بدھ, 02 أكتوبر 2019 08:43



 
سید اسد عباس

اسماعیلی، شیعہ اثنا عشری کے پہلے چھ اماموں کی امامت کے قائل ہیں؛ بعد ازاں وہ امام جعفر صادق کے بعد اُن کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے اور اسی لیے اسماعیلیہ کو سبعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نام کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ اسماعیلیہ، شیعہ اثنا عشریہ سے ساتویں امام پر اختلاف کرتے ہیں۔درج ذیل تحقیق مقالے میں البصیرہ کے محقق جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کے عقائد، نظریات، فرقوں ، دیگر مسلمانوں سے اختلافات اور امتیازات، بنی فاطمہ کی مصر میں حکومت اور اسی طرح کے موضوعات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا ہے ۔مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ ، اباضیہ کے حوالے سے بھی ایسے ہی مضامین تحریر کر چکے ہیں ۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

ہفته, 09 نومبر 2019 08:32



 
سید اسد عباس

اسماعیلیہ بھی دیگر شیعہ مسالک کی طرح امام علیؑ کو امامِ منصوص مانتے ہی وہ شیعہ اثنا عشریہ کے پہلے چھ اماموں کی امت کے قائل ہیں؛ بعدازاں وہ امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے۔ گذشتہ قسط میں جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کی تاریخ، فرقوں اور ان کے بنیادی اعتقادات کا اجمالی جائزہ پیش کیا تھا۔ زیر نظر مقالے میں معاصر اسماعیلی فرقوں؛ آغا خانیوں اور بوہروں کی آبادی اور ان کے عقائد و نظریات کا اختصار سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آئندہ دروزیہ کے عقائد و نظریات کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔ مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ، اباضیہ اور نور بخشی فرقہ کے حوالے سے بھی ایسے مضامین تحریر کر چکے ہیں۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

منگل, 26 فروری 2019 12:00



مفتی امجد عباس

سنی و شیعہ مصادر میں اِس مضمون کی ایک روایت وارد ہوئی ہے “لا تنزلوا النساء بالغرف ولا تعلموهن الكتابة” کہ عورتوں کو بالا خانوں میں نہ بیٹھنے دیا کرو اور اُنھیں لکھنا نہ سکھاؤ۔ اِن جملوں کے علاوہ بعض مقامات پر ساتھ یہ بھی ہے کہ اُنھیں “کڑھائی/ کپڑا بننا” سکھاؤ، سورہ نور کی تعلیم دو، سورہ یوسف نہ پڑھاؤ۔ شیعہ کتب میں یہ روایت معمولی سی تبدیلی کے ساتھ نبی کریم اور امام علی سے الکافی اور تہذیب الاحکام میں مذکور ہے جبکہ سُنی کتب میں یہ روایت حضرت عائشہ کی زبانی، نبی کریم سے معجم الاوسط للطبرانی، مستدرکِ حاکم۔۔۔