بدھ, 23 دسمبر 2020 09:39

مومنِ صادق کی وفات



ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی 
فاضل ندوۃ العلماء، رہنما جماعت اسلامی ہند

مشہور شیعہ عالم اور دانش ور مولانا کلب صادق (ولادت 1939) گزشتہ شب واقعی وفات پاگئے۔ وہ 82 برس کے تھے۔ ان کی وفات کی اطلاع ان کے صاحب زادے سبطین صاحب نے دی۔"واقعی " کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ ایک ہفتہ قبل اسی طرح کی خبر عام ہوگئی تھی، جو غلط ثابت ہوئی تھی۔ الہ آباد کے میرے ایک بزرگ کرم فرما ڈاکٹر سرفراز عالم نے 18 نومبر کی دوپہر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجھے ان کی وفات کی خبر دی۔ اُس وقت تک سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کا دوبارہ فون آیا اور انھوں نے اس کی تردید کی۔ بہرحال اس غلط خبر سے مولانا کی عالمی سطح پر مقبولیت کا بہ خوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ کیوں کہ نہ صرف ملک کے مسلم اور غیر مسلم تمام طبقات نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا تھا، بلکہ بیرونِ ملک میں بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا تھا۔



سلمان رشید

تحریک پاکستان کے رہنما اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو نئی تشکیل شدہ ریاستِ پاکستان کے گورنر جنرل بننے کے بعد ، ہمارے بابائے قوم قائدِاعظم محمد علی جناح نے ہمارے نظریاتی بانی علامہ محمد اقبال کی طرح ایک وحدتِ اسلام کے نظرئیے کا اشتراک کیا جبکہ علامہ اقبال وہ  عظیم مفکر ، فلسفی  اور شاعر ہیں جس نے مسلم دنیا میں بہت سارے انقلابات کو متاثر کیا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر یہ فیشن بن گیا ہے کہ مسلم دنیا میں پاکستان کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک تنگ نظریہ ہو جس کے نعرے لگائے گئے جیسے پہلے پاکستان یا سب سے پہلے پاکستان جبکہ یہ نظریہ بانیانِ پاکستان کے نظریات کے خلاف ہے۔ خاص طور پر قائدِ اعظم یہ چاہتے تھے کہ پاکستان مسلم دنیا کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھنا ہم ایک ایسی ریاست کی تشکیل کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دنیا کی منزل کا تعین طے کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرے گی۔



حکیم سرور سہارنپوری
آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :
 مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔

سوموار, 02 نومبر 2020 10:33

نصیر الدین نصیر

نصیر الدین نصیر

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے 
جو رب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے
کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے
زہرا کا وہ بابا ہے سبطین کا نانا ہے

سوموار, 02 نومبر 2020 10:31

حفیظ تائب

حفیظ تائب

یارب! ثناء میں کعبؒ کی دلکش ادا ملے
فتنوں کی دوپہر میں سکوں کی ردا ملے
حسانؒ  کا شکوہِ بیاں مجھ کو ہو عطا
تائیدِ جبرئیلؑ بوقتِ ثناء ملے

تازہ مقالے