نقیب وحدت

البصیره

البصیره ٹرسٹ

2016-06-16

View Project


اس کتاب کے بارے میں صدر نشین البصیرہ جناب ثاقب اکبر لکھتے ہیں: ’’علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید ہماری دھرتی کے عظیم سپوتوں میں سے ہیں ۔ وہ جواں عمری ہی میں ہم سے جدا ہو گئے لیکن اللہ تعالی نے انھیں جو مختصر زندگی عطا کی اس میں انھوں نے امت اسلامیہ کی جو خدمت سر انجام دی وہ گاہے طویل عمر پانے والوں کے حصے میں بھی نہیں آتی ۔ ان کے بعض اوصاف حمیدہ ایسے ہیں جو انھیں اپنے دور کی شخصیات میں ممتاز کرتے ہیں۔ اُن کی شخصیت کے بعض پہلوئوں کا بیان آج بھی امت اسلامیہ کی فلاح و صلاح اور کمال و ارتقا کے لیے نہایت مفید ہے۔ اُن میں سے ایک اتحاد امت کے لیے اُن کا بے پناہ اور ناقابل شکست جذبہ اورعزم ہے۔ اُن کی تقاریر و خطبات پرمبنی جتنی کتب سامنے آئی ہیں شاید ہی اُن میں سے کوئی ایسی ہو جس میں شہید عزیز نے اس امرکی طرف توجہ نہ دلائی ہو۔ یو ں محسوس ہوتا ہے کہ اس خواہش اور تڑپ کو اُن کے وجود کے خمیر میں گوندھ دیا گیا تھا۔ ضرورت تھی کہ اُن کی اس خواہش اور تڑپ کا تذکرہ بالالتزام اور بالخصوص کیا جاتا۔ پیش نظر کتاب اس ضرورت کو باحسن پورا کرتی ہے۔راقم کی سوچی سمجھی رائے میں علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے مخلص رفیق سید نثار علی ترمذی نے اتحاد امت اسلامی کے موضوع پر اُن کے افکاروکردار پر مشتمل یہ کتاب تالیف کرکے جہاں ان کی رفاقت کا حق ادا کیا ہے وہاں امت اسلامیہ کے درد کے درماں کے لیے اس نسخۂ کیمیا کی ایک مرتبہ پھر نشان دہی کی ہے جو قرآن و سنت میں بہت نمایاں طور پر مذکور ہونے کے باوجود امت میں مہجور اور فراموش شدہ ہے۔ امت کی پس ماندگی و رسوائی کا علاج اسی کے سوا اور کسی نسخے سے ممکن ہی نہیں۔ یہ کتاب امت اسلامیہ کے ہر دردمند دل کی آواز ہے۔ ان کے افکار زندہ کا مطالعہ کرکے ان کی راہ وروش سے گہری آشنائی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ورق گردانی کے دوران میں شہیدؒ کی پاک روح سے قاری کے پیمانِ وفا کی تجدید ہوجائے یا کسی کے دل میں وحدت امت کے لیے جذبہ پیدا ہوجائے تو سمجھیے برادر عزیز سید نثار علی ترمذی کی زحمت ہی ان کے بے قرار دل کے لیے وجہ تسکین ہوگئی ہے۔