امت اسلامیه کی شیرازه بندی

البصیره

البصیره ٹرسٹ

2016-06-16

View Project


یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کو آج اتحاد و یکجہتی کی جتنی ضرورت ہے وہ ہمیشہ سے زیادہ ہے کیونکہ تقسیم در تقسیم نے مسلمانوں کی قوت کو ایسا منتشر کر دیا ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے عالم اسلام دشمنوں کے لیے تر نوالہ بن چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال کی طرح پھر اٹھے اور اس انتشار کو وحدت میں بدل دے۔ سرزمین پاک پر امت کے ایسے غمگساروں میں جناب ثاقب اکبر کا نام بہت نمایاں ہے ۔وہ ایک عرصے سے اس کٹھن راستے میں مصروف سفر ہیں۔ اس سلسلے میں وہ کئی ایک کتب بھی تصنیف کر چکے ہیں۔ انہی میں سے ایک ’’امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی‘‘ ہے۔ یہ راستہ کتنا کٹھن ہے خود انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے ۔ اپنی اس کتاب کی ابتدا میں وہ لکھتے ہیں ’’جلد یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ اتحاد و اخوت کے لیے کام کوئی ایسا آسان نہیں ہے۔ فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم اتنی گہری ہو چکی ہے کہ کم ہی کوئی اس کام میں سنجیدگی کا اعتبار کرنے کو بھی تیار ہوتا ہے۔ دین و مذہب کے نام پر اپنا پیسہ اور وقت صرف کرنے والے بھی اپنے مسلک پر خرچ کرنے کے عادی ہیں۔ ہر کوئی یہی رائے رکھتا ہے کہ پہلے ’’اپنوں‘‘ کی فکر کرنا چاہیے اور ’’اپنوں‘‘ ؛سے ہر کسی کی مراد اپنے مسلک کے افراد ہیں۔ ایسے میں ہمارا ہاتھ کون تھامتا۔ کوئی مالی تعاون تو کیا کرتا غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کے سلسلے شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ معاملہ کردار کشی، تہمت ِ انحراف اور بائیکاٹ تک جا پہنچا۔ تاہم ہماری یہ پختہ رائے رہی کہ اگر سب یونہی سوچتے رہیں تو انتشار امت کو وحدت میں بدلنے کی بات کون کرے گا۔ اعضائے پراگندہ کو بدن واحد میں بدلنے کی تدبیر کون کرے گا۔ ساری امت کو ’’اپنا‘‘ کون کہے گا: کسی کو رنگ سے مطلب کسی کو خوشبو سے گلوں کے چاک گریباں کی بات کون کرے جب کہ ہمیں توباہمی اتحاد کے بعد ساری انسانیت تک نبی رحمتؐ کا پیغام رحمت پہنچانے کا فریضہ انجام دینا ہے‘‘۔ اس کتاب کوویسے تو اہل دردو سوز کے ایک وسیع حلقے نے خراج تحسین پیش کیا ہے تاہم کتاب میں مرحوم قاضی حسین احمد، قاضی نیاز حسین نقوی،حافظ ظفر اللہ شفیق اور مفتی گلزار احمد نعیمی کے خوبصورت اور فکر انگیز کلمات تحسین کو شامل کیا گیا ہے۔