1995ءمیں ملی یکجہتی کونسل کا آغاز ہوا۔
اس کونسل کے ایک معرکہ¿ آراءاجلاس میں کونسل کا 17نکاتی ضابطہ اخلاق منظور ہوا۔ اس میں ایک شق ایسی ہے جس کے حوالے سے اس ضابطہ اخلاق پر تنقید بھی ہوتی ہے مگر اس ضابطہ کی منظوری اور کونسل کی تشکیل کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ اس میں جو جماعتیں/ مسالک شامل ہیں وہ ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے شریک ہوئے۔ اس سے تکفیریت کے موقف پر کاری ضرب پڑی۔ اس عمل نے یہ ثابت بھی کیا کہ امت کی اکثریت کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اس سے متنفر ہے۔ مختلف مسالک کا اجتماع بہت سے اعتراضات کا جواب بھی ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان کبھی اکٹھے نہیں ہوتے۔
اس کونسل کی تشکیل اوراسے موثر بنانے میں علامہ ساجد نقوی کا کردار مرکزی اور بنیادی رہا ہے۔ اس سے دیگر جماعتوںاور مسالک کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوا ہے۔ یہ فورم عالم اسلام میں اپنے لحاظ سے منفرد فورم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے احیاءکے لیے بھی آپ کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔
متحدہ مجلس عمل
ملی یکجہتی کونسل گو کہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے مگر انتخابی سیاست پر مختلف آراءہونے کی وجہ سے عملی سیاست کا حصہ نہ بن سکی۔ اس لیے چھ جماعتوں نے عملی اور انتخابی سیاست میں کردارادا کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل تشکیل دی۔ اس میں ان جماعتوں کو شامل کیا گیا۔ جمعیت علماءاسلام، تحریک جعفریہ پاکستان، مرکزی جمعیت اہل حدیث، جمعیت علماءاسلام(ف)،جمعیت علماءاسلام(س) اور جماعت اسلامی پاکستان گو کہ تحریک جعفریہ پاکستان کوئی بڑا حکومتی حصہ تو حاصل نہ کر سکی مگر جس اتحاد کا حصہ بنی اس نے دو صوبوں میںاپنی حکومت بنائی اور نیشنل اسمبلی میں 63 سیٹیں جیتیں۔ یہ مذہبی جماعتوں کو پاکستان میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے اس اتحاد کا حصہ رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا اور اتحادیوں کے درمیان صلح صفائی اور معاملات کو سلجھانے میں ثالث اور خیر خواہ کا کردارادا کیا۔ اس اتحاد نے مذہبی ہم آہنگی بڑھانے میں موثر کردار ادا کیا۔ اس کا سہرا جہاںدیگر قائدین کو جاتا ہے وہاں علامہ ساجد علی نقوی بھی اسی ستائش کے مستحق ہیں۔
تقاریر میں احتیاط
ایک جماعت سربراہ اور مذکورہ اتحادوں کے ایک قائد کی حیثیت سے علامہ صاحب کو متعدد اجتماعات سے خطاب کرنا پڑتا ہے۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ مقرر اپنے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے جذباتی اور فرقہ وارانہ امور کو زیر بحث لاتے ہیں مگر یہ تاریخی ریکارڈ ہے کہ جب سے انھوں نے تحریک کی قیادت سنبھالی ہے اور تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ہے ہمیشہ مثبت اور غیر فرقہ وارانہ بات کی ہے اور اپنے لوگوں کو اتحاد و ہم آہنگی سے رہنے کا درس دیا ہے۔ آج جو فرقہ واریت ایک خاص حد تک ہی اپنے پنجے جما سکی ہے اس میں بڑا کردر ایسے رویوں کا بھی ہے کہ لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کرہمیشہ امن وسلامتی کا درس دینا اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کی تلقین کرتے رہنا۔ یہی وجہ ہے کہ قتل و غارت گری کے مقابلے میں کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انھیں اس پر اپنے تنظیمی حلقوں سے سخت تنقید کا سامنا بھی ہے مگر انھوں نے وحدت کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
دیگر مسالک کے پروگراموں میں شرکت
دیگر مسالک کے علماءسے جب رابطے بڑھے تو اس کے اثرات میں ایک دوسرے کے اجتماعات و تقریبات میں شمولیت کا سلسلہ چل پڑا۔ ان مشترکہ اجتماعات کے بہت زیادہ اثرات ہیں۔ غلط فہمیوں کا ازالہ اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رابطہ بھی بڑھتا ہے اور ذاتی دوستیاں بھی استوار ہو جاتی ہیں۔
علامہ صاحب اکثر اجتماعات میں خود شریک ہوکر اپنا مافی الضمیر پیش کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے دوری اور بے زاری کا جو تاثر مسالک کے مابین پیش کیا جاتا ہے، وہ کمزور ہوا ہے۔ اتحاد و وحدت کی فضاءبہتر ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی غمی و خوشی میں شرکت اتحاد بین المسلمین کی کیفیت اور مسلمانوں کے باہمی معاشرتی رویوں کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔
نماز با جماعت
مشترکہ اجتماعات کے دوران ایسا بارہا ہوا کہ نماز باجماعت میں علامہ ساجد علی نقوی نے دیگر مسالک کی امامت میں باجماعت نماز ادا کی اور ایسا بھی ہوا کہ علامہ ساجد علی نقوی نے امامت کروائی اور دیگر مکاتب کے علماءنے ان کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی۔ ان وحدت آفریں نمازوں کی تصاویر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیلیں جس سے ایک خوشگوار ماحول بنا۔ تکفیریت کے حربے ناکام ہوئے۔ امت کی صفوں میں اختلاف کے بادل چھٹنے لگے اورتازہ ہواکے جھونکے محسوس ہونے لگے اور اتحاد کی خواہش قول سے نکل کر عمل کے میدان میں آگئی اور واضح ہو گیا کہ یہ مسالک فقط زبانی طور ایک دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ عملاً اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
افکار وحدت
علامہ سید ساجد علی نقوی اپنی گوناگوں مصروفیات کے سبب تحریر کے سلسلے سے منسلک نہیں تاہم آپ کی تقاریر اور بیانات میںجابجا اتحاد و وحدت کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان بیانات میں سے ایک اقتباس پیش قارئین ہے:
علامہ ساجد علی نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
آج مسلمان پوری دنیا میں زیر عتاب ہیں۔ مذہب اسلام اور مسلم ممالک کے خلاف ایک سازش کے تحت حالات خراب کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں جن کی ایک بڑی وجہ امت کا متحد نہ ہونا ور او آئی سی کا اپنے فرائض کی ادائیگی سے قاصر رہنا ہے جس کے باعث امت مسلمہ روز بروز مسائل کا شکار ہورہی ہے۔ ہم ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے لیے کوشاں اور سرگرداں رہے ہیں اورآئندہ بھی اس مشن کو جاری رکھیں گے۔ جب تک مسلمان متحد نہیں ہوتے اس وقت تک وہ ترقی کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے۔ وحدت کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے قبل نہ تھی اور ملی یکجہتی کونسل اس کی طرف
ایک اہم پیش رفت ہے جس کے دورس نتائج برآمد ہوں گے۔ (پریس ریلیز مرکزی دفتر تحریک)
”میں سمجھتا ہوں کہ اتحاد و وحدت تشیع کے مفاد میں ہے۔ امت کے مفاد میں ہے۔ امت مسلمہ کی بات کرنا میری ذمہ داری ہے۔ فقط ایک خلافت کا مسئلہ ہے جس میں شیعہ سنی میں اختلاف ہے باقی جتنے بھی مناقب اور فضائل ہیں کوئی سنی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ “(ویڈیو۔ ابنا روح اللہ اردو، فیس بک پیج)
اس بات کو واضح کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ علامہ ساجد علی نقوی کو بہت سے اندرونی اور بیرونی چیلنجز، مخالفتوں اور تنقید کا سامنا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ استقامت کے ساتھ اتحاد بین المسلمین کی تحریک کو آگے بڑھانے میں کوشاں رہے ہیں۔ امت کے اتحاد کے خواہاں دیگر افراد کو ان کے اس عمل میں ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ امت کا اتحاد شیعہ سنی کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لیے اس روش کو بہرحال برقرار رکھنا ہی امت مسلمہ کے مفاد میں ہے۔
یہ بدیہی امر ہے کہ دشمن اپنی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے اور نت نئے ہتھکنڈوں سے اتحاد کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ایسی ہر کوشش کو اتحاد کے دشمن کا حملہ تصور کرنا چاہیے خواہ اس کی بازگشت کسی ایک فرقے یا مسلک کی طرف ہی کیوںنہ ہو۔