نظم

ابھی تو آجائے گا کہیں سے

تو چل بسا ہے
مجھے خبر ہے
مجھے خبر ہے

ستم کے سفّاک وارثوں نے تجھے اتارا ہے خوں کی وادی میں

میں جانتا ہوں
تمھارے جسم نحیف پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی ہے
میں جانتا ہوں

  • مشاہدات: 830

انقلاب آیا

انقلاب آیا

ہوئیں رخصت سیہ راتیں وہ دیکھو نورِ ناب آیا

برنگِ ماہتاب آیا ، بشکلِ آفتاب آیا

  • مشاہدات: 1438