حروف مقطعات

البصیره

البصیره ٹرسٹ

2016-06-16

View Project


اس کتاب کے مصنف لکھتے ہیں : ’’ ہمارے ہاں کے مفسرین ان حروف کے بارے میں چند سطحی اور نامکمل سی باتیں کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ جب دقیق مطالب کی حامل تفاسیر کے مطالعے کی نوبت آئی تو مزید معنی خیز مطالب سامنے آنے لگے ۔ انھیں مطالب نے حروف مقطعات کے بارے میں تجسس کو مہمیز دی ۔ کچھ ایسے مطالب بھی نظر سے گزرے جن سے معلوم ہوا کہ یہ حروف حامل ِ اعجاز بھی ہیں ۔ قرآن مجید کے حروف و الفاظ کے مباحث ، ان حروف کا فوری مابعد کی آیات مجیدہ سے تعلق ، ان حروف کا متعلقہ سورت کے تمام مباحث سے تعلق اور ایسے دیگر مطالب کے مطالعے سے مزید تحقیقی کی خواہش پیدا ہوئی اور آخر کار ہم نے فیصلہ کیا کہ ان اعجاز آمیز حروف کے بارے میں متقدمین و متاخرین کی آراء کا حتی المقدور تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیے‘‘۔ یہ کتاب دراصل اسی فکری پس منظر کا حاصل ہے جس کے بارے میں مصنف مزید لکھتے ہیں :’’ قرآن کے نئے سے نئے عجائبات کے ظہور کی پیش گوئیاں تو خود آنحضرت ؐ اور ان کے جانشین فرما چکے ہیں ۔ یہ پیش گوئیاں حروف قرآن پر بھی صادق آتی ہیں اور ان کے علاوہ قرآن کے سارے متن کے بارے میں بھی ۔یہ وجہ ہے کہ ہم اس نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ حروف مقطعات کے بارے میں کسی ایک قول پر اصرار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ حروف قرآن کریم کے باقی متن کی طرح حامل بطون ہیں ۔ 29سورتوں کے بالکل آغاز میں تعجب آفریں انداز میں ان کا وجود ظاہر کرتا ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز اور اسرار آمیز ہیں اور ان کے بارے میں نئے عجائبات کے ظہور کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہے گا‘‘۔